Thursday, 29 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Jua Israeli Intikhabat Par Asar Andaz

Jua Israeli Intikhabat Par Asar Andaz

بدھ کی صبح چھپے کالم میں کیے وعدے کے مطابق آج کہانی یہ بیان کرنا تھی کہ 12 جنوری 1993ء کے روز کامل گمنامی سے اچانک پاک آرمی کے سربراہ بنائے جنرل عبدالوحید کاکڑ بالآخر "کاکڑ فارمولے" تک کیسے پہنچے۔ اس فارمولے کے نتیجے میں انہیں تعینات کرنے والے صدر غلام اسحاق خان اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ اپنے "محسن" سے استعفیٰ حاصل کرتے ہی مگر انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو بھی اپنے منصب سے مستعفی ہوکر نئے انتخابات کی راہ بنانے کو آمادہ کیا۔

بدھ کی صبح اٹھتے ہی مگر ذہن مائوف ہوگیا۔ ماضی کی چسکہ بھری داستانیں سنانے کے بجائے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوگیا ہوں۔ وجہ فکر مندی کی اسرائیل کے انتخابات ہیں۔ وہ ہمارا ہمسایہ نہیں۔ قیامِ اول سے ہم صیہونی نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہوئی اس ریاست کو بلکہ تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ہمارے اس سے سفارتی ہی نہیں کسی بھی نوعیت کے تجارتی تعلقات بھی موجود نہیں ہیں۔

رواں برس کے مارچ سے لیکن اسرائیل نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر ہمارے قریب ترین ہمسائے ایران پر حملہ کردیا۔ مذکورہ حملے کے بعد جنگ بندی کے لئے پاکستان کلیدی کردار ادا کرنے کو مجبور ہوا۔ جنگ بندی کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود دیرپا امن یقینی بنانے کے لئے مذاکرات کا آغاز مگر نہیں ہوپایاہے۔ بے یقینی کے عالم میں ہمارے ہاں تیل اور ڈیزل کی قیمتیں ناقابل برداشت ہوچکی ہیں۔ موسم سرماکی آمد کے ساتھ گیس نایابی کے خطرات بھی امڈ رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کا فریق نہ ہونے کے باوجود ہم معاشی بے یقینی کے عذاب سے دو چار ہیں۔

منگل کے روز اسرائیل کی پارلیمان کا انتخاب ہوا ہے۔ وہاں کی قومی اسمبلی میں 120نشستیں ہیں۔ انتخاب میں وہاں عوام امیدواروں کو نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کو ووٹ ڈالتے ہیں۔ انتخابی نتائج آجانے کے بعد متناسب نمائندگی کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں میں قومی اسمبلی کی نشستیں تقسیم کردی جاتی ہیں۔ ہمارے عام مقبول عوامی سوچ کے برعکس اسرائیل میں سیاسی تقسیم جنونی حدود کی انتہائوں کو چھورہی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایک بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ مخلوط حکومتوں سے کام چلانا پڑا۔

مخلوط حکومتوں کے قیام کے لئے نیتن یاہو اپنے بدترین مخالفین کو بھی رام کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ اسرائیل کی بقا یقینی بنانے کے نام پر اس نے کٹر مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر گزشتہ 7برسوں سے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہنے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے۔ امریکی صدر کے ساتھ اس کی گہری قربت ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے جوانی میں امریکہ گیا تو ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈکشنر کے گھر قیام پذیر رہا۔ ذاتی قربت کے علاوہ نیتن یاہو اور ٹرمپ ایران کے خلاف یکساں سوچ کے حامل ہیں۔ ٹرمپ کی شدید خواہش تھی کہ منگل کے روز ہوئے انتخاب میں نیتن یاہوکو واضح اکثریت نصیب ہوجائے۔ اسے یقینی بنانے کے لئے اس نے دوبار سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے اسرائیلی ووٹروں سے جذباتی الفاظ کے استعمال سے التجا بھری درخواست بھی کی۔

نیتن یاہو پر عرصہ ہوا اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم کو میسر استثناء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ جیل جانے سے بچا ہوا ہے۔ بدعنوانی کے الزامات سے کہیں زیادہ سنگین مگر اسرائیل کے لوگوں کی مؤثر تعداد میں ابھرتی یہ سوچ تھی کہ اسرائیل کی بقا کو ہر صورت یقینی بنانے کی بڑھکیں لگانے کے باوجود وہ 7اکتوبر2023ء کے روز حماس کے مزاحمت کاروں کے گوریلا حملے روکنے میں ناکام رہا۔ پیش بندی میں ناکام ہونے کے بعد اس نے کئی مہینوں تک غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں پر وحشیانہ بمباری جاری رکھی۔ اس کے نتیجے میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں غیر مسلح فلسطینی جان سے گئے۔ ان کے گھر کھنڈروں میں تبدیل ہوگئے۔ حماس مگر اب بھی اپنا تنظیمی وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔

حماس کی مکمل شکست کے حصول میں ناکامی کے باوجود اس نے رواں برس کے فروری /مارچ میں ا مریکی صدر کو ایران پر حملے کو اُکسایا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئی ہفتوں تک جاری رہی فضائی بمباری کے باوجود ایران پسپا نہ ہوا۔ خود پر مسلط کردہ جنگ کی بدولت اس نے بلکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کو خلیجی ممالک سے بھیجے تیل اور گیس کی ترسیل تقریباََ ناممکن بنادی ہے۔ آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے لئے محفوظ بنانے کے مشن میں ناکامی کی خفت مٹانے کے لئے امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کررکھی ہے۔ پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں کی مسلسل کاوشوں کے باوجود امن بحالی کے امکانات روشن نہیں ہوپارہے۔

ناامیدی کے اس موسم میں اسرائیل سے تاثر یہ اجاگر ہونا شروع ہوا کہ منگل کے روز ہونے والے انتخاب کو نیتن یاہوکے خلاف ریفرنڈم کی شکل دینے کی کوشش ہورہی ہے۔ اسرائیل کے ایک سابق آرمی چیف -گادی آئزن کوٹ- کی قیادت میں نیتن مخالف قوتوں کا اتحاد قائم ہوا۔ مذکورہ اتحاد میں دو سابق وزرائے اعظم کی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ امید تھی کہ یہ اتحاد نیتن یاہو کو اسرائیل کی بقا یقینی بنانے کے مشن میں ناکام رہنے کا ذمہ دار ٹھہرانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ منگل کے روز ہوئے انتخاب کے ابتدائی لمحات میں یہ امید بارآور ہوئی نظر آنا شروع ہوگئی۔

پولنگ شروع ہونے سے دو ہی گھنٹوں بعد نیتن یاہونے کیمروں کے روبرو آکر دہائی مچانا شروع کردی کہ اس کے مخالفین اور خصوصاََ اسرائیل کے عرب مسلمان شہری بھاری بھر کم تعداد میں گھروں سے نکل کر ووٹ ڈال رہے ہیں۔ یہودی ووٹروں کی تعداد ان کے برعکس اب بھی گھروں میں محوِآرام ہے۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے قریب بھی اس کا واویلا جاری رہا۔ اسی بنیاد پر اس نے پولنگ ختم ہونے کے وقت میں دو گھنٹے بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا جو مسترد ہوگیا۔

پولنگ کے روز اسرائیل کے قانون کے مطابق Exit Poll ہوسکتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں اس کا مطلب ہے کہ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد اسرائیلی سروے کمپنیوں کو بتاسکتا ہے کہ اس نے کس جماعت کو ووٹ ڈالا ہے۔ پولنگ کے ابتدائی لمحات میں کئی گھنٹوں تک ایگزٹ پول نیتن یاہو کی حمایت کو تاریخی شکست سے دو چار ہوتا بتاتے رہے۔ 1973ء کے بعد ووٹنگ کاٹرن آئوٹ بھی 50فیصد کی حد پار کرگیا۔

پولنگ کے فیصلہ کن لمحات کے دوران امریکہ سے چلائی جوئے کی ایک ویب سائٹ نے مگرگیم پلٹ دی۔ اس ویب سائٹ کا نام ہے "پولی مارکیٹ"۔ افواہیں ہیں کہ ٹرمپ خاندان کے چند قریبی افراد اس کے ذریعے خود کو میسر ٹھوس معلومات کی بنیاد پر لا کھوں ڈالر "جوئے" کے نام پر کمارہے ہیں۔ منگل کی شام 7بجے تک اس ویب سائٹ پر 60 سے 65 فیصد افراد نیتن یاہو کی شکست یقینی بنانے کی شرط لگارہے تھے۔ نیتن یاہو کی حمایت میں فقط 20 سے 25 فیصد افراد نے رقم لگائی۔

اس "نازک" مقام پر اچانک چند "نامعلوم افراد" پولی مارکیٹ پر نمودار ہوئے اور 70 ہزار ڈالر سے شروع ہوکر پہلے 90ہزار ڈالر اور بعدازاں ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی رقم نیتن یاہو کی جیت کے امکانات پر لگادی۔ عجب اتفاق یہ بھی ہوا کہ "نامعلوم افراد" کی لگائی بھاری رقوم کی خبر عام ہوتے ہی اسرائیل کے ایگزٹ پولز نے بھی نیتن یاہو کی کامیابی کی امید دلانا شروع کردی۔ ایگزٹ پول پر بھی اپنی جیت کی خبر عام ہوتے ہی نیتن یاہو ٹی وی پر نمودار ہوا اور فی الفور اعلان کردیا کہ انتخاب جیتنے کے بعد وہ ایران پر امریکہ کے ساتھ مل کر فیصلہ کن حملے کی تیاری شروع کردے گا تانکہ اسرائیل کی بقا کو ہر صورت یقینی بنایاجاسکے۔ دو باتوں نے لہٰذا ذہن کو مائوف بنادیا ہے۔ ایک تو امریکہ سے چلائی جوئے کی ویب سائٹس کا انتخابی عمل کا انتخابی نتائج پر اثر اور دوسرا نیتن یاہو کا ارادہ جو فقط ایران ہی نہیں ہمارے خطے کو پاکستان سمیت کامل بے ثباتی کے بھنور میں دھکیل سکتا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.