Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Saadia Bashir
  4. Madari, Bandar Aur Jungle

Madari, Bandar Aur Jungle

کہانی کبھی نہیں مرتی۔ صرف اپنے کردار بدل لیتی ہے۔ بچپن میں ہم نے ایک کہانی سنی تھی۔ دو بلیاں تھیں۔ ایک روٹی تھی اور ایک بندر تھا۔ بلیاں انصاف ڈھونڈ رہی تھیں۔ بندر انصاف بانٹنے بیٹھا اور انصاف کے نام پر پوری روٹی کھا گیا۔ اس کہانی کا سبق بہت واضح تھا کہ جہاں شعور کم اور اختلاف زیادہ ہو۔ وہاں کوئی تیسرا ہمیشہ فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ لیکن اب وہ کہانی اپنی عمر پوری کر چکی ہے۔ اس لیے نہیں کہ بندر بدل گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ پورا جنگل بدل گیا ہے۔ آج کے بندر کو بلیوں کی روٹی چھیننے کے لیے کسی بہانے کی ضرورت نہیں رہی۔ کسی جھگڑے میں ثالث بننے کی ضرورت نہیں۔ اب وہ روٹی کے لیے خود تماشا لگاتا ہے۔

وہ کرتب دکھاتا ہے۔ قلابازیاں کھاتا ہے۔ شاخوں پر بیٹھ کر شور مچاتا ہے۔ کہیں اپنے ساتھی بندر کی جوئیں نکالتا نظر آتا ہے اور کہیں وہی ساتھی اسکے طنز اور تضحیک کا نشانہ بنتا ہے۔ ہر منظر ایک نئی توجہ پیدا کرتا ہے اور آج کے زمانے میں توجہ ہی سب سے بڑی کرنسی بن چکی ہے۔ یہ عجیب دور ہے کہ اب روٹی محنت سے کم اور توجہ سے زیادہ ملتی ہے۔ بندر تو ہمیشہ سے بندر تھے۔ اچھلنا، کودنا، شور مچانا، اپنی موجودگی کا احساس دلانا ان کی فطرت ہے۔ اصل سوال بندروں کا نہیں۔ اس جنگل کا ہے۔ جس نے بندروں کے کرتب کو اپنی سب سے بڑی مصروفیت بنا لیا ہے۔ حیرت بندروں پر نہیں، بلیوں پر ہوتی ہے۔

وہی بلیاں جو کبھی اپنی روٹی بچانے کے لیے پریشان ہوتی تھیں۔ آج اپنی مرضی سے روٹی کا بڑا حصہ بندروں کے قدموں میں رکھ دیتی ہیں۔ وہ خود اپنی توجہ، اپنا وقت اور اپنی توانائی ان کے نام کر دیتی ہیں۔ ہماری توجہ بھی ایک روٹی ہے۔

ہمارا وقت بھی ایک روٹی ہے۔ ہمارا شعور بھی ایک روٹی ہے اور اصل سوال یہ ہے کہ ہم یہ قیمتی روٹیاں روز کس کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ جس چیز کو ہم بار بار دیکھتے ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ ہمارے اندر جگہ بنا لیتی ہے۔ جس طرف ہماری نظر زیادہ اٹھتی ہے۔ اسی طرف ہماری سوچ کا سفر بھی شروع ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لیے آج کے جنگل میں بندروں کی حکومت کسی طاقت کے زور پر قائم نہیں ہوئی۔

انہیں تخت کسی نے لا کر نہیں دیا۔ ہم نے اپنی نگاہوں سے ان کے لیے تخت تراشے ہیں۔ اپنی گفتگو سے ان کے لیے تاج بنائے۔ اپنی فرصتوں سے ان کی سلطنتیں آباد کیں۔ ہم نے انہیں بادشاہ بنایا۔ پھر ان کی بادشاہت پر حیران بھی ہوتے رہے۔ پہلے مداری بندر کو نچاتا تھا۔ مداری کے ہاتھ میں ڈگڈگی ہوتی تھی۔ اشارہ ہوتا تھا۔ حکم ہوتا تھا۔ بندر جانتا تھا کہ کب اچھلنا ہے۔ کب بیٹھنا ہے۔ کب سلام کرنا ہے۔ مگر آج کا منظر مختلف ہے۔ آج مداری کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ غیر مرئی ہے۔ کیونکہ بندروں نے وہ سب کچھ سیکھ لیا ہے۔ جو کبھی مداری سکھایا کرتا تھا۔ بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔

جو پس دیوار ہے، وہ باعث حیرت نہیں

سامنے کا یہ تماشا صورت تشکیک ہے

اب وہ خود اپنا اسٹیج سجاتے ہیں۔ خود اپنا تماشا ترتیب دیتے ہیں۔ خود ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ خود تالیاں پیدا کرتے ہیں اور خود ہی اپنی مقبولیت کا جشن مناتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ شور خاموشی سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ تنازع حکمت سے زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ تماشا تعمیر سے زیادہ جلدی مقبول ہو جاتا ہے اور مسلسل نظر آتے رہنا، مفید ہونے سے زیادہ اہم سمجھا جانے لگا ہے۔ ہجوم جہاں جمع ہوتا ہے۔ وہاں بڑا ہو جاتا ہے۔

خواہ وہ حقیقت میں کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ اب جنگل میں ناقد بھی بندر ہیں اور تنقید کے نام پر تماشا کر رہے ہیں اور ان کی مسلسل تنقید اس تماشے کی عمر بڑھا رہی ہے۔ وہ صبح بندروں کے بیانات پڑھتے ہیں۔ دوپہر ان پر بحث کرتے ہیں۔ شام ان کے نئے کرتب کا تجزیہ کرتے ہیں اور رات انہی کے بارے میں سوچتے ہوئے گزار دیتے ہیں اور اس تماشے کو زندہ رکھنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ دور معلومات کا نہیں، توجہ کی جنگ کا دور ہے۔ جس نے آپ کی توجہ حاصل کر لی، اس نے آپ کے وقت پر قبضہ کر لیا۔ جس نے آپ کے وقت پر قبضہ کر لیا۔ اس نے آپ کی سوچ کو متاثر کر دیا اور جس نے آپ کی سوچ کو قابو کر لیا۔ اس نے آپ کی آزادی کے سب سے اہم حصے کو چھو لیا۔ غلامی مصروفیت کی زنجیروں سے بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔

آپ کو اتنے تماشوں میں الجھا دیا جاتا ہے کہ آپ کو اپنے اندر جھانکنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ آپ دوسروں کی زندگیوں کے شور میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ اپنی خاموشیوں کی آواز سننا بھول جاتے ہیں۔ قومیں اس وقت بھی کمزور ہو جاتی ہیں جب ان کے ذہن غیر ضروری چیزوں سے بھر جائیں۔ خالی خزانہ دوبارہ بھرا جا سکتا ہے۔ لیکن منتشر شعور کو دوبارہ جمع ہونے میں بہت وقت لگتا ہے۔ اس لیے شاید اس عہد میں سب سے بڑی مزاحمت شور کے خلاف شور مچانا نہیں۔ بلکہ اپنے شعور کی حفاظت کرنا ہے۔ ہر تماشا قابل دید نہیں ہوتا۔ ہر بحث دانش مندی نہیں ہوتی۔

ہر آواز قابل سماعت نہیں ہوتی۔ جنگل ہمیشہ بندروں سے خالی نہیں ہوگا۔ نہ تماشے ختم ہونگے، نہ شورلیکن شاید کسی دن بلیاں اپنی روٹی واپس سنبھال لیں گی۔ وہ روٹی جو صرف آٹے کی نہیں، وقت کی بھی ہے۔ صرف وقت کی نہیں، توجہ کی بھی ہے۔ صرف توجہ کی نہیں، شعور کی بھی ہے اور شاید اصل سوال بھی یہی ہے۔ جنگل میں بندروں کی حکومت بندروں نے قائم نہیں کی تھی۔ وہ تو ہمیشہ سے بندر تھے۔ حکومت تو ان نگاہوں نے قائم کی تھی جو ہر صبح اپنے خواب چھوڑ کر بندروں کے تماشے دیکھنے آ جاتی تھیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر تماشا اسی دن ختم ہونا شروع ہوتا ہے جس دن تماشائی اپنی نظریں پھیر لیتے ہیں اور جس دن ایک معاشرہ اپنی توجہ واپس لے لیتا ہے۔ اسی دن بندروں کی سلطنتیں گرنا شروع ہو جاتی ہیں۔