Thursday, 12 March 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Ai Ki Sard Jang, America China Madd e Muqabil

Ai Ki Sard Jang, America China Madd e Muqabil

دنیا اس وقت نئی عالمی دوڑ کے درمیان کھڑی ہے۔ یہ دوڑ نہ تو ایٹمی ہتھیاروں کی ہے اور نہ ہی روایتی فوجی طاقت کی بلکہ یہ مقابلہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کا ہے۔ اس میدان میں بنیادی طور پر دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں جن میں سے ایک امریکا اور دوسری طاقت چین ہے۔

گزشتہ چند برس میں مصنوعی ذہانت نے معیشت، صنعت، دفاع، تعلیم اور روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اسے مستقبل کی سب سے اہم ٹیکنالوجی سمجھ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس ملک نے مصنوعی ذہانت میں برتری حاصل کر لی وہ آئندہ کئی دہائیوں تک عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی قیادت کر سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا اس میدان میں نسبتاً پہلے داخل ہوا اور اسے اب بھی تکنیکی برتری حاصل ہے۔ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مثلاً اوپن اے آئی، مائیکرو سافٹ اور این ویڈیا اسی ملک میں قائم ہیں۔ یہ کمپنیاں جدید مصنوعی ذہانت کے نظام، بڑے لینگوئج ماڈل اور جدید کمپیوٹر چپس تیار کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر این ویڈیا کے بنائے گئے گرافکس پروسیسر چپس اس وقت دنیا کے زیادہ تر اے آئی سسٹم کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف 2024 اور 2025 کے دوران امریکا کی بڑی ٹیک کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور ترقی پر ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ خرچ کیا ہے۔

اسی طرح دنیا کے بڑے تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیاں بھی امریکا میں موجود ہیں جہاں ہزاروں سائنسدان اور انجینئر اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس چین نے قدرے تاخیر سے اس میدان میں قدم رکھا مگر اب اس کی رفتار حیران کن حد تک تیز ہو چکی ہے۔ چین کی حکومت نے مصنوعی ذہانت کو قومی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے اور اسے معیشت کی آئندہ ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔

چین کے حالیہ پانچ سالہ منصوبے میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صنعت، تعلیم، صحت اور شہری نظم و نسق کے ہر شعبے میں استعمال کیا جائے گا۔ چین کی بڑی ٹیک کمپنیوں میں Alibaba، Baidu اور Tencent شامل ہیں جو اربوں ڈالر اس شعبے پر خرچ کر رہی ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق چین کی حکومت اور نجی کمپنیاں مل کر آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کھربوں یوآن سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا چکی ہیں۔

اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو مقابلہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ تحقیقی اداروں کے مطابق دنیا بھر میں شائع ہونے والے مصنوعی ذہانت کے تحقیقی مقالوں میں چین کا حصہ تقریباً تیس فیصد تک پہنچ چکا ہے جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف امریکا اب بھی جدید ماڈل، سافٹ ویئر اور اعلیٰ معیار کے تحقیقی منصوبوں میں آگے ہے۔ عالمی منڈی میں مصنوعی ذہانت کی مجموعی مالیت 2030 تک ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کرنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک اسے صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی طاقت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے میدان میں مقابلے کا ایک اہم پہلو کمپیوٹر چپس بھی ہیں۔ جدید اے آئی سسٹمز کو چلانے کے لیے انتہائی طاقتور چپس درکار ہوتی ہیں۔ اس شعبے میں امریکا کو واضح برتری حاصل ہے کیونکہ دنیا کی بڑی چپ ڈیزائن کمپنیوں میں این ویڈیا اور دیگر امریکی ادارے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں میں چین کو جدید چپس کی فراہمی پر بعض پابندیاں بھی عائد کی ہیں تاکہ وہ اس میدان میں تیزی سے آگے نہ بڑھ سکے۔ تاہم چین بھی اپنے مقامی چپ پروگرام پر تیزی سے کام کر رہا ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کم سے کم ہو جائے۔

چین کی ایک اور بڑی طاقت اس کی آبادی اور ڈیٹا ہے۔ چونکہ چین کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ ہے اس لیے وہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور موبائل ایپلی کیشنز سے بے شمار معلومات جمع ہوتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو بہتر بنانے کے لیے یہی ڈیٹا بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ چینی حکومت نے اسی فائدے کو استعمال کرتے ہوئے اسمارٹ سٹی، فیشل ریکگنیشن یعنی چہرہ شناخت کرنے والے کیمروں اور شہری نگرانی کے نظام بھی متعارف کرائے ہیں۔ بعض شہروں میں لاکھوں کیمرے نصب ہیں جو ٹریفک کنٹرول، سیکیورٹی اور جرائم کی روک تھام کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

صحت کے شعبے میں بھی چین مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ کئی ہسپتالوں میں ایسے نظام متعارف ہو چکے ہیں جو ایکسرے اور ایم آر آئی تصاویر کا تجزیہ کرکے ڈاکٹروں کو تشخیص میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کو نصاب کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسل ٹیکنالوجی کے اس دور کے لیے تیار ہو سکے۔ چین کی حکومت کا ہدف ہے کہ آنے والے برسوں میں لاکھوں انجینئر اور سائنسدان اس شعبے میں تربیت حاصل کریں۔

امریکا اور چین کے درمیان یہ مقابلہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی ان کے ہاتھ میں ہو کیونکہ اس کا اثر عالمی تجارت، دفاعی نظام اور ڈیجیٹل معیشت پر پڑے گا۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین اسے اکیسویں صدی کی نئی ٹیکنالوجی سرد جنگ بھی قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقابلے کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر الگ بھی نہیں ہو سکتے۔ عالمی سپلائی چین اور تحقیق کا نظام اس قدر جڑا ہوا ہے کہ مکمل علیحدگی ممکن نہیں۔

اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ برسوں میں مقابلے کے ساتھ ساتھ محدود تعاون بھی جاری رہے گا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت آنے والی دہائیوں کی سب سے اہم ٹیکنالوجی بننے جا رہی ہے۔ امریکا اس وقت جدید ماڈل، چپس اور کمپنیوں کے باعث آگے دکھائی دیتا ہے جبکہ چین بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، ڈیٹا اور حکومتی منصوبہ بندی کی وجہ سے تیزی سے یہ فاصلے کم کر رہا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو ممکن ہے کہ آنے والے دس پندرہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی عالمی قیادت انہی دو طاقتوں کے درمیان طے ہو۔ پاکستان سمیت دنیا کے باقی ممالک کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اس دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں کیونکہ مستقبل کی معیشت اور ترقی کا راستہ اب بڑی حد تک مصنوعی ذہانت سے ہو کر گزرتا ہے۔