ہمارے معاشرے میں سب سے محفوظ دفاع وہ ہے جس کا کوئی جواب نہ آئے اور سب سے آسان ملزم وہ ہے جو بول نہ سکے۔ جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کی قبر کے ساتھ ایک نیا مقدمہ بھی دفن کر دیا جاتا ہے۔ پھر ہم اس کے کردار، نیت، دماغ اور زندگی کے فیصلے اپنی سہولت کے مطابق لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے۔ وہ تو ذہنی مریض تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ خود قصوروار تھا اور کوئی اتنا مطمئن ہوتا ہے جیسے مرحوم نے مرنے سے پہلے اسے اپنی غلطیوں کی فہرست تھما دی ہو۔ کیونکہ مرنے والا صفائی نہیں دے سکتا۔ وہ عدالت میں کھڑا ہو کر نہیں کہہ سکتا کہ یہ الزام جھوٹ ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر جواب در جواب نہیں لکھ سکتا۔ وہ کسی میٹنگ میں اپنی وضاحت پیش نہیں کر سکتا۔
مجھے ایک آفیسر کی بات یاد آتی ہے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے۔ جو اس دفتر سے نکل گیا۔ سارا بوجھ اسی پر ڈال دو۔ اس وقت یہ جملہ صرف دفتری سیاست لگا تھا لیکن بعد میں احساس ہوا کہ شاید ہمارا پورا معاشرہ اسی اصول پر چل رہا ہے۔ جو چلا گیا۔ وہی قصوروار۔ جو خاموش ہے۔ وہی مجرم۔ جو جواب نہیں دے سکتا۔ اسی کے حصے میں تمام الزام اور یوں باقی سب معصوم ہو جاتے ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ زندہ لوگوں کی غلطیوں کا بوجھ بھی اکثر مردوں کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کیونکہ مردے احتجاج نہیں کرتے اور خاموش لوگ شور نہیں مچاتے۔ ہم کہتے ہیں کہ خاموشی عافیت ہے۔ مگر شاید حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاموشی عافیت نہیں۔ الزام بن چکی ہے۔ جو خاموش رہا۔ وہ اپنی بے گناہی ثابت نہ کر سکا۔ جو بول نہ سکا۔ اس کے حصے میں ہر وہ قصہ آ گیا جس کا کوئی اور ذمہ دار نہیں بننا چاہتا تھا۔
شاید ہمارے معاشرے میں مرنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی لاش کا نہیں۔ اس کے کردار کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے۔ ثبوت بعد میں ڈھونڈے جاتے ہیں۔ الزامات پہلے جاری ہو جاتے ہیں اگر کسی کی موت دورانِ حراست ہو جائے تو سوال یہ نہیں اٹھایا جاتا کہ وہ مرا کیسے۔ بلکہ یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ تھا کیا۔ گویا اگر کسی پر جرم کا لیبل لگا دیا جائے تو اس کے بنیادی انسانی حقوق بھی ختم ہو جاتے ہیں اور اس کی موت بھی قابلِ افسوس نہیں رہتی۔
ہمارے ہاں تفتیش اکثر حقیقت تک پہنچنے کا نہیں۔ ایک تیار شدہ کہانی کو سچ ثابت کرنے کا نام بن چکی ہے۔ اگر کوئی زندہ واپس آ جائے تو شاید وہ بہت کچھ بتا دے۔ لیکن اگر وہ مر جائے تو پھر بیان صرف ایک طرف سے آتا ہے اور بدقسمتی سے اسی کو سچ مان لیا جاتا ہے۔ مرنے والے کے جسم پر پڑے زخموں سے زیادہ اس کے نام پر لگائے گئے الزامات کو اہمیت دی جاتی ہے۔
افسوس یہ بھی ہے کہ ہم ہر ایسے واقعہ کو ایک الگ سانحہ سمجھتے ہیں۔ یہ بھی عجیب دستور ہے۔ اگر کوئی کسی تفتیشی ادارے کی تحویل میں مر جائے تو خبر آنے سے پہلے اس کا جرم تیار ہو چکا ہوتا ہے۔ مرنے والا چند گھنٹے پہلے تک ایک شہری ہوتا ہے۔ مگر مرنے کے بعد اچانک ڈاکو، خطرناک ملزم، منشیات فروش یا پولیس پر حملہ کرنے والا قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے موت نہیں آتی۔ بلکہ ایک ایسا سرکاری سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے جو ہر سوال کو دفن کر دیتا ہے اور جن کے ہاتھوں تفتیش ہوتی ہے۔ وہی تفتیش کے بعد کہانی بھی لکھتے ہیں۔ کہتے ہیں اس نے خود مزاحمت کی۔ خود گر گیا۔ خود زخمی ہوا۔ خود مر گیا۔
عجیب اتفاق ہے کہ ہر بار مرنے والا ہی قصوروار نکلتا ہے اور ہر بار زندہ بچ جانے والے بے قصور۔ ہمارے معاشرے میں شاید سب سے مضبوط گواہی وہ ہوتی ہے جو صرف ایک فریق دے کیونکہ دوسرا فریق تو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک شخص کا المیہ نہیں۔ بلکہ ایک اجتماعی عادت بن چکی ہے۔ ہم ثبوت مانگنے کے بجائے الزام قبول کر لیتے ہیں اور انصاف سے پہلے فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے یہاں مرنے والوں کو انصاف کم اور الزامات زیادہ ملتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اکثر سچ کی نہیں، مصلحت کی گواہی چلتی ہے۔ جس کے سامنے خاموشی کو ہمیشہ اعترافِ جرم سمجھ لیا جاتا ہے۔
دل ہوا جان ہوئی ان کی بھلا کیا قیمت
ایسی چیزوں کے کہیں دام دیئے جاتے ہیں
المیہ تو یہ ہے کہ یہ ایک رویہ ہے۔ ایک ایسا رویہ جس میں طاقتور کا مؤقف ثبوت بن جاتا ہے اور کمزور کی خاموشی جرم۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ انصاف پر لوگوں کا اعتماد کیوں کم ہو رہا ہے۔ اعتماد وہاں نہیں مرتا جہاں لوگ مرتے ہیں، اعتماد وہاں مرتا ہے جہاں سوال مر جاتے ہیں اور شاید سب سے بڑا طنز یہی ہے کہ ہم ہر بار کہتے ہیں۔ اگر وہ بے گناہ ہوتا تو بھاگتا کیوں؟ مگر کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ اگر نظام بے گناہ ہے تو سوالوں سے گھبراتا کیوں ہے۔ اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہوا ہے تو پھر آزاد تفتیش، شفاف تحقیقات اور جواب دہی سے خوف کیسا۔ سچ کو کبھی خاموشی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خاموشی ہمیشہ جھوٹ کی سب سے محفوظ پناہ گاہ رہی ہے۔ بیخود دہلوی کے الفاظ میں
جھوٹ سچ آپ تو الزام دیئے جاتے ہیں
بات سنتے نہیں دشنام دیئے جاتے ہیں
ترچھی نظروں سے کئے اس نے بہت دل زخمی
تیر ٹیڑھے مگر کام دیئے جاتے ہیں
شاید اس لیے ہمیں مرنے والوں سے کم اور زندہ لوگوں کے بیانیوں سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔ کیونکہ مرنے والے جھوٹ نہیں بولتے۔ لیکن ان کے بارے میں جھوٹ بولنے والے ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں۔