Friday, 03 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Saadia Bashir
  4. Khawaje Da Gawah Daddu, Andhi Himayat Ka Almiya

Khawaje Da Gawah Daddu, Andhi Himayat Ka Almiya

پنجابی زبان کی معروف کہاوت "خواجے دا گواہ ڈڈّو" محض ایک روزمرہ کا فقرہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی رویّوں اور اخلاقی زوال کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ "ڈڈّو" سے مراد برساتی مینڈک ہے۔ جو بارش کی پہلی بوند گرتے ہی ہر طرف سے نکل آتے ہیں اور بے سبب شور مچانے لگتے ہیں۔ بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو کسی بااثر شخصیت پر الزام لگتے ہی، بغیر تحقیق، بغیر دلیل اور بغیر ثبوت، اس کے دفاع میں کود پڑتے ہیں۔ ان کی وفاداری حق کے ساتھ نہیں بلکہ شخصیت اور مفادات کے ساتھ ہوتی ہے، اسی حقیقت کو بزرگوں نے ایک مختصر مگر معنی خیز کہاوت میں سمو دیا: "خواجے دا گواہ ڈڈّو"۔

یعنی جس شخص کی اپنی حیثیت معتبر نہ ہو یا جو خود حقیقت سے بے خبر ہو۔ وہ دوسروں کی دیانت اور پاک دامنی کی گواہی کیسے دے سکتا ہے۔ ان برساتی ڈڈوؤں کی ایک عجیب فطرت ہوتی ہے۔ نہ ان کا کوئی مستقل موسم ہوتا ہے۔ نہ کوئی مستقل اصول اور نہ کوئی مستقل مؤقف۔ جہاں شور اٹھا۔ وہیں ٹرّانے پہنچ گئے۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے "ڈڈو" کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ انہیں "چمچے" کہتے ہیں، حالانکہ یہ تشبیہ بھی چمچوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ چمچہ کم از کم کسی برتن میں کام آ جاتا ہے۔ مگر ڈڈو نہ کسی کام آتا ہے اور نہ کوئی بوجھ ہلکا کرتا ہے۔ یہ حضرات ہر اس شخص کی گٹھڑی اپنے سر پر اٹھانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جس سے انہیں معمولی سی وابستگی بھی ہو، انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس گٹھڑی میں سچ ہے یا جھوٹ۔ دیانت ہے یا بدعنوانی۔ انصاف ہے یا ناانصافی۔ بس ایک بار گٹھڑی سر پر رکھ لی تو پھر اسے اتارنا اپنی اَنا کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اتنی وفاداری شاید اپنے محبوب سے بھی نہ ہو، مگر کیا کیجیے۔ ڈڈو آخر ڈڈو ہی ہوتا ہے۔

ویسے دورِ حاضر میں ان کا ایک اور نام بھی خاصا مقبول ہے، لیکن اسے رہنے ہی دیجیے۔ کہیں صنفی جنگ نہ چھڑ جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بعد میں انہیں خود یقین بھی ہو جائے کہ اس گٹھڑی میں جھوٹ، دھوکا، بدعنوانی یا خیانت بھری ہوئی تھی۔ تب بھی وہ اسے نیچے نہیں رکھتے۔ معافی مانگنا انہیں اپنی شکست محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے وہ سچ کا سامنا کرنے کے بجائے اپنی ضد کا دفاع کرتے رہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہ تعصب، خوشامد اور اندھی عقیدت کی ایسی دلدل میں اتر جاتے ہیں کہ پھر انہیں صاف پانی بھی گدلا دکھائی دیتا ہے اور کیچڑ ہی اپنی اصل دنیا محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک دلیل بے وقعت، ثبوت بے معنی اور سچ ناقابلِ قبول ہو جاتا ہے۔ ان کا واحد اصول یہی رہ جاتا ہے کہ جس کی گٹھڑی اٹھا لی۔ اب چاہے اس میں کچھ بھی نکلے، اسے سر سے نہیں اتارنا۔

اسی لئے بزرگوں نے کہا تھا۔ "خواجے دا گواہ ڈڈّو، کیونکہ کچھ لوگ حق کی نہیں، شخصیت کی گواہی دیتے ہیں اور جب گواہی سچ کے بجائے تعلقات، مفادات یا اندھی عقیدت کی بنیاد پر دی جائے تو انصاف کا خون ہو جاتا ہے۔ آج اس کہاوت کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ جونہی کسی سیاستدان، مذہبی رہنما، سرکاری افسر یا بااثر شخصیت پر کرپشن، بدعنوانی یا کسی دوسری بے ضابطگی کا الزام لگتا ہے۔ اس کے حامی فوراً صف آرا ہو جاتے ہیں۔ نہ تحقیقات مکمل ہوتی ہیں۔ نہ شواہد سامنے آتے ہیں، مگر بے گناہی کے پروانے تقسیم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اپنے اپنے کنوئیں کو بحر اعظم کہنے اور سمجھنے والے

یہ ننھے مینڈک

ہر ہاتھی کو دیکھ کے پھولنے لگے ہیں

اور جب پھٹنے والے ہوں تو

ہاتھی کی آنکھوں پر پھبتی کسنے لگے ہیں (پروین شاکر)

ان کا سب سے مضبوط "ثبوت" صرف یہ ہوتا ہے۔ ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں، وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ حالانکہ کسی شخص کو جاننا اور اس کے ہر عمل کا گواہ ہونا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔ نیتوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جبکہ انسان کا فرض یہ ہے کہ وہ فیصلے تعلقات یا جذبات پر نہیں بلکہ ثبوت، قانون اور انصاف پر قائم کرے۔ اندھی حمایت دراصل بدعنوانی کی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔ جب جرم سے زیادہ وابستگی اہم ہو جائے۔ جب دلیل سے زیادہ تعلق بولنے لگے اور جب انصاف سے زیادہ وفاداری کی قدر ہونے لگے۔ تو پھر معاشرے میں قانون کمزور، احتساب بے اثر اور اعتماد معدوم ہو جاتا ہے۔ باقی صرف بچاؤ رہ جاتا ہے۔

مہذب معاشرے شخصیات کے سہارے نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ الزام لگے تو غیر جانبدار تحقیقات ہوں۔ بے گناہ ثابت ہو تو عزت بحال کی جائے اور جرم ثابت ہو جائے تو قانون سب پر یکساں لاگو ہو۔ یہی انصاف کا تقاضا اور ریاست کی اصل طاقت ہے۔ مختصراً "خواجے دا گواہ ڈڈّو" صرف ایک پنجابی کہاوت نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی کردار کا آئینہ ہے۔ یہ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ اندھی وفاداری کبھی وفا نہیں ہوتی، بلکہ انصاف کے خلاف گواہی بن جاتی ہے۔ گواہی اگر حق کے بجائے تعلقات کی بنیاد پر دی جائے تو عدالتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ مگر انصاف مر جاتا ہے اور جس معاشرے میں انصاف مر جائے۔ وہاں کردار زندہ نہیں رہتے۔ صرف چہرے اور تصویریں زندہ رہ جاتی ہیں۔