Tuesday, 16 July 2024
    1.  Home/
    2. Rao Manzar Hayat/
    3. Sach Bolna Gunah Hai?

    Sach Bolna Gunah Hai?

    کچھ عرصہ پہلے، ایک کاروباری دوست دفتر تشریف لائے۔ پاکستان کے پہلے پچیس بڑے صنعتی گروپ کے مالکوں میں سے ایک ہیں۔ ملکی حالات سے حد درجہ دل برداشتہ نظر آئے۔ تکلیف دہ لہجے میں گفتگو شروع کر دی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ دل کا غبار نکالنے لگے۔ بتایا کہ چار ہفتے پہلے ایک مالیاتی ادارے سے کاروباری معاملہ طے کرنے کے لیے لندن جانا ہوا۔ غیر ملکی ادارے کا سربراہ ایک انگریز تھا جو تقریباً پچاس سال سے حد درجہ کامیاب کاروبار کر رہا تھا۔

    اس نے بڑی متانت سے، میرے شناسا کی بات سنی۔ اور اس کی کریڈیٹ لائن زبانی طور پر منظور کر لی۔ یکدم سوال کیا کہ کارخانہ کہاں لگائیں گے۔ میرا دوست یہ سن کر حیران ہوگیا اور بتایا کہ کارخانہ پاکستان میں لگائے گا۔ گورے نے حد درجہ تمیز سے جواب دیا کہ ہمارا ادارہ آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ آپ کا منصوبہ بہترین ہے اور اس میں منافع بھی تسلی بخش ہے۔ لیکن ہم کسی پاکستانی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کو کسی قسم کی سہولت فراہم نہیں کر سکتے۔

    اگلی بات زیادہ تکلیف دہ تھی۔ مشورہ دینے لگا کہ اگر سرمایہ چاہیے تو آپ ہندوستان، بنگلہ دیش، ملیشیاء یا کسی دیگر ملک میں کارخانہ لگا لیجیے جہاں سیاسی استحکام موجود ہو۔ بار بار مشورہ دیا کہ اگر یہی سرمایہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کریں، تو ہمیں کسی قسم کی کوئی فکر نہیں۔ میرے دوست نے وہی جواب دیا جو اس کے بس میں تھا۔ ہندوستان میں کارخانہ لگانے سے انکار کر دیا۔

    میرے پاس آتے وقت اس تذبذب میں تھا کہ مزید سرمایہ کاری کے لیے کس ملک کا انتخاب کرے۔ بہرحال میں نے تو صرف پاکستان میں کاروبار کرنے کا مشورہ دیا۔ مگر میرا دوست اس بات سے قطعاً متفق نہیں تھا۔ اب وہ بہت بڑی سرمایہ کاری دبئی میں کر رہا ہے۔ یہ معمولی سا واقعہ جو ہرگز ہرگز معمولی نہیں ہے۔

    صرف یہ ظاہر کر رہاہے کہ ہمارا ملک، کسی بھی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ٹھکانہ نہیں رہا۔ یہ لکھتے ہوئے الجھن ہو رہی ہے کہ کس طرح بیان کروں کہ ملکی معاشی اور اقتصادی صورت حال اب اس مریض جیسی ہے جو کسی اسپتال میں آئی سی یو میں پڑا زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہا ہے۔

    حقیقت سے تمام حکومتی اور ریاستی ادارے بڑی جانفشانی سے نظریں چرا رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین دہائیوں سے اس بدصورت اعتماد کے ساتھ جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ اب سچ سننے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔ اگر ملک کی دگر گوں صورت حال پر حقیقت پسندی سے گزارشات پیش کریں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو ملک دشمن عنصر کی حیثیت سے بلیک لسٹ کر دیا جائے۔

    آپ کے سامنے ناقابل تردید مثالیں رکھتا ہوں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ میری تنقید کا مقصد صرف اور صرف مکمل سچ کو سامنے لانا ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آ رہی ہے کہ ہمیں حقیقت سے بہت دور کر دیا گیا ہے۔ یقین فرمایئے اب واپسی کاکوئی راستہ نہیں ہے۔ اسٹاک ایکسچینج کی مثال سامنے رکھیئے۔ آج سے سات سال پہلے پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج ایک سو بلین ڈالر حجم کے برابر تھی۔ یہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ایک مثبت اشارہ تھا۔ مگر سابقہ تین حکومتوں کے دورانیے میں اسٹاک ایکسچینج کی مالیت 77بلین ڈالر کی کمی کا شکار ہوئی ہے۔

    یعنی پچھلے سات سال میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج 78فیصد تک ابتر ہوا ہے۔ قیامت یہ ہے کہ اس وقت ہماری پوری اسٹاک ایکسچینج کی مالیت تقریباً تیس سے بتیس بلین ڈالر کی رہ چکی ہے۔ اس میں خان صاحب کی حکومت، پی ڈی ایم کی حکومت، عبوری حکومت اور موجودہ حکومت، تمام کا دورانیہ شامل ہے۔ یعنی اس تباہی میں ہر سیاسی حکومت نے برابر کا حصہ ڈالا ہے۔ مگر آپ خان صاحب سے لے کر موجودہ وزیراعظم کسی سے بھی پوچھ لیں تو کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکے گا۔ تلخ سچ تو یہ ہے کہ پیہم سیاسی عدم استحکام اور ریاستی اداروں کی آپس میں دھینگا مشتی نے ملک کو معاشی طور پر بے کار کر دیا ہے۔

    کوئی بھی اس تنزلی کی ذمے داری لینے کو تیار نہیں۔ کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں کہ کٹھ پتلی قائدین کو لانے سے صرف اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ میں پچھتر بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ یہ ہمارے بیرونی قرضوں سے تھوڑا سا کم ہے۔ مگر آج کوئی بھی ریاستی یا حکومتی شخص اس پر بات کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔

    ایک اور اہم ترین عنصر کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ 2024 میں پاکستان کی جی ڈی پی صرف اور صرف 340بلین ڈالر رہ چکی ہے۔ دم توڑتی ہوئی معیشت کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ پچیس کروڑ آبادی کے ایک بڑے ملک کی جی ڈی پی کا حجم اتنا کم ہونا باعث شرم بھی ہے اور باعث عبرت بھی۔ ہمسایہ ملک کی جی ڈی پی چار ٹریلین یو ایس ڈالر پر محیط ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی معیشت چار سو ساٹھ بلین ڈالر کے قریب ہے جو ہم سے کم از کم ایک سو بلین ڈالر زیادہ ہے۔ کیا اس جزوی موازنے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہماری معیشت کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔

    ملاحظہ فرمایئے کہ ہندستان کے صرف ایک شخص، مکیش امبانی کی ذاتی دولت ایک سو اٹھارہ بلین ڈالر کے برابر ہے۔ یعنی ہندوستان کا ایک کاروباری گروپ، ہماری مکمل معیشت کا تقریباً چالیس فیصد بنتا ہے۔ صرف ایک کاروباری ادارے کے متعلق ذکر کر رہا ہوں۔ مقصد یہ بتانا ہے کہ ہم سے ہر سطح پر، ہرادارہ جھوٹ بولنے میں مصروف ہے۔

    اقتصادی زبوں حالی سے نکل کر ذرا نظام عدل کی طرف آئیے۔ رول آف لاء انڈیکس کے مطابق ایک سو بتالیس ملکوں کا سنجیدہ جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں حکومتی اداروں کے لا محدود اختیارات، کرپشن، حکومتی شفافیت، بنیادی انسانی حقوق، معاشرے میں لاقانونیت اور عدم تحفظ، قانون کا نفاذ، عدالتی نظام کی کارکردگی اور قانون کی حکمرانی جیسے تمام اجزاء کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ کیا آپ جاننا چاہیں گے کہ ایک سو بتالیس ملکوں کی فہرست میں پاکستان کہاں براجمان ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں اس فہرست کے مطابق ہم ایک سو تیسویں نمبر پر ہیں اور ہم سے کم تر پوزیشن پر صرف بارہ ملک ہیں۔

    اس صورتحال پر میں نے کسی کو افسوس کرتے نہیں دیکھا۔ اس بربادی کو سینے کا تمغہ سمجھ کر ہماری ہر حکومت لوگوں کو بیوقوف بناتی چلی آ رہی ہے۔ ایک اور امر حد درجہ تکلیف دہ ہے۔ اسی انڈیکس میں لوگوں کی حفاظت، تحفظ اور لاء اینڈ آرڈر پر ایک باب باندھا گیا ہے۔ رونے کا مقام یہ ہے کہ پاکستان، پوری دنیا کے ممالک کی فہرست میں آخری نمبر پر یعنی ہم ایک سو بتالیس کی فہرست میں ایک سو اکتالیسویں نمبر پر ہیں اور ہم سے نیچے ہمارا پیارا ہمسایہ افغانستان ہے۔

    یعنی دنیا میں ہم اور افغانستان برابر ہو چکے ہیں۔ مگر آج تک کوئی بھی لوگوں کو اس طرح کے حقائق پیش نہیں کرتا۔ اس کے متضاد پاکستان میں ریاستی اور حکومتی ایسا امیرانہ نظام قائم ہے، جسے دیکھ کر دنیا کے متمول ترین ملک بھی دانتوں میں انگلیاں چبا ڈالتے ہیں۔ صرف سرکاری ہوائی جہازوں کی فہرست بنا لیں تو آپ کی عقل ٹھکانے آ جائے گی۔ بیش قیمت جیٹ طیارے ہر ریاستی اور حکومتی سربراہ کے قدموں میں پڑے ہوئے ہیں۔

    قیمتی ترین کاریں ان کے لیے بے معنی ہو چکی ہیں۔ آپ سادگی کی بات کرتے ہیں۔ یہاں تو عوام کی رگوں سے خون کے آخری قطرے نچوڑ کر نئے جہاز، نئی گاڑیاں اور نئے محلات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ نا رکنے والا یہ مکروہ فعل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری و ساری ہے۔ چند سال پہلے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر کا معاملہ نظر سے گزرا تو دل بیٹھ گیا۔ موصوف کی وزارت میں فصلوں پر سپرے کرنیوالے چند جہاز تھے۔

    انھوں نے حکم فرمایا ایک جہاز کے اندر آرام دہ سیٹیں لگا دی جائیں جس میں وہ اور ان کا خاندان پورے ملک میں پوری شان و شوکت کے ساتھ سفر کر سکیں۔ وزیر صاحب کے حکم کی تعمیل ہوئی اور ایک سپرے کرنے والے جہاز کو ان کی ذاتی خواہش کے مطابق ایک آرام دہ سفری طیارے میں تبدیل کر دیا گیا۔

    کسی بھی اعلیٰ افسر نے یہ جرأت نہیں دکھائی کہ کہہ سکے کہ یہ عمل اور حکم مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ آج کل وہ وزیر موصوف ٹی وی کے ہر پروگرام میں براجمان ہو کر میرٹ کا راگ الاپتے ہیں۔ میری نظر میں اس طرح کے ان گنت واقعات ہیں جس میں سیاست دانوں اور حکومتی عمال نے مل کر ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ جس سے ملک کی چولیں ہل چکی ہیں۔

    اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ یہ سلسلہ موجودہ حکومت میں ختم ہوگیا ہے تو آپ مکمل غلطی پر ہیں۔ سرکاری پیسوں پر بھرپور عیاشی برق رفتاری سے جاری و ساری ہے۔ عوام کا کیا ذکر کرنا۔ وہ تو محض کیڑے مکوڑے ہیں جو طاقتور کے بچے کچے ٹکڑوں پر زندگی گزارنے کو اپنا مقدر کہتے ہیں۔ اس بنجر معاشرے میں سچ بولنا گناہ بنا دیا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال سے نکلنے کا کسی قسم کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ اس غیر قدرتی مرگ کا کوئی علاج نہیں؟