Thursday, 09 April 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Tail Ke 2 Tajiron Ki Larai

Tail Ke 2 Tajiron Ki Larai

میں ہرگز انکار نہیں کرتا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا نظر آنے والا بڑا پہلو نظریاتی ہے اور یہ بھی کہ ایران اسرائیل کا دشمن ملک ہے مگر یہ دلچسپ تضاد ہے کہ ہمیں اسلامی ریاستوں میں ترکی کے بعد سب سے زیادہ یہودی ایران میں ہی ملتے ہیں، ترکی میں چودہ پندرہ ہزار کے لگ بھگ اور ایران میں نو سے دس ہزار کے قریب، بعض حوالے کہتے ہیں کہ ایران میں موجود یہودیوں کی تعداد ترکی کے برابر ہی ہے مگر یہ حوالے زیادہ معتبر نہیں۔

مجھے ایران کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں پر بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ جینوئن ہیں بالکل اسی طرح جیسے اسرائیل کے ایران اور لبنان پر حملے۔ ایک مسلمان کے طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ غزہ کا کسی حد تک بدلہ ہے۔ ہمارے سامنے اسرائیل میں تباہی کی ویڈیوز موجود نہیں ہیں مگر جو چند ایک موجود ہیں وہ تسلی دیتی ہیں کہ خدا موجود ہے، وہ اسرائیلیوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرا رہا ہے جیسا اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا، چاہے اس کا عشر عشیر ہی کیوں نہ ہو۔

مگر امریکہ اور ایران کی جنگ کا ایک پہلو تیل بھی ہے۔ یہ تیل کے دو بڑے تاجروں کی بھی لڑائی ہے جس میں ایران نے تیل کی بیس فیصد سے زائد ترسیل والی آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں عربوں کے تیل اور گیس اور فروخت ٹھپ ہو کے رہ گئی ہے مگر اس کے ساتھ ہی حیران کن امر یہ ہے کہ جب دنیا بھر میں تیل اور گیس کا بحران ہے، توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو آپس میں لڑتے ہوئے تیل کے ان دونوں تاجروں کی تجارت میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، انہیں کوئی نقصان نہیں ہو رہا بلکہ رائٹرز کی رپورٹ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عرب ریاستوں کو مسلسل نقصان ہو رہا ہے بالخصوص قطر کو جس کی ایل این جی کی پیداوار ہی بند ہو کے رہ گئی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکہ کی تیل کی مصنوعات کی طلب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، جی ہاں، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی مصنوعات کی طلب اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ پوری ہی نہیں کر پا رہا۔

دوسری طرف ایران ہے جس کے پاس آبنائے ہرمز کا کنٹرول آ گیا ہے۔ کھلے سمندر کسی کی جاگیر نہیں ہیں وہ پوری دنیا کے لیے ہیں مگر ایران نے وہاں جہازوں کا راستہ روک رکھا ہے مگر اس کے جہاز جا رہے ہیں۔ میں نے تحقیق کی تو علم ہوا کہ اگرچہ ایران کے تیل کی ترسیل نسبتاً کم ہوئی ہے مگر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے وہ گھاٹے میں نہیں بلکہ منافع میں ہے، جی ہاں، وہ تیل جسے چالیس پچاس ڈالر فی بیرل ہونا چاہیے تھا وہ 120 ڈالر فی بیرل فروخت ہو رہا ہے۔

ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد بارہ ملین بیرل کے قریب تیل چین کو بھیجا ہے۔ عمومی طور پر یہی ہوتا ہے کہ جب تاجر آپس میں لڑتے ہیں تو ان کے مال کی قیمت گرتی ہے مگر یہ جنگ عجیب و غریب ہے جو انہیں فائدہ دے رہی ہے۔ ایران کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور بعض ذرائع کے مطابق وہاں پر اپنا ٹیکس بھی لگا دیا ہے اور امریکہ جس نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر بھی سنبھال رکھے ہیں، اس کے خریدار بڑھ رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کی تجارتی ذہنیت سب کے سامنے تو کیا وہ کوئی گھاٹے کی جنگ کر رہے ہیں، ہرگز نہیں، بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی جنگی معیشت کو بڑھاوا دے رہے ہیں، اپنی جنگی طیارے بیچ رہے ہیں۔ آپ کو ایک دلچسپ بات بتاوں کہ دنیا بھر کی ریاستوں کے جنگی بجٹ اگر ملا لیے جائیں تو وہ 2.7 ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ بنتے ہیں اور ان میں سے ایک تہائی جنگی بجٹ سے بھی زیادہ (اس وقت 997 ارب ڈالر) صرف امریکہ کا ہے۔

یقینی طور پر بطور مسلمان اور بطور پاکستانی میری ہمدردی ایران کے ساتھ ہے جس پر مذاکرات کے دوران حملہ کیا گیا۔ یہ عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ مجھے اس پر بھی اعتراض ہے کہ جن ممالک کے پاس خود ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جیسے امریکہ، جو جاپان پر ایٹمی حملے کر بھی چکا یاجیسے اسرائیل جس کے پاس اسی سے تین سو تک ایٹمی وار ہیڈز ہونے کی عالمی رپورٹس موجود ہیں وہ ایران پر تھانے دار کیسے بن سکتے ہیں مگر بطور صحافی مجھے اس پر بھی شک ہے کہ ایران جنگ بندی کی طرف کیوں نہیں آ رہا اور یہی بات امریکی صدر کی زبان اور افعال کو مزید کڑوا کر رہی ہے۔

ایک صحافی ہر بات کو شک کی عینک لگا کے دیکھتا ہے اور یہ کافی حد تک معاملہ مشکوک ہے کہ طویل جنگ میں ایران کا مفاد کیا ہے۔ میں اس دلیل کو بائے نہیں کر سکتا کہ ایران مستقل جنگ بندی چاہتا ہے عارضی نہیں کیونکہ جنگ کی طوالت مسلسل نقصانات کر رہی ہے اور اسلام آباد اکارڈ، ایک راہ عمل فراہم کرتا ہے جس پر چل کے امن تک پہنچا جا سکتا ہے۔ میں نے بطور صحافی پاکستان کا عمل دیکھا ہے کہ جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے چند گھنٹوں میں بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا۔ ایسے میں سیز فائر کا جو پہلا موقع ملا پاکستان نے اس کا فائدہ اٹھا لیا اور یہی صورتحال افغانستان کے حوالے سے ہے۔

پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا اور دوست ممالک کے کہنے پر نہ صرف عید پر سیز فائر کیا بلکہ چین کے دعوت پر مذاکرات کے لیے اس میں غیر اعلانیہ اضافہ بھی کیا یعنی امن پسند ممالک ہمیشہ مذاکرات کی طرف جاتے ہیں، سیز فائر کو اہمیت دیتے ہیں تو ایران ایسا کیوں نہیں کرتا۔ یہ دلیل بھی منطقی نہیں کہ امریکی شرائط ناقابل قبول ہیں، مذاکرات ہوتے ہی ناقابل قبول کو قابل قبول بنانے کے لیے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ جنگ ایک صنعت بن چکی ہے اور یہ بہت ساری ریاستوں کو فائدے دیتی ہے مگر بہت ساروں کو نقصان۔ جیسے امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ ہم سمیت دنیا کے بہت سارے ممالک کو نقصانات سے دوچا رکر رہی ہے مگر تیل کے یہ دونوں تاجر ممالک اپنی تجارت میں گھاٹے میں نہیں ہیں۔ یہ جنگ اسرائیل کے ساتھ ساتھ عربوں پر امریکہ کا دباو اور اثر و رسوخ بڑھا رہی ہے۔ خلیج میں نفرتیں بڑھا رہی ہے جو سراسر اسرائیل کا مفاد ہے۔

مجھے اس بات کی بھی سمجھ نہیں آتی جب امریکہ کا صدر بار بار کہتا ہے کہ اس نے ایران میں رجیم چینج کر دیا اور میں اس کی تشریح ڈھونڈنے میں لگ جاتا ہوں کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹے کے آنے کو رجیم چینج کیسے کہا جا سکتا ہے؟ کچھ تو ہے جو پس پردہ ہو رہا ہے، دنیا کو نہیں دکھایا جا رہا، دنیا کو صرف بڑھکیں سنائی جا رہی ہیں۔ یہ جنگ اتنی سادہ اور اتنی نظریاتی نہیں ہے جتنی دکھائی جا رہی ہے۔ اللہ کرے ان کے مفادات پورے ہوں اور ہمارے بحران ختم۔