Thursday, 16 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Saadia Bashir
  4. Kabar Bechne Wali Qaum

Kabar Bechne Wali Qaum

کہتے ہیں ایک بادشاہ نے اپنے درباریوں کو سبق دینے کے لیے برف کی ایک بڑی سل منگوائی۔ حکم ہوا کہ اسے ایک درباری سے دوسرے درباری کے ہاتھوں گزارتے ہوئے تخت تک پہنچایا جائے۔ جب برف کی وہ سل آخرکار بادشاہ کے ہاتھ میں پہنچی تو اس کا بیشتر حصہ پگھل چکا تھا اور ہاتھ میں صرف تھوڑا سا پانی رہ گیا تھا۔ بادشاہ نے مسکرا کر کہا، "ریاست کے معاملات بھی میرے پاس اسی طرح پہنچتے ہیں۔ حقیقت راستے ہی میں پگھل جاتی ہے۔ میرے پاس صرف اتنی خبر آتی ہے جتنی میرے اردگرد کے لوگ آنے دیتے ہیں"۔

صدیاں گزر گئیں، مگر لگتا ہے ہمارے نظام میں اب بھی برف کی وہ سل مسلسل پگھل رہی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ریڑھی والے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ وہ رو رہا تھا۔ اس کے آنسو اس کی ذاتی محرومی کا نوحہ نہیں تھے۔ بلکہ ایک پورے انتظامی نظام پر فردِ جرم تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ میونسپل کارپوریشن کے اہلکار آئے، اس کی ریڑھی اٹھا کر سڑک پر دے ماری۔ سامان ادھر اُدھر بکھیر دیا اور چند لمحوں میں تیس چالیس ہزار روپے کی ریڑھی کباڑ بن گئی۔

اس کے بعد ایسے کئی لوگوں سے بات ہوئی جن کے ساتھ یہی سلوک ہو چکا تھا۔ سب کی کہانی ایک جیسی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار تجاوزات ختم کرنے نہیں آتے۔ گویا غصہ اتارنے آتے ہیں۔ سامان کو اس طرح پھینکا جاتا ہے کہ دوبارہ استعمال کے قابل نہ رہے۔ برسوں کی محنت چند منٹوں میں ملبہ بن جاتی ہے۔ مجھے ایک اور منظر یاد آتا ہے۔ ایک ٹریفک کانسٹیبل ایک پھل فروش کی بیٹری بار بار زمین پر مار رہا تھا۔ پھل فروش بار بار کہہ رہا تھا۔ مجھے جانے دیں۔ میں خود یہاں سے چلا جاتا ہوں لیکن شاید مقصد راستہ خالی کرانا نہیں، اسے نقصان پہنچانا تھا۔

قانون جب وقار کھو دیتا ہے تو انصاف بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے پھر لاہور کے ماڈل ریڑھی بازار کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ جہاں لوگ فریاد کرتے ہیں کہ ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں اور ہر ایسی ویڈیو کے نیچے ایک ہی جملہ لکھا ہوتا ہے۔ یہ ویڈیو اتنا شئیر کریں کہ مریم نواز شریف تک پہنچ جائے۔ وہ نوٹس لے لیں گی۔ یہ جملہ صرف ایک وزیراعلیٰ سے امید کا اظہار نہیں۔ بلکہ ہمارے پورے انتظامی ڈھانچے کی ناکامی کا اعتراف ہے۔

یہ جملہ جتنا عام ہو چکا ہے۔ اتنا ہی تشویش ناک بھی ہے۔ کیا ایک صوبے کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا حل صرف وزیراعلیٰ کے نوٹس میں پوشیدہ ہے۔ کیا ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور دوسرے متعلقہ ادارے صرف اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ اوپر سے حکم آئے تب ہی وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں، اگر ہر مسئلے کے لیے وزیراعلیٰ ہی کو مداخلت کرنا ہے۔ تو پھر مقامی انتظامیہ کا وجود کس لیے ہے؟ اختیار اگر نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوگا اور جوابدہی بھی وہیں طے نہیں ہوگی۔ تو نظام شخصیات کے گرد گھومتا رہے گا، اداروں کے گرد نہیں اور اگر واقعی وزیراعلیٰ ہر جگہ خود مداخلت کرکے مسائل حل کرتی ہیں تو پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام اسی شخصیت کو یاد کریں گے، اسی کی تعریف کریں گے اور اسی سے توقعات وابستہ کریں گے مگر ایک مضبوط ریاست کی پہچان یہ نہیں کہ ہر مسئلہ ایک فرد حل کرے، بلکہ یہ ہے کہ ادارے اپنی ذمہ داری خود نبھائیں، تاکہ کسی مظلوم کو انصاف کے لیے ویڈیو بنا کر حکمران تک پہنچنے کی اپیل نہ کرنی پڑے۔

ذہن میں وہی برف کی سل آ جاتی ہے۔ شاید حکمرانوں تک بھی حقیقت مکمل نہیں پہنچتی۔ راستے میں کوئی اس کے کنارے تراش دیتا ہے۔ کوئی اس کا وزن کم کر دیتا ہے۔ کوئی اسے اپنی سہولت کے مطابق ڈھال دیتا ہے۔ جب حقیقت اقتدار کے ایوان تک پہنچتی ہے تو وہ حقیقت کم اور اس کا پگھلا ہوا پانی زیادہ ہوتی ہے لیکن اس ساری داستان کا سب سے تکلیف دہ پہلو کچھ اور ہے۔

ہم ایک ایسی قوم بنتے جا رہے ہیں جو چیزوں کی قدر اس وقت کرتی ہے جب وہ کباڑ بن چکی ہوتی ہیں۔ تجاوزات کے نام پر پلازے گرا دیے جاتے ہیں۔ دکانیں مسمار کر دی جاتی ہیں۔ سامان توڑ دیاجاتا ہے اور پھر اینٹ، لوہا، لکڑی، شیشہ، فرنیچر اور مشینری سب ملبے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہاں بھی جہاں تعمیراتی سامان ہی مشکل سے پہنچتا ہے۔ کسی کو خیال نہیں آتا ایک عمارت یا ریڑھی کسی کی زندگی بھر کی کمائی، کسی کا خواب اور قومی وسائل کا ایک حصہ بھی ہے۔

ترقی یافتہ معاشروں میں قانون بھی نافذ ہوتا ہے اور وسائل بھی بچائے جاتے ہیں، اگر کوئی عمارت گرانا ناگزیر ہو تو اس کے قابلِ استعمال سامان کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ نیلام کیا جاتا ہے۔ نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہاں قانون تباہی کا نام نہیں۔ نظم کا نام ہے۔ ہمارے ہاں اکثر نظم سے زیادہ انتقام دکھائی دیتا ہے۔ اس نظام کو کوئی بھی بدلنا نہیں چاہتا جو ہر روز نئے مظلوم پیدا کرتا ہے۔ شاید اسی لیے ہم صرف کباڑ نہیں بیچتے۔ ہم اپنے خواب بھی کباڑ بنا دیتے ہیں۔ ن۔ م۔ راشد کی نظم "اندھا کبّاڑی" یاد آتی ہے۔ اس نظم میں کبّاڑی صرف پرانی چیزیں خریدنے والا نہیں۔ بلکہ ایک پورے عہد کا استعارہ ہے۔ جہاں خواب، امیدیں اور انسانی قدریں بھی سودا بن جاتی ہیں۔

آج محسوس ہوتا ہے کہ ہم خواب بیچنے والے بھی نہیں رہے۔ ہم پہلے خوابوں کو ملبے میں بدلتے ہیں۔ پھر ان کا مول لگاتے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ ہم کباڑ بیچتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم پہلے ہر قیمتی چیز کو کباڑ میں بدلتے ہیں پھر اسے بیچ دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے حصے میں صرف ملبہ رہ جاتا ہے۔ بنجر زمینیں رہ جاتی ہیں اور ایسے حکمران رہ جاتے ہیں جن تک حقیقت برف کی پگھلی ہوئی سل کی طرح پہنچتی ہے۔ ہمیں کباڑ بیچنے والی قوم کسی اور نے نہیں بنایا۔ ہم نے خود اپنی حقیقت کو پگھلایا۔ اپنی محنت کو ملبہ بنایا۔ اپنے خوابوں کا مول لگایا اور پھر اس سارے ملبے پر کھڑے ہو کر ترقی کے دعوے کرتے رہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ نظام کب بدلے گا۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب سمجھیں گے کہ قومیں انتقامی ملبے پر نہیں۔ تعمیر پر کھڑی ہوتی ہیں۔