Thursday, 26 March 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Masnoi Zahanat: Maholiyati Baqa Ki Nai Umeed

Masnoi Zahanat: Maholiyati Baqa Ki Nai Umeed

گزشتہ چند برس سے موسموں کا مزاج تیزی سے بدل رہا ہے۔ کہیں بن مانگی بارشیں بستیوں کی بستیاں بہا لے جاتی ہیں تو کہیں سورج کی تمازت مٹی کا سینہ چاک کر دیتی ہے۔ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک گلوبل وارمنگ میں محض ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود اس کے بدترین اثرات جھیل رہا ہے۔ یہ صورتحال محض "موسمی تبدیلی" نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں جہاں روایتی طریقے ناکام نظر آ رہے ہیں وہاں "مصنوعی ذہانت" یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس مسیحا بن کر ہماری مدد کر سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی محض کمپیوٹر پروگرامنگ کا نام نہیں بلکہ یہ ڈیٹا کے اس سمندر کو سمجھنے کی صلاحیت ہے جسے انسانی دماغ شاید برسوں میں بھی حل نہ کر سکے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں اے آئی کا سب سے بڑا ہتھیار "پیشن گوئی" ہے۔ ماضی میں ہمارے پاس سیلاب یا خشک سالی کا اندازہ لگانے کے لیے وسائل بہت محدود تھے لیکن اب اے آئی کے الگورتھمز سیٹلائٹ کی تصاویر اور زمین کے درجہ حرارت کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے ہفتوں پہلے بتا سکتے ہیں کہ کہاں سے کتنا بڑا خطرہ ہماری جانب بڑھ رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اے آئی کی مدد سے قدرتی آفات کی بروقت اطلاع دینے سے جانی و مالی نقصان میں 30 سے 40 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو آج بھی زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہی شعبہ موسمی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ یہاں "سمارٹ فارمنگ" کا تصور اے آئی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کسان اب ایسے سینسرز استعمال کر سکتے ہیں جو مٹی کی نمی اور فصل کی صحت کا ڈیٹا اے آئی سسٹم کو بھیجتے ہیں۔ یہ سسٹم کسان کو بتاتا ہے کہ اسے کتنا پانی اور کتنی کھاد استعمال کرنی ہے۔ اس سے نہ صرف پانی جیسے قیمتی اثاثے کی بچت ہوتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

اگر ہم اے آئی پر مبنی زرعی پالیسی اپنائیں تو زرعی نقصانات کو 25 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے جو کہ ہماری معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں ایک اہم پہلو توانائی کا شعبہ ہے۔ کوئلے اور تیل کا دھواں زمین کا "بخار" بڑھا رہا ہے۔ اے آئی کا کمال یہ ہے کہ یہ شمسی اور ہوائی توانائی کے استعمال کو بہتر بناتا ہے۔ چونکہ سورج اور ہوا کا رخ بدلتا رہتا ہے اس لیے اے آئی سسٹم گرڈ اسٹیشنز کو یہ بتانے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ کس وقت کتنی بجلی ذخیرہ کرنی ہے اور اسے کہاں بھیجنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی سطح پر بجلی کے نظام کو اے آئی کے سپرد کر دیا جائے تو کاربن کے اخراج میں 10 سے 15 فیصد تک فوری کمی ممکن ہے۔

اسی طرح جنگلات کی کٹائی روکنا بھی ماحولیاتی جنگ کا ایک بڑا مورچہ ہے۔ ایمیزون کے گھنے جنگلات ہوں یا پاکستان کے شمالی علاقہ جات ہوں ہر جگہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی ایک ناسور بن چکی ہے۔ اب ایسے "سمارٹ ساونڈ سینسرز" تیار کر لیے گئے ہیں جو اے آئی کی مدد سے درخت کاٹنے والی مشینوں یا کلہاڑیوں کی آواز میلوں دور سے پہچان لیتے ہیں اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو الرٹ بھیج دیتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی "زمین کے پھیپھڑوں" کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ دوسری جانب جہاں اے آئی اتنے فوائد دے رہی ہے وہاں اس کے استعمال میں ایک چیلنج بھی ہے۔

اے آئی کے بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز خود بھی بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں اور حرارت پیدا کرتے ہیں جس پر عالمی سطح پر گفتگو شروع ہو چکی ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ایسی "گرین اے آئی" پر کام ہو رہا ہے جو خود اپنی بجلی کی کھپت کو کم سے کم رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں پہلے ہی اپنے ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہی ہیں جس سے ان کی بجلی کی کھپت میں 40 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ مستقبل کی طرف دیکھیں تو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اب عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں وسائل کی کمی ہے وہاں اے آئی کا درست استعمال ہمیں کم خرچ میں بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی پالیسیوں میں ٹیکنالوجی کے ماہرین کو شامل کرے، یونیورسٹیوں میں ایسے ریسرچ سینٹرز بنائے جائیں جو مقامی ڈیٹا کی بنیاد پر ماحولیاتی ماڈلز تیار کریں اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ ماحول دوست ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں۔ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی شدید گرمی اور سیلاب دونوں کے امکانات موجود ہیں۔ یہ موسمی تبدیلیوں کا واضح اعلان ہے لیکن ہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بروقت ایسے اقدامات کر سکتے ہیں کہ ان تبدیلیوں کے نقصان کو کم کیا جا سکے اور پھر بتدریج ان تبدیلیوں کو درست سمت میں لایا جا سکے یاد رہے کہ ٹیکنالوجی صرف ایک آلہ ہے۔

یہ ہمیں راستہ تو دکھا سکتی ہے لیکن چلنا ہمیں خود پڑے گا۔ اے آئی ہمیں یہ تو بتا دے گی کہ گلیشیر پگھل رہے ہیں اور سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے لیکن ان گلیشیرز کو بچانے کے لیے ہمیں اپنا طرز زندگی بدلنا ہوگا، شجرکاری کرنا ہوگی اور فضائی آلودگی کم کرنا ہوگی۔ اگر ہم نے آج جدید سائنس اور انسانی عزم کو یکجا کرکے اہم اقدامات کر لیے تو شاید ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک ایسی زمین دے سکیں جو رہنے کے قابل ہو ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔