Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Iran Par Hamle

Iran Par Hamle

ایران پر ہونے والے حملوں کو جنگ نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ کُھلی جارحیت ہے۔ ایرانی کاروائیاں محض دفاعی ہیں ویسے بھی امریکہ اور اسرائیل سے ایران کا موازنہ بنتا ہی نہیں البتہ جب لڑائی تھوپ دی جائے تو مزاحمت ناگزیر ہوجاتی ہے۔ جوہری تنازع حل کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مزاکرات جاری تھے جن میں کئی امورپر اتفاق بھی ہوگیا تھا مگر سلجھتے معاملات کو الجھانے کے لیے میزائل پروگرام ختم کرنے کی شرط رکھ دی گئی۔ عین ممکن ہے اِس حوالے سے بھی ایران کسی حدتک لچک کا مظاہرہ کردیتا مگر اچانک ہی حملہ کر دیاگیا۔ شاید امریکہ اور اسرائیل کو گھمنڈ تھا کہ فضائیہ کے بغیر ایران چند گھنٹے مقابلہ نہیں پائے گا اور ہتھیار ڈال دے گا لیکن توقعات کے برعکس اور بھاری جانی ومالی نقصان اُٹھانے کے باوجود ایران مقابلے پرڈٹ گیا ہے۔

اِس میں شائبہ نہیں کہ ایرانی فضائی حدود پر امریکہ اور اسرائیل کا قبضہ ہے اور وہ بے دریغ بمباری کر رہے ہیں لیکن ایران سے امریکی اڈے اور اسرائیل بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ ایرانی ڈرونز اور میزائل کسی حد تک درست نشانوں پر لگ رہے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اور فضائی کمزوریوں کے باوجود ایران مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران نئے سپریم لیڈر کا انتخاب اُن کی مرضی کے مطابق کرے مگر ایسا ہونا بظاہر ناممکن ہے کیونکہ ایران نے شہید سپریم لیڈر کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کرنے کا عندیہ دیا ہے جو والد سے زیادہ سخت گیر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکی اور اسرائیلی اندازوں کے برعکس ہے اسی لیے اب ٹرمپ اور نیتن یاہو کے رویے سے جھنجلاہٹ عیاں ہے۔

حملہ آور امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ حملوں سے گھبرا کر ایرانی عوام اپنی سیاسی و مذہبی قیادت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ اِس خیال کی وجہ گزشتہ دسمبر اور جنوری میں ایران کا اندرونی انتشار تھا مگر بیرونی حملوں نے عوام کو متحد کر دیا ہے اور نہ صرف اندرونی انتشار ختم ہوگیا ہے بلکہ مہنگائی کے ستائے لوگ بھی فی الحال خاموش ہو چکے ہیں۔ ایران میں پانی اور تیل کے ذخائر اور دفاعی تنصیبات کے ساتھ عوامی املاک، ہسپتالوں اور سکولوں تک پر بمباری نسل کشی ہے مگر ابھی تک حملہ آور قوتوں کی رجیم تبدیلی کی خواہش پوری نہیں ہو سکی بلکہ اب تو ایرانی قیادت نے ملکی دفاع کے لیے کمانڈرز کو حالات کے مطابق خود فیصلہ کرنے کی آزدی دیدی ہے جس سے حملہ آور قوتوں کی زمینی کاروائی مشکل ہوگئی ہے اور اب زیادہ ویسے پیمانے پر امریکی دفاعی اہداف اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔ ایسی صورتحال ایک طویل لڑائی کی راہ ہموار کر سکتی ہے امریکہ اور اسرائیل متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ اُن کی عجلت سے ظاہرہے کہ وہ محدود کاروائی چاہتے ہیں۔

آبنائے ہرمز ایسا راستہ ہے جہاں سے دنیا کی ضرورت کے بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے جسے ایران نے بند کردیا ہے اور باوجود کوشش یہ راستہ واگزار نہیں ہوسکا۔ اِس بندش سے دنیا خوفزدہ ہے کیونکہ دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی تو مہنگائی کی خوفناک لہر جنم لیے سکتی ہے۔ انھی خدشات کی وجہ سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف آوازیں اُٹھنے لگی ہیں۔ نیٹو کے اراکین یورپی ممالک تک ناقدین میں شامل ہیں یہ صورتحال حملہ آورقوتوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ لہذا وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح حملوں کی توثیق کرائی جائے۔ اِس کے لیے مذہبی رہنماؤں کو بھی متحرک کیا جارہا ہے تاکہ ناقدین کے منہ بند کیے جاسکیں۔

امریکہ اور اسرائیل نے دنیا کو یقین دلایا تھا کہ ایران کی جوہری طاقت ختم کرنے کے لیے حملے ناگزیر ہیں لیکن ایرانی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے اور تہران میں دوست حکومت قائم کرنے جیسے بیانات نے واضح کردیا ہے کہ جوہری صلاحیت ختم کرنا محض بہانہ تھا اصل عزائم کچھ اور ہیں۔ واقفان حلقے تو وثوق سے کہتے ہیں کہ ایران پر حملے کے جواز ہرگز درست نہیں اصل بات یہ ہے کہ ٹرمپ ایپسٹین فائلز کا تذکرہ بند کرنا چاہتے ہیں مگر امریکیوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ٹرمپ کے کم عمر بچیوں کی زیادتی کے شواہد اسرائیلی انٹیلی جنس کے پاس ہیں اسی لیے بلیک میل ہوکر ایران پر حملہ کیا گیا ہے جس سے ایسے خیالات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ سب کچھ صیہونی قیادت کی ایما و سرپرستی میں ہوا جس کے شواہد بوقت ضرورت کے لیے محفوظ کرلیے گئے۔

مزید یہ کہ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے سنگین مقدمات کا سامنا ہے یہ محض الزامات نہیں بلکہ صداقت پر مبنی ہیں اسی پریشانی میں ٹرمپ کو ساتھ ملا کر ایران کو نشانہ بنایا گیا ہے مگر اِس کاروائی سے دنیا پریشان ہے نہ صرف نیٹو جیسا دفاعی اتحاد کمزور ہوا ہے بلکہ ایرانی میزائل حملوں کو روکنے والے دفاعی نظام کو عرب ریاستوں سے اسرائیل منتقل کرنے سے کئی اہم اور قریبی اتحادی بھی امریکہ سے بدظن ہوئے ہیں۔ عرب ممالک کی سیاحت اور سرمایہ کاری کو الگ دھچکا لگا ہے اسی بناپر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے میں اسرائیل کا ساتھ دے کر اچھا فیصلہ نہیں کیا اب نہ صرف امریکہ کو اپنی ساکھ کی بحالی کا مسئلہ درپیش ہے بلکہ جنگ کے اہداف حاصل ہونے کی باتوں سے ٹرمپ کا ذہنی انتشار واضح ہوا ہے جس سے تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی لیکن سچ یہ ہے کہ ایران پر حملوں سے چین اور روس کوتجارتی و معاشی فوائد حاصل کرنے میں آسانی ہوگئی ہے۔

ایران کے خلاف کاروائی پر امریکہ کو دنیا سے سیاسی حمایت حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ امریکی بیانیہ متاثر نہیں کر سکا اب مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اوول آفس میں مسیحی پادریوں اور مذہبی رہنماؤں سے کامیابی کی دعا کرانا دلیل اور جواز کی کمی کی طرف اِشارہ ہے۔ پادری گریگ لاری سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کا ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کامیابی کی نوید دینے کی خبریں عالمی زرائع ابلاغ دے چکے۔ برطانیہ کے اخبار گارڈین کے علاوہ کئی یورپی اخبارات میں آچکا کہ امریکی فوجیوں کو اُن کے کمانڈر یہ یقین دلانے کی کوشش میں ہیں کہ صدر ٹرمپ کو حضرت عیسیٰؑ نے ایران پر حملے کا اِشارہ دیا ہے ایسی شکایات کرنے والوں میں مسیحی، مسلمان اور یہودی فوجی شامل ہیں۔

جب دلائل نہ ہوں تو مذہب کا سہارہ لیا جاتا ہے ایران پر حملوں کو مذہب کے پردے میں چھپانے کی کوشش ثابت کرتی ہے کہ حملے بلاجواز اور محض طاقت کا اظہار ہیں صدر ٹرمپ کایہ مطالبہ ایرانی عوام اپنے سپریم لیڈر کا فیصلہ اُن کی مرضی کے مطابق کریں کسی آزاد و خودمختار ملک کے لیے ممکن نہیں۔ اِن حالات میں اگر جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو نہ صرف دنیا میں معاشی بحران بڑھے گا بلکہ مہنگائی کی نئی طاقتورر لہر کا امکان بڑھ جائے گا جس سے ایران کی بجائے عرب ممالک میں مزید سیاسی تبدیلیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور دفاعی حوالے سے بھی کچھ نیا دیکھنے کو مل سکتا ہے۔