Thursday, 05 November 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Tiktok Ke Mujron Se Ubhra Mister Patlu Ka Qissa

Tiktok Ke Mujron Se Ubhra Mister Patlu Ka Qissa

ملکی اور غیر ملکی سیاست کے اپنے تئیں "ماہر" ہوئے مجھ جیسے قلم گھسیٹ کو آج امریکہ میں ہوئے وسط مدتی انتخابات کے بارے میں لکھنا چاہیے تھا۔ دو دنوں سے مگر دل ودماغ پر ٹک ٹاک کی وجہ سے مشہور ہوا مسٹر پتلو نام کا شخص چھایا ہوا ہے۔ منگل کی صبح اٹھتے ہی اس کے بارے میں لکھنا چاہ رہا تھا۔ سوتے میں لیکن گردن کی کوئی رگ تن گئی۔ درد کی شدت سے آنکھ کھولنا بھی مشکل ہوگیا۔ کالم لکھنے کے بجائے پین کلرز اور آئی ڈراپس کی مدد لینے کو مجبور ہوا۔

پتلو کے نام سے مشہور ہوئے شخص کے بارے میں رواں ہفتے کے آغاز تک قطعاََ بے خبر تھا۔ مجھے زعم ہے کہ انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد متعارف ہوئے ٹویٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارم استعمال کرنے والے پاکستانی صحافیوں میں سرفہرست رہا ہوں۔ اتفاقاََ ان ہی دنوں "عرب بہار" کے بھی بہت چرچے تھے۔ قاہرہ کے التحریر سکوائر کا ڈنکا بج رہا تھا۔ مجھے بھی اپنے گرانقدر خیالات ٹویٹر کے ذریعے پھیلانے کی علت لاحق ہوگئی۔ دن کے کئی گھنٹے لیپ ٹاپ کھول کر اس کے ذریعے لوگوں کے ساتھ مکالمے کے بجائے جھگڑوں میں مصروف رہتا۔

سوشل میڈیا کی وجہ سے زندگی اس لئے بھی اجیرن ہوئی محسوس ہوئی کیونکہ اس کے ذریعے لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں نقب لگاکر انہیں بدنام کرنے کے حربوں سے قطعاََ بے خبر تھا اور 2011ء کے بعد ہمارے ہاں Youth Bulge نامی اصطلاح کا بہت چرچا تھا۔ جس پڑھے لکھے شخص سے ملو یاد دلاتا کہ پاکستان کی 60فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ وہ "نظام کہنہ" سے اُکتائے ہوئے ہیں۔ مجھ جیسے بڈھوں کو ستاروں پر کمند ڈالنے کے خواہاں نوجوانوں کے خیالات کو بغور سنتے ہوئے ان کی جانب سے "نئے پاکستان" کی خاطر بنائی راہ پر چلنا ہوگا۔

نہایت خلوص سے پاکستانی نوجوانوں کی نمائندہ تصور ہوئی جماعت کے متحرک کارکنوں سے روابط استوار کئے۔ گھنٹوں انہیں نہایت احترام سے سنا۔ ان کے محبوب قائد سے کئی مشترکہ دوستوں کی بدولت تقریباََ بے تکلفانہ شناسائی بھی تھی۔ "تبدیلی" اور "نئے پاکستان" کی تعمیر نو کو بے چین لوگوں سے طویل ملاقاتوں کے بعد دریافت مگر یہ ہوا کہ ریاستی اور حکومتی نظام کی مبادیات سمجھے بغیر محض روایتی اور موروثی سیاستدانوں کے خلاف نفرت بھڑکائی جارہی ہے۔ مؤثر متبادل تیار کرنے کی حکمت عملی مگر میسر نہیں۔ ایسے حالات میں "نظام کہنہ" کے "سیاسی" ڈھانچے یقیناََ مسمار کئے جاسکتے ہیں۔ ان کو بے اثر بنادینے کے بعد مگر ریاست کے طاقتور ترین دائمی ادارے ہی "نظام کہنہ" کو مضبوط تر بنائیں گے۔ اس سوچ کا اظہار شروع کیا تو مجھے لفافہ اور بدکردار ثابت کرنے کو سوشل میڈیا کی حرکیات پر گرفت کے حامل "انقلابی" متحرک ہوگئے۔ ڈھیٹ ہڈی ہوتے ہوئے میں انہیں مزید اشتعال دلاتا رہا۔

دریں اثناء نام نہاد عرب بہار بھی ٹھس ہوگئی۔ اس کی جگہ آئی خزاں طویل سے طویل تر ہوچکی ہے اور اس میں تبدیلی کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آرہے۔ ہمارے ہاں بھی "تبدیلی" کا سونامی آیا اورگزرگیا ہے۔ سیاست اس کے بعد "ہائی برڈ" ہوکر اپنی وقعت کھوبیٹھی ہے اور صحافت کا وقار تباہ وبرباد ہوچکا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں سے دن میں کئی بار صحافت کو بطور پیشہ اپنا نے کے فیصلے پر خود کی لعنت ملامت کرتا ہوں۔ عمر کے آخری حصے میں زندگی رائیگاں کا سفر محسوس ہونا شروع ہوگئی۔

اپنی ذات کی مسلسل ملامت کے اس موسم میں گزشتہ ہفتے کے آخری دو دنوں میں ریگولر سے زیادہ سوشل میڈیا کے پھیرے لگاتے ہوئے دریافت کیا کہ سوشل میڈیا کا ٹک ٹاک پلیٹ فارم ہماری نوجوان نسل میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ آج سے ڈیڑھ دو سال قبل اس پر اکائونٹ بنایا تھا۔ یہ مگر طے نہ کرسکا کہ اس پر کس نوعیت کا مواد پوسٹ کروں۔ اب اسے بحال کرنے کی کوشش کی تو پاس ورڈ ہی بھول چکا تھا۔

پتلو اور ٹک ٹاک کے بارے میں مزید جاننے کو بے چین یہ خبر پڑھ کر ہوا کہ موصوف نے اپنی مہندی کی تقریب میں لوگوں کو موٹرسائیکلیں اور ایک کار قرعہ اندازی کے ذریعے دینے کو دعوتِ عام دے رکھی تھی۔ سیالکوٹ کے نواحی شہر میں اس حوالے سے تقریب ہونا تھی۔ اس میں شریک ہونے کو ملک بھر سے ہزاروں نوجوان دور دراز کے سفر کے بعد وہاں پہنچ گئے۔ تقریب شروع ہونے سے قبل ہی مگرہجوم کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔ اس کے نتیجے میں کم از کم دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

سوشل میڈیا پر نفرت بکتی ہے۔ تقریب میں جو افسوس ناک بھگدڑ مچی اس کا ذمہ دار پتلو کو ٹھہرادیا گیا۔ یہ الزام بھی لگا کہ اسے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (نون) کے طاقتور افراد کی پشت پناہی میسر ہے۔ موجودہ حکومتی بندوبست کے تمام مخالفین لہٰذا یکسوہوکر پتلو کو ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس کے خلاف قانونی کارروائی کا تقاضا کرنا شروع ہوگئے۔

ہنر ابلاغ کا متجسس طالب علم ہوتے ہوئے میرے ذہن میں لیکن صرف یہ سوال اٹک گیا کہ پتلو کے پاس وہ کیا "گیدڑسنگھی" ہے جس کی بدولت لاکھوں افراد اس کے شیدائی بن گئے۔ یہ جاننے کو چند نوجوان ساتھیوں سے رابطہ کیا۔ ان کی مہربانی سے معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک پر "لائیو سیشن" ہوتے ہیں۔ ان کے دوران نوجوان مرد اور خواتین کے مابین ایسی گفتگو ہوتی ہے جس کا لچر پن ایک منٹ سے زیادہ برداشت نہ کرسکا۔ مردوں اور خواتین کے مابین ہوئے "مکالموں " میں جنسِ مخالف کو "سزا" کے طورپر کچھ ایسی حرکات بھی کرناپڑتی ہیں جو ہر حوالے سے پنجرے میں بند اور سدھائے جانوروں کے کرتبوں جیسی ہیں۔ مقصد ان کا انسان کی جبلت میں موجود سفلی جذبات کو اُکسانا اور ان کی تسکین فراہم کرنا ہے۔ پتلو جیسے کرداروں کی مقبولیت کا "راز" سمجھنے کے لئے نوجوان ساتھیوں نے جو کلپس جمع کی تھیں ان میں سے فقط تین پرسرسری نگاہ ڈال سکا۔ ایک کو بھی مکمل طورپر دیکھنے کی ہمت سے محروم رہا۔

خود کو نیک وپرہیز کار ثابت کرنا مقصود نہیں۔ مجھے "مذہبی" نہیں "لبرل" کی حیثیت سے بدنام ہوئے خانے میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ٹک ٹاک کے لائیو سیشنز میں عورت اور مرد کے تعلق کو جس انداز میں دکھایا جارہا ہے اسے دیکھتے ہوئے گھن محسوس ہوئی۔ مزید دُکھ یہ جان کر ہوا کہ موبائل فون کی سکرینوں کے ذریعے انسانوں کی جبلت میں موجود سفلی جذبات کو اُکسانے والے "گفٹ" کے نام پر براہِ راست نشریات کے ایک سیشن میں لاکھوں روپے کمالیتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر ملے "گفٹ" کو ڈیجیٹل دور میں دکھائے مجرے کی "ویل" کے برابر محسوس کیا۔

جودیکھا اس کی وجہ سے مسلسل سوچ رہا ہوں کہ ریگولر اور سوشل میڈیا پر کامل کنٹرول کے متمنی اداروں کی نگاہ اس مواد پر کیوں نہیں پڑرہی جسے ٹک ٹاک کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے۔ 1975ء کے برس سے مسلسل لکھ اور بول کر رزق کمارہا ہوں۔ ریگولر اور سوشل میڈیا کو "تخریبی خیالات" سے پاک رکھنے کے ارادے سے بنائے تازہ ترین قوانین کے اطلاق کے بعد سوشل میڈیا کے ایکس پروگرام پر کوئی ایک پیغام لکھتے ہوئے بھی سوبارسوچتا ہوں۔ سوال اٹھتا ہے کہ سخت قوانین کے اطلاق سے ہمیں "سیدھی راہ" پر رکھنے والے ادارے ٹک ٹاک کے "مجروں " اور "فحش کلامی" پر توجہ کیوں نہیں دے رہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بڈھوں سے نجات کے بعد نظام کہنہ کو تباہ کرنے کی Youth Bulge سے جو امید باندھی گئی تھی کہاں گم ہوگئی۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.