ابھی چند روزپہلے سینئر سکیورٹی عہدیدار، سے جوملاقات ہوئی، اس میں سینئر اور معروف اینکر پرسن منصور علی خان کے نو مئی کے مقدمات کے بارے سوال پر جواب تھا کہ وہ مقدمات عدالتوں میں ہیں اور عدالتیں ہی ان پر فیصلہ کریں گی جس پر ہم سب نے قیاسات کے گھوڑے دوڑائے کہ اب سکیورٹی کے ذرائع عمران خان اینڈ کمپنی پر بات نہیں کر رہے تو ا س کا مطلب یہ ہوا کہ بیک ڈور کوئی کام پڑ گیا ہے اور صلح ہوگئی ہے۔
اس بریفنگ میں سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے (فروری کے آغاز میں) نظر آنے والامثبت رویہ بھی سوال ہوا، جی ہاں، جب انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، اپیکس کمیٹی کی میٹنگ کی، کور ہیڈکوارٹرز گئے اور عباس شہید کے جنازے کو کندھا دیا، یہ سوال میرا تھا، جس کے جواب میں کہا گیا کہ فوج کی کوئی سیاسی پسند ناپسند نہیں ہے اور سب سے پہلے پاکستان ہے۔ لیجئے جناب، وہاں صرف حکومت کے حامی ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے جانثار یوٹیوبرز اور وی لاگرز بھی موجود تھے جنہوں نے باہر نکلتے ہی آسمان سر پر اٹھا لیا بلکہ ہمارے عمران خان پر فدا ایک دوست نے تو ایک پروگرام میں مجھ پر پھبتی بھی کس دی کہ مجھے اس صورتحال پر پریشانی ہوگئی تھی۔
میں نے انہیں بصد احترام بتایا کہ میرے خیال میں اول تو عمران خان باہرنہیں آ رہا اور اگر باہر آ بھی رہا ہے تووہ وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد گرفتاری تک سڑکوں پر ہی رہا ہے، اس نے اس عرصے میں کیا کر لیا تھا جو اب کر لے گا۔ آپ کو یاد ہوگاکہ موصوف نے اپنے عہدے سے ہٹنے کے برس ہی نومبرمیں ایک لانگ مارچ کیا تھا جس کا ٹارگٹ یہ تھا کہ اس نے سید عاصم منیر کو آرمی چیف نہیں بننے دینا۔ میرا خیال ہے کہ عمران خان سے یہ حماقت بھی فیض حمید نے ہی کروائی ہوگی جس نے نو مئی کروایا۔ کچھ لوگ تو عہدوں کے لئے باولے ہی ہوجاتے ہیں حالانکہ یہ عہدے ہی نہیں بلکہ زندگی کی ایک ایک سانس اور رزق کا ایک ایک ٹکڑا اللہ کی دین ہے، وہ جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے۔
ہمارے وہ دوست جن کا میں اکثر کالموں وغیرہ میں ذکر کرتا رہتا ہوں جو ہر تھوڑے روز کے بعد نیاپانی پی کر حوصلہ پکڑتے ہیں اور اپنے مشہور زمانہ آنسوئوں اور سسکیوں کو روک کے ٹویٹ پھڑکا دیتے ہیں کہ وہ آ رہا ہے اور خم ٹھونک کر آ رہا ہے۔ یقین کیجئے کہ ان میں ان ٹوئٹوں کی بھی ہمت ختم ہوگئی تھی مگر اس بریفنگ اور اس کے بعد ہونے والے وی لاگز کے بعد انہوں نے دوبارہ کاپی پیسٹ شروع کر دی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ معرکہ حق کے بعد پرائم منسٹر ہائوس میں ایک بریفنگ ہوئی تھی جس میں ملک بھر سے صحافیوں کو بلا کر اہم ایشوز پر بریفنگ دی گئی تھی۔
میں بھی لاہور سے وہاں پہنچا تھا اور اس کے بعد ایک کالم میں، میں نے بتایا تھا کہ دوگھنٹے کی بریفنگ میں عمران خان پر صرف دو منٹ کی بات ہوئی اوراس پر بھی میرا ہی کیا گیا ایک سوال تھا حالانکہ وہاں خفی یوتھیے بھی براجمان تھے۔ اسی طرح اب پاکستان کو جن ایشوز کا سامنا ہے ان میں عمران خان واقعی اہم نہیں ہے، ہاں، ایک وقت تھا کہ عمران خان خطرہ بنا تھا اور اس نے نو مئی برپا کیا تھا مگر اس کایہ خطرہ بننا اس کی بہت بڑی سیاسی حماقت تھی جس کی قیمت اس سے محبت کرنے والے اس کے کارکن آج تک ادا کر رہے ہیں۔
نو مئی کو کتنے ہی مہینے گزر چکے بلکہ اب تو برس گزر رہے مگر پی ٹی آئی کے لوگوں کو اب تک دس، دس، بیس، بیس اور تیس، تیس برسوں کی سزائیں ہو رہی ہیں۔ اب آپ عمران خان کے آنے اور اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے بارے جی ایچ کیو کیس کا تازہ ترین فیصلہ ہی دیکھ لیجئے جس میں تازہ تازہ کتاب کے مصنف بننے والے مراد سعید کے ساتھ ساتھ زلفی بخاری اور عمرایوب کو مزید دس، دس برس کی سزائیں ہوگئی ہیں۔
یہاں ہمارے پی ٹی آئی کے دوست بہت رجائیت پسند بن جاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اگر پیپلزپارٹی والوں کے لئے مشرف دور میں ایل ایف اوجاری ہوسکتا ہے اور میاں نواز شریف کی سزائیں ختم ہوسکتی ہیں تو عمران خان کی بھی ہوسکتی ہیں اور مجھے ان کی باتیں سن کر ان پر پیار آجاتا ہے۔ یقین کیجئے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہونے جا رہا۔ عمران خان نے اپنی زندگی بھر کی سیاسی جدوجہد سے جو کمایا ہے وہ اپنی ذات پر عدم اعتماد ہے، کوئی ان پر بھروسہ کرنے پر تیارنہیں، کوئی ان کی گارنٹی دینے کو تیار نہیں کیونکہ بھروسہ تو بھلے مانسوں پرکیا جاتا ہے، گارنٹی کو کردار والوں کی دی جاتی ہے۔
عمران خان سوشل میڈیا کے بعد کچھ پروگراموں یا کچھ کالموں کا موضوع ہی رہ گیا ہے ورنہ سنجیدہ اور فیصلہ ساز جگہوں پر اس پر گفتگو ہی نہیں ہوتی۔ اس بارے میں ایک دو سینئر لوگوں سے پوچھا تو ان کاکہنا تھا کہ ریاست عمران خان والی غلطی سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اس نے ایک غلطی کی، اس کا خمیازہ بھگتا، اس کے نقصانات کو پورا کیا اور اب وہ غلطی صرف اتنی اہمیت کی حامل ہے کہ اس غلطی کو دکھا اور پڑھا کے آنے والوں کوبتایا جائے کہ اب ایسی غلطی نہیں کرنی۔
ویسے جو لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کا ٹاپک سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہے تو ان سے کہنا ہے کہ اس وقت تمام مقبول اوربڑی جماعتیں حکومت میں ہیں جیسے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی یا حکومت کے بہت قریب ہیں جیسے جے یو آئی اور جماعت اسلامی تو ایسے میں جب کسی کو پٹرول کی قیمت بڑھنے پر پریشانی ہوتی ہے یا پیرا فورس اس کی ریڑھی اٹھا کے لے جاتی ہے، کسی کا ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان ہوتا ہے یاکسی کوویسے ہی ہر حکومت بری لگتی ہے تووہ اپوزیشن کی طرف ہی جاتا ہے۔
ابھی کل پرسوں جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پچپن، پچپن روپے لیٹر تک بڑھ گئیں توبہت ساروں کی چیخیں نکل گئیں حالانکہ اس سے پہلے ان میں سے بہت سارے کہہ رہے تھے کہ ہمیں ایران کے ساتھ مل کر جہاد کرنا چاہئے مگر یہاں پر عمران خان صرف اور صرف ایک ہی حوالے سے ڈسکس ہوئے کہ موصوف نے اس وقت تحریک چلائی تھی جب پٹرول پینسٹھ روپے لیٹر ہوا کرتا تھا اور ڈالر سو روپے سے کم۔
اب ہمارے پی ٹی آئی کے دوست جب پٹرول اور بجلی کی قیمتوں پر احتجاج کرتے ہیں تو ان کی پوسٹیں ہی ان کے سامنے رکھ دی جاتی ہیں کہ اگر پٹرول ہزار روپے لیٹر اور بجلی کا یونٹ پانچ سو روپے کابھی ہوجائے تووہ عمران خان کے ساتھ ہے۔ عمران خان اوراس کی پارٹی کا اب استعمال یہی ہے کہ اس کو دکھایا جائے اور پڑھایا جائے کہ اب دوبارہ یہ سنگین غلطی نہیں کرنی۔