پٹواری بنیادی طور پر ہندی زبان سے ماخوذ لفظ ہے، جس کے معنی ہیں "گاؤں کا حساب رکھنے والا" برصغیر میں یہ عہدہ اپنی تاریخ رکھتا ہے، برصغیر کے زرعی اور مالکانہ نظام کا ایک انتہائی اہم اور قدیم حصہ ہے، شیر شاہ سوری، مغل حکمرانوں اور افغان سرداروں کے ادوا ہی س اس کا کردار کلیدی رہا ہے، زمین کے ریکارڈ رکھنے سے لے کر خسرہ، انتقال ملکیت تک کی ذمہ داری اس ناتواں کے کندھے پررہی ہے، ہر چند عہد جدید میں زمینوں کا ریاستی نظام ڈیجیٹل ہوتا جارہا ہے پھر بھی اسکی اہمیت مسلمہ ہے۔
ہماری دھرتی پر جو پٹوار خانہ کا نظام ہے یہ برطانوی سامراج سے مستعار لیا ہوا ہے، جسکی بنیاد 1870 میں رکھی گئی، اس کے تحت زمینوں کی پیمائش اور مالیہ کی وصولی کا نظام وضع کیا گیا، پٹواری فصلوں کی رپورٹ تیار کرنے اور لگان کا ریکارڈ رکھنے کا بھی ذمہ دار تھا، برطانوی عہد میں اسکے علاوہ جو عہدہ جات دیہی کلچر میں معروف تھے، وہ لمبڑ دار اور ذیل دار بھی تھے، پٹواری کی طرح یہ سرکاری ملازم تو نہ تھے مگر محکمہ مال کے کارندے سمجھے جاتے ہیں، آبیانہ، مالیہ کسانوں سے اکھٹا کرنا اور اسے سرکار کے خزانہ میں جمع کروانا انکی ذمہ داری ہے۔
برطانوی عہد ہی سے دیہی علاقہ جات میں آنے والے سرکاری مہمانوں کی میزبانی کا اہتمام کرنا بھی بذمہ پٹواری ہے، یہ خدمت اپنی جیب سے وہ انجام نہیں دیتا بلکہ اسکی ادائیگی نمبر دار یا ذیل دار اس زمین کی آمدن سے کرتا ہے جو سرکار نے نمبر داری یا گھوڑی پال سکیم کے تحت نام سے زمین مختص کی جو لمبڑ یا ذیل دار کے زیر تسلط ہوتی، نسل در نسل یہ از خود منتقل ہوتی ہے، گاؤں یا دیہہ میں کوئی واردات ہو جائے تو اسکی اطلاع تھانے میں کرنا بھی پٹواری کے ذمہ ہوتا ہے، اسی طرح اہل دہیہ کی خدمت کے لئے کچھ پیشہ ور لوگوں کو دیہات میں احاطے دیئے گئے، جس میں پٹواری کا احاطہ بھی شامل ہے، بعض دیہاتوں میں پٹواری بھی فصل آنے پر اپنا حصہ وصول کرتے، مگر یہ تذکرہ ان دنوں کا ہے جب پٹواری بہت سادہ اور نیک دل ہوا کرتے، اب انکا شمار ان ملازمین میں ہونے لگا ہے، جنہیں اپنی تنخواہ کی کوئی حاجت نہیں رہتی، وہ "پبلک ڈیلنگ" کا حصہ ہوتے ہوئے، مال کو جمع کرتے ہیں، جو انکی زبان میں ہذا من فضل ربی ہے۔
سندھ کے پٹواری کی درخواست سوشل میڈیا کی وساطت سے نظروں سے گزری ہے جس نے بطور نائب تحصیل دار ترقی پا کر بھی تنزلی کا راستہ اختیار کیا، گریڈ 16 کی بجائے سکیل 9 میں دوبارہ پٹواری بن کر کام کرنے کی درینہ خواہش کا اظہار کیا، سکھر ڈویژن کے ذمہ داران نے شاہی فرمان جاری بھی کر دیا ہے، حکم نامہ اسکی وجہ نہیں بتائی گئی، چاچڑ فیملی کے چشم و چراغ نے اپنے عہدہ کی وساطت سے ساری حیاتی سیم وزر کے دریا میں غوطہ زن رہے نئے عہدہ میں مگر مالی آسودگی میسر نہ رہی رہیں تو برملا پکار اٹھے موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ملک بھر کے پٹواری ایک جیسا "طریقہ واردات" اور مزاج رکھتے ہیں۔
80کی دہائی سے غیر جماعتی انتخابات کے بعد قومی اداروں میں سیاسی مداخلت بڑھی ہے، اس عہدہ پر برا جمان افراد نے کھل کر کھیلنے کا فیصلہ کیا، بابا قوم کی اس ریاست سے جس طرح "پٹواری" نے کھلواڑ کیا ہے یہ "سعادت" دوسرے محکمہ جات کے ملازمین کے حصہ میں بہت کم آئی ہے، اس دھرتی پر بے نام قطعہ اراضی ایسا نہیں بچا جس پر اس نے از خود ہاتھ صاف نہ کیا ہو یا بااثرافراد کے نام منتقل کرنے میں انکی بھر پورمعاونت نہ کی ہو۔
تاج برطانیہ نے طویل المعیاد منصوبہ بندی کے تحت دیہی علاقہ جات میں عطیہ داروں کی آنے والی نسلوں کے لئے شاملاٹ اور چراگاہ کے تحت زمین خالی چھوڑی تھی، اس طرح نائی، لوہار، امام مسجد، ترکھان، موچی، بڑھی وغیرہ کے خاندانوں کے لئے زمین برائے رہائش مختص کی تاکہ کسانوں کی خدمت انجام دینے والے اپنے کنبہ کے ساتھ رہ سکیں، جنوبی پنجاب کے قریباً سارے دیہاتوں میں مذکورہ زمین یا احاطے سیاسی بااثر افراد نے پٹواری کی ملی بھگت سے اپنے نام کروالئے ہیں، تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق مذکورہ پیشہ جات سے منسلک زیادہ ترافراد اور انکی اولادیں شہروں میں ہجرت کرچکی ہیں، پٹواری جیسے مہرہ نے تاج برطانیہ کی شاندار پالیسی کو بھی مات دے دی ہے، ایسا ہی ناروا سلوک اس نے شاملاٹ اور چراگاہ کی زمینوں کے ساتھ کیا، سیاسی خانوادوں کے دست شفقت کے بغیر اراضی ریکارڈ میں ردو بدل ممکن ہی نہ تھا، افسر شاہی زمینوں کے ریکارڈ اور قانونی معاملات پر عبور نہیں رکھتی، انہیں تحصیل داروں اور پٹواریوں سے کام سیکھنا پڑتا ہے، اس لا علمی سے بھی پٹواریوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔
شہروں میں تعینات پٹواریوں پر قبضہ مافیاز کا دست شفقت ہے، زمین کے ریکارڈ کی تبدیلی ان کا محبوب مشغلہ ہے، قیام پاکستان سے قبل کپڑے کا جو نقشہ محکمہ مال میں موجود ہے وہ مستند ہے، معروف بیورو کریٹ محترم نسیم صادق نے ایسے نقشہ کو بنیاد بنا کر ملتان گھنٹہ گھر کے گردونواع قبضہ مافیاز سے سرکاری زمین واگزار کروائی تو بہت سے چہرے بے نقاب ہوئے، سرکاری اراضی پر طویل مدت سے قابض تھے، مستند نقشہ جات کو بنیاد بنا کر ناجائز قابضین کا خاتمہ ملک بھر سے کیا جا سکتا ہے۔
پنکی، ایان علی جیسی صنف نازک سمگلنگ اور منشیات فروشی کا پرخطر راستہ چننے کی بجائے کسی حلقہ میں پٹواری کے عہدہ پر فائز ہوتیں تو سیاسی شخصیات انکی مداح ہوتیں رسوائی سے بھی وہ بچ جاتیں، تکنیکی اعتبار سے سرکاری اراضی کے ریکارڈ میں تبدیلی کا ملکہ جو پٹواری کو حاصل ہے، پرتگال کے پٹواری بھی ان کے ہم عصر لگتے ہیں جنہوں نے ہماری افسر شاہی کوپرتگال میں جائیدادوں کی خریدداری کے لئے سہولت کاری کا فریضہ انجام دیا ہے۔
گمان ہے ایف بی آر آمدن سے زائد اثاثوں کی چھان بین کرے تو سب سے زیادہ اثاثہ جات انکے ہوں گے، اگر کسی کو استثناء ہے تو اس پیچھے سرکار کا ڈر نہیں خوف خدا ہوگا، جس ریاست میں فوڈ انسپکٹر کو 2 ارب کی بدعنوانی پر صرف معطل کیا جائے وہاں نائب تحصیل دار کا دوبارہ پٹواری بننے کا شوق ہماری بیڈ گوورننس کو عیاں کرتا ہے، جس ریاست میں روزانہ کی بنیاد پربلا خوف و خطر کئی ارب کی کرپشن اور مالی سکینڈل کی داستانیں ہوں، جید پردہ نشیوں کے نام ہوں اور اس پر خاموشی بھی معنی خیز ہو، ایسی ریاست کی اعلی ترین ہستی جب یہ بیان دے کہ میں نے اپنے بچوں کو ایک لقمہ بھی حرام کا نہیں کھلایا تو نجانے کیوں ہمارا پنجابی والا ہاسہ نکل جاتا ہے۔