ہماری سوسائٹی میں "نہیں" صرف ایک لفظ نہیں، ایک جرم ہے۔ ایسا جرم جس کی سزا قانون نہیں، لوگ سناتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں قتل سے زیادہ خطرناک چیز "انکار" سمجھا جاتا ہے۔ یہاں "نہیں" تب تک مہذب رہتی ہے جب تک وہ کمزور کی زبان سے اپنی خواہش کے قتل کے حق میں نکلے۔ غریب سے کہا جاتا ہے کہ حالات سے سمجھوتہ کرو۔ طالب علم سے کہا جاتا ہے۔ سوال کم، اطاعت زیادہ کرواور عورت کو سمجھایا جاتا ہے کہ سب سے بڑی خوبی برداشت ہے۔
یعنی اس معاشرے میں "نہیں" صرف طاقتور کا استحقاق ہے۔ کمزور اگر انکار کر دے تو اسے فوراً کردار، تربیت، اخلاق اور خاندان کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ ہم عجیب لوگ ہیں۔ ہم جمہوریت کے حق میں نعرے لگاتے ہیں، مگر اپنے گھروں میں چھوٹے چھوٹے مارشل لا نافذ رکھتے ہیں۔ ہر شخص آزادیِ اظہار کا حامی ہے۔ بشرطیکہ اظہار اُس کی مرضی کے مطابق ہو۔ آپ اختلاف کرکے دیکھیے۔ لوگ دلائل نہیں، اپنی آوازیں اونچی کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگوں کے پاس برداشت کم اور انا زیادہ ہوتی ہے۔ ہم بچوں کو بولنا تو سکھاتے ہیں، مگر انکار کرنا نہیں۔
ہم انہیں ادب سکھاتے ہیں مگر اپنی حد مقرر کرنے کا حق نہیں دیتے۔ ہم انہیں "جی سر" سکھاتے ہیں، "نہیں سر" نہیں۔ استاد کلاس میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے طالب علم کی ذہنی کیفیت نہیں۔ ہوم ورک چیک کرتا ہے۔ بچہ شاید پوری رات گھر کے جھگڑوں میں جاگتا رہا ہو۔ شاید اس کی ماں بیمار ہو شاید اس کے اندر کوئی خاموش جنگ چل رہی ہو، مگر ہمارے تعلیمی نظام کو صرف یہ فکر ہوتی ہے کہ کاپی مکمل کیوں نہیں اور اگر بچہ دھیمی آواز میں کہہ دے۔ طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ تو فوراً جواب آتا ہے۔ ہمیں بہانے نہیں چاہئیں۔ گویا سکول نہیں، عدالت ہو۔ جہاں ہر طالب علم پہلے سے مجرم ہے اور ہر وضاحت جھوٹ۔
ہماری تربیت کا المیہ یہی ہے کہ ہم انسان سے پہلے کارکردگی دیکھتے ہیں۔ ہمیں جذبات سے زیادہ نتائج عزیز ہیں۔ ہم روحوں سے زیادہ رپورٹ کارڈ سنبھالتے ہیں۔ پھر یہی بچے بڑے ہو کر اپنی پسند کے مضمون بھی نہیں چن پاتے۔ کوئی مصور بننا چاہتی ہے تو اس کے ہاتھ میں سلائی پکڑا دی جاتی ہے۔
کوئی لڑکا رو دے تو کہا جاتا ہے۔ مرد روتے نہیں اور کوئی لڑکی اپنی رائے دے تو فوراً یاد دلایا جاتا ہے۔ عورت کو زیادہ بولنا زیب نہیں دیتا۔ یوں ہم آہستہ آہستہ انسان نہیں۔ کردار تیار کرتے ہیں۔ ایسے کردار جو ساری زندگی دوسروں کی لکھی ہوئی اسکرپٹ پر چلتے رہتے ہیں۔ یہاں ایک عجیب سا سماجی معیار بھی رائج ہے۔ عورت کے لئے "عورت ہونا" بھی ایک امتحان ہے۔ وہ جلد بوڑھی ہو جائے تو مسئلہ، وہ اپنی پسند کے کپڑے پہن لے تو اعتراض، وہ خود کو سنوار لے تو "نمائش" اور اگر نہ سنوارے تو "لاپرواہ"۔ گویا عورت کے لئے ہر راستہ غلطی کی طرف جاتا ہے۔
دوسری طرف مرد اگر "مٹی کا مادھو" بھی ہو تو بھی وہ مرد ہی رہتا ہے۔ کیونکہ یہاں مرد ہونا کوئی معیار نہیں۔ ایک خودکار استحقاق ہے۔ مرد کے لئے ناکامی بھی معاف ہے اور خاموشی بھی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ عورت کو ہر حالت میں justify کرنا پڑتا ہے اور مرد کو کسی حالت میں explain نہیں کرنا پڑتا۔ ہمارے ہاں رشتے بھی محبت سے کم اور سماجی معاہدوں سے زیادہ طے ہوتے ہیں۔ لڑکی سے پوچھا جاتا ہے۔ بیٹا، کوئی اعتراض تو نہیں، مگر سوال پوچھنے والوں کے چہرے ایسے ہوتے ہیں جیسے "نہیں" کہنا خاندانی نظام کے خلاف بغاوت ہو۔ اگر وہ خاموش رہے تو "سمجھدار"۔ اگر مسکرا دے تو "راضی" اور اگر واقعی "نہیں" کہہ دے تو اس کی تربیت میں مسئلہ ہے۔
اصل مسئلہ تربیت کا نہیں، ملکیت کے احساس کا ہے۔ ہمارا معاشرہ محبت کم کرتا ہے۔ قبضہ زیادہ کرتا ہے۔ یہاں لوگ تعلق نہیں چاہتے۔ اختیار چاہتے ہیں۔ خاص طور پر عورت کے معاملے میں۔ سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب ایک عورت "نہیں" کہتی ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے کا مرد محبت میں ناکامی برداشت کر لیتا ہے، مگر اَنا میں شکست نہیں۔ جب عورت ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے۔ تو مرد سنتا ہے۔ تم ناکام ہو گئے ہو اور پھر انا، محبت کی لاش پر کھڑی ہو جاتی ہے۔ روز خبریں آتی ہیں۔
کسی لڑکی نے دوستی سے انکار کیا۔ اس پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ کسی نے شادی سے انکار کیا۔ اسے گولی مار دی گئی۔ کسی نے اپنی مرضی سے جینے کی کوشش کی۔ اسے غیرت کے نام پر دفنا دیا گیا اور پھر ہم ٹی وی سکرینز پر بیٹھ کر افسوس کرتے ہیں کہ معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہوگیا ہے۔ معاشرہ عدم برداشت کا شکار نہیں ہوا۔ ہم نے لوگوں کو برداشت سکھائی ہی نہیں۔ ہم نے صرف حکم ماننا سکھایا، حکم سننا نہیں۔ ہم نے صرف خواہش کرنا سکھایا۔ انکار قبول کرنا نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اب ہمارے درمیان صرف غصے والے لوگ نہیں۔ چلتے پھرتے بارود گھوم رہے ہیں۔ ایسے لوگ جن کے اندر ناپسندیدگی برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ وہ معمول کے کپڑے پہنتے ہیں۔ عام لوگوں کی طرح بازاروں میں چلتے ہیں۔ ہنستے بولتے ہیں مگر اندر سے بارودی سرنگیں ہوتے ہیں۔ صرف ایک "نہیں"اور وہ پھٹ جاتے ہیں۔
پھر خبروں میں لکھا جاتا ہے۔ معمولی تلخ کلامی پر فائرنگ۔ رشتے سے انکار پر قتل۔ غصے میں آ کر تشدد۔ گویا انسان نہیں پھٹا۔ اس کی انا ٹوٹ گئی تھی۔ یہ لوگ دراصل انسانی بارودی سرنگیں ہیں۔ جن پر قدم رکھتے ہی صرف ایک فرد نہیں مرتا۔ پورا سماجی اعتماد زخمی ہو جاتا ہے۔ ہمیں اب صرف سڑکوں سے اسلحہ نہیں اٹھانا۔ ذہنوں سے بارود بھی نکالنا ہوگا۔ کیونکہ جہاں تربیت ختم ہو جائے وہاں انا مذہب بن جاتی ہے اور جہاں برداشت مر جائے وہاں انسان ہتھیار بن جاتا ہے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ جس طرح کالجز اور یونیورسٹیز میں کاؤنسلنگ سینٹرز بن رہے ہیں۔ ویسے ہی ہر سطح پر انسانی تربیت کے مراکز قائم کیے جائیں۔ جہاں بچوں کو صرف نصاب نہیں، مزاج بھی سکھایا جائے۔ جہاں نوجوانوں کو صرف کامیابی نہیں، ناکامی برداشت کرنا بھی سکھایا جائے۔ جہاں مردوں کو صرف طاقت نہیں۔ انکار قبول کرنا بھی سکھایا جائے۔ کیونکہ ایک معاشرہ صرف ڈگریوں سے مہذب نہیں ہوتا۔
برداشت، رواداری اور احترام وہ مضامین ہیں جن میں فیل ہو کر قومیں خطرناک ہو جاتی ہیں اور شاید ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں لوگ قتل کے بعد معافی مانگ لیتے ہیں، مگر انکار کے بعد احترام نہیں دیتے۔ اس لئے آج بھی اس معاشرے میں سب کچھ بولنے کی اجازت ہے۔ سوائے "نہیں" کے۔ آخر میں شاید سب سے تلخ حقیقت یہی ہے۔ اس معاشرے میں مسئلہ "نہیں" نہیں۔ مسئلہ وہ رویے ہیں جو "نہیں" سننے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔