مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں سفارت کاری، عسکری حکمتِ عملی، توانائی کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوچکے ہیں کہ کسی ایک پیش رفت کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی فضا اسی بڑی تبدیلی کا ابتدائی مظہر محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے مابین مکمل اور جامع معاہدہ ابھی فاصلے پر دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ حقیقت اب عالمی سیاسی حلقوں میں تسلیم کی جا رہی ہے کہ کشیدگی کی طویل دہائیوں کے بعد باہمی رابطوں، خفیہ سفارت کاری اور تدریجی اعتماد سازی نے ایک نئی راہ ہموار کردی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خلیج کی سیاست میں ایک نئی حرکت پیدا کی ہے بلکہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے باہمی تعلقات کو بھی نئی جہت عطا کی ہے۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر مستقل طور پر کشیدگی سے محفوظ ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کی معیشت، توانائی منڈیوں اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو تیل و گیس کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ایسی مفاہمت سے براہِ راست معاشی ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی نہ صرف صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دے گی بلکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں امن کی ہر سنجیدہ کوشش کو محض سیاسی واقعہ نہیں بلکہ معاشی استحکام کے ایک ممکنہ دروازے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم بین الاقوامی سیاست کبھی یک رُخی نہیں ہوتی۔ ہر بڑی مفاہمت کے سائے میں کچھ ایسی قوتیں بھی متحرک ہوتی ہیں جن کے مفادات کشیدگی، خوف اور عدم استحکام سے وابستہ ہوتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بعض حلقے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کو اپنے طویل المدتی علاقائی منصوبوں کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی قیادت ایک ایسے خطے کو اپنے لیے زیادہ موزوں تصور کرتی ہے جہاں عرب اور مسلم دنیا مسلسل داخلی اختلافات اور جغرافیائی تقسیم کا شکار رہے، جبکہ بھارت بھی خطے میں ایسے کسی مضبوط تزویراتی اتحاد کو پسند نہیں کرے گا جو پاکستان کے سفارتی وزن میں اضافہ کرے۔ یہی سبب ہے کہ خطے کی نئی صف بندیوں کو محض دو ممالک کے تعلقات کی بہتری نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کیلئے یہ مرحلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے شدید معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور داخلی انتشار کا سامنا کیا، لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود بعض سفارتی حلقوں میں پاکستان کی حیثیت ایک ایسے ملک کے طور پر ابھری ہے جو متحارب قوتوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ چین، سعودی عرب، ترکی، ایران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات رکھنے کی صلاحیت پاکستان کو ایک منفرد سفارتی مقام فراہم کرتی ہے۔ اگر اسلام آباد اس موقع کو داخلی استحکام، معاشی اصلاحات اور متوازن خارجہ پالیسی کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ پیش رفت پاکستان کیلئے محض وقتی سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی تزویراتی سرمایہ ثابت ہوسکتی ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نئی صف بندیوں کی بنیاد کئی برس قبل پڑ چکی تھی۔ ترکی، ایران، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین دفاعی اور انٹیلی جنس سطح پر بڑھتے ہوئے روابط دراصل اسی احساس کا نتیجہ تھے کہ خطے کو بیرونی مداخلت، فرقہ وارانہ تقسیم اور معاشی عدم استحکام سے نکالنے کیلئے مسلم دنیا کے اہم ممالک کو کسی نہ کسی درجے میں باہمی تعاون کی راہ اپنانا ہوگی۔ آج اگر خطے میں ایک نئے سفارتی بیانیے کی تشکیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے تو اس کے پیچھے برسوں کی خاموش سفارت کاری، خفیہ مشاورت اور تدریجی اعتماد سازی کارفرما ہے۔
لیکن اس سارے منظرنامے میں پاکستان کیلئے اصل امتحان داخلی سطح پر ہے۔ کوئی بھی ملک بیرونی محاذ پر اسی وقت مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے جب اس کے اندر سیاسی ہم آہنگی، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی توازن موجود ہو۔ اگر داخلی سیاست الزام تراشی، افواہوں اور اقتدار کی بے یقینی میں الجھی رہے تو بڑی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثمرات پیدا نہیں کرتیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور اپوزیشن قومی مفادات کے بعض بنیادی نکات پر کم از کم اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ دنیا ان ممالک کو زیادہ سنجیدگی سے لیتی ہے جو داخلی طور پر مستحکم اور پالیسی کے اعتبار سے واضح ہوں۔
مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب ابھی ادھورا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ آج بھی مسلم دنیا کے ضمیر پر ایک گہرا سوال بنا ہوا ہے۔ جب تک بیت المقدس، غزہ اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کا منصفانہ حل سامنے نہیں آتا، خطے میں مکمل امن کی امید حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے تنازعات کا حل ہمیشہ تدریجی سفارت کاری، علاقائی تعاون اور اعتماد سازی سے ہی نکلتا ہے۔ اگر مسلم دنیا کے اہم ممالک اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری اسلامی دنیا کیلئے ایک نئے سیاسی و معاشی دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ آج کی مفاہمت شاید آخری منزل نہیں، لیکن یہ یقیناً ایک ایسے سفر کا پہلا سنگِ میل ہے جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔