جمعرات کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ مقامی مسائل کے بجائے توجہ مگر بنگلہ دیش پر مرکوز ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت کے طلبہ تحریک کے نتیجہ میں خاتمے کے بعد آج 12 فروری کو اس ملک میں انتخابات ہورہے ہیں۔ عوامی لیگ کو اس میں حصہ لینے کے ناقابل ٹھہرادیا گیا ہے۔ اس کی نااہلی بنگلہ دیش کی "موروثی سیاست" کے حوالے ابھری ایک اور بیگم "خالدہ ضیاء " کے صاحبزادے طارق رحمن کے وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے امکانات روشن بنارہی ہے۔ جب ان کی والدہ وزیر عظم تھیں تو موصوف کو کمیشن اور کِک بیکس کے جھوٹے سچے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان الزامات کی وجہ سے خالدہ ضیاء کے غیر ملکی خیرخواہوں نے مشورہ دیا کہ انہیں بیرون ملک بھیج دیا جائے۔ طارق برطانیہ چلے گئے۔ اس کے بعد ہوئے انتخاب میں حسینہ واجد وزیر اعظم منتخب ہوجانے کے بعد آتشِ انتقام سے مغلوب ہوئی۔ خالدہ ضیاء اور ان کی جماعت کے سرکردہ رہ نمائوں کی زندگی عذاب بنانا شروع ہوگئی۔ عدالتی نظام پر کامل کنٹرول کے ذریعے ان کو سنگین الزامات کے تحت طویل سزائیں سنانے کا بندوبست بھی یقینی بنالیا گیا۔ طارق رحمن مگر محفوظ رہے۔ حسینہ واجد کے بنگلہ دیش سے فرار کے بعد وطن لوٹے اور بنگلہ دیش پہنچنے کے چند ہی دن بعد ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔
ان کے والد کی بنائی جماعت "بنگلہ دیش نیشنل پارٹی" عوامی لیگ کے برعکس بھارت کو بنگلہ دیش سے فاصلے پر رکھنا چاہتی ہے۔ سیکولر ازم کے بجائے بنگال کی "مسلم شناخت" بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان سے ماضی کی تلخیاں بھلاکر دوستانہ تعلقات کا احیاء وہ بھارتی دبائو کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری سمجھتی ہے۔ مذکورہ ترجیحات کے باوجود بی این پی ایک روایتی سیاسی جماعت ہی ہے جو بنیادی طورپر "انقلاب" کی خواہاں نہیں۔ حیران کن بات مگر یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی نام نہاد جن-زی کے حسینہ واجد کے فسطائی اندازِ حکمرانی کے خلاف لائے "انقلاب" کے نتیجے میں ہوئے انتخابات کے ذریعے رائے دہندگان کی اکثریت بالآخر "موروثی سیاست" کی بنیاد پر ابھرے طارق رحمن اور ان کی جماعت کو برسرِ اقتدار لانا چاہ رہی ہے۔
جن نوجوانوں نے بدترین ریاستی تشدد کا سامنا کرتے ہوئے حسینہ واجد کو بھارت فرار ہونے کو مجبور کیا تھا خود بھی ایک سیاسی جماعت تشکیل دے چکے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق اسے فقط دو فی صد ووٹر اقتدار سونپنا چاہیں گے۔ "جن-زی" جماعت اسلامی کے ساتھ ایک انتخابی اتحاد میں بھی شامل ہوچکی ہے۔ جماعت اسلامی کو مگر رائے دہندگان کی اکثریت بھاری بھر کم تعداد میں ووٹ دینے کو آمادہ نظر نہیں آرہی۔ عمومی اندازہ یہ ہے کہ وہ دوسری بڑی جماعت کی صورت ابھرسکتی ہے اور اگر طارق رحمن کی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرپائی تو اسے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دینا ہوگی۔ جماعت اسلامی کے رہ نما مگر اس کے لئے تیار نظر نہیں آرہے۔ دوسری بڑی جماعت کی حیثیت میں ابھرنے کے بعد وہ اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیں گے۔
جمعرات کے دن بنگلہ دیش میں فقط نئی حکومت کے قیام کے لئے 300اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی کے انتخاب ہی نہیں ہونا ہیں۔ اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کے علاوہ جمعرات کے روز رائے دہندگان کو ایک اور بیلٹ پیپر پر بھی ہاں یا ناں کے ذریعے بنگلہ دیش کے آئین میں چند بنیادی تبدیلیاں کرنے کے منصوبے کو منظور یارد کرنا ہوگا۔ اس کی روشنی میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جمعرات کے روز بنگلہ دیش میں انتخاب ہی نہیں "ریفرنڈم" بھی ہونا ہے۔ ریفرنڈم کی بدولت اکثریت نے "ہاں " میں جواب دیا تو انتخاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی قومی اسمبلی کو 180دنوں کے اندر بنگلہ دیش کے آئین میں تجویز کردہ تبدیلیوں کو متعارف کروانا ہوگا۔ آئین "نیا" بن گیا تو بنگلہ دیش میں قومی اسمبلی کے علاوہ ہماری سینٹ جیسا ادارہ بھی قائم ہوجائے گا۔ مذکورہ ادارے کے اراکین جمعرات کے روز ہوئے انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی روشنی میں سیاسی جماعت کے نامزدہ اراکین میں سے "متناسب نمائندگی"کی بنیاد پر چنے جائیں گے۔
عوام میں فی الوقت مقبول اور روایتی و"موروثی سیاست" کی نمائندہ بی جے پی دل سے آئین میں تجویز کردہ تبدیلیوں سے خوش نہیں ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ "متناسب نمائندگی"کی بنیاد پر چنے سینٹ کے ذریعے اس کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش ہوگی۔ طارق رحمن کو یہ شبہ بھی ہے کہ "جن-زی" کے لائے "انقلاب" کے نتیجے میں عبوری حکومت کے مدارالمہام بنائے ڈاکٹر یونس بنگلہ دیش کے بااختیار صدر بننے کے خواہاں ہیں۔ وہ قومی اسمبلی پر اسی نوعیت کی کڑی نگاہ ر کھنا چاہیں گے جو پاکستان میں جنرل ضیاء نے آئین کی آرٹیکل58-2- بی کے تحت متعارف کروائی تھی۔ اس کے نتیجے میں فقط فوجی صدر ہی نہیں ایک "سویلین" غلام اسحاق خان نے بھی صدر منتخب ہوجانے کے بعد ایک نہیں دو حکومتوں کو کرپشن کے الزامات کے تحت گھر بھیج دیا تھا۔ حتیٰ کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو ان ہی کے نامزد کردہ "فاروق بھائی" نے 1996ء میں گھر بھیج دیا تھا۔
میرے چند نوجوان ساتھی ان دنوں بنگلہ دیش کے انتخاب کا جائزہ لینے وہاں گئے ہوئے ہیں۔ ان کی جانب سے ہوئی رپورٹنگ کے بغور مشاہدے کے باوجود میں ابھی تک یہ جان نہیں پایا کہ انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے طارق رحمن کی جماعت کے لوگ بنگلہ دیش کے آئین میں تجویز کردہ تبدیلیوں کے بارے میں کروائے ریفرنڈم کے بارے میں اپنے حامیوں کو ہاں پر ٹھپہ لگانے کا مشورہ دے رہے ہیں یا انہیں رد کرنے کی تجویز دی جارہی ہے۔
آئین میں جو تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں ان میں یہ شق بھی شامل ہے کہ قانون سازی کیلئے رائے دیتے ہوئے قومی اسمبلی کے اراکین اپنے سیاسی قائدین کا اتباع کرنے کے بجائے "ضمیر کے مطابق" ووٹ دے سکتے ہیں۔ یہ تجویزبھی رائے دہندگان نے مان لی تو نئے منتخب وزیر اعظم کا اپنی جماعت کے اراکین پر کنٹرول کمزور ہوجائے گا۔ "لوٹوں " کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ان امکانات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے میرے وسوسوں بھرے دل کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ "جن-زی" کے لائے "انقلاب" کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو شاید سیاسی ومعاشی استحکام میسر نہیں ہوپائے گا اور بنگلہ دیش مزید ابتری کا متحمل ہونہیں سکتا۔
انتخاب پلس ریفرنڈم کے نتیجے میں قائم ہوئی حکومت کے لئے ایک اہم مسئلہ بنگلہ دیش میں تعینات ہوئے امریکی سفیر نے ایک حالیہ انٹرویو کے ذریعے بھی کھڑا کردیا ہے۔ برنٹ کرسٹینسن(Christensen Brent)موصوف کا نام ہے۔ بطور سفیر انہوں نے 12جنوری 2026ء کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے۔ اس سے قبل بھی وہ بنگلہ دیش میں 2019ء سے 2021ء تک سیاسی اور معاشی امور پر نگاہ رکھنے والے افسر کی حیثیت میں امریکی سفارت خانے سے وابستہ رہے ہیں۔ برطانوی خبررساں ایجنسی کو بنگلہ دیش کے انتخاب پلس ریفرنڈم سے عین ایک دن قبل انٹرویو دیتے ہوئے موصوف نے لگی لپٹی رکھے بغیر اعتراف کیا کہ امریکہ فقط بنگلہ دیش نہیں بلکہ "جنوبی ایشیاء " میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر سے خوش نہیں ہے۔
بنگلہ دیش نے حال ہی میں چین کی معاونت سے بھارتی سرحد کے قریب ڈرون بنانے کا ایک کارخانہ لگانے کا معاہدہ کیا ہے۔ پاکستان سے چینی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بنائے J-17طیارے خریدنے میں بھی دلچسپی کا اظہار ہوا۔ مذکورہ معاہدوں اور خواہشات کا نام لئے بغیر ڈھاکہ میں تعینات امریکی سفیر نے بنگلہ دیش کو چین سے دفاعی نظام کے حصول کے بجائے امریکہ سے متبادل طلب کرنے کو اکسایا ہے۔ نئی حکومت کے قیام سے قبل ہی بنگلہ دیش کو امریکہ یا چین میں سے کسی ایک کو بطور "دوست" اپنانے کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔