Wednesday, 17 June 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Sohail Bhai Ke Column

Sohail Bhai Ke Column

آج کل ایک بار پھر سہیل بھائی کے کالموں نے دھوم مچا رکھی ہے، دھڑا دھڑ کاپی پیسٹ اور شیئر ہو رہے ہیں، جی جی، آپ درست سمجھے میں نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو سہیل وڑائچ ہی کی بات کر رہا ہوں جنہوں نے اپنے پروگرام ایک دن جیو کے ساتھ، کو ہی ایک ٹرینڈ نہیں بنایا بلکہ ان کی تحریریں بھی شاہکار ہوتی ہیں۔ میں بہت کم لوگوں کی تحریر سے متاثر ہوتا ہوں خاص طور پر کالم نویسی میں، میرا اپنے ساتھ بھی یہی گلہ رہتا ہے کہ میں اور میرے جیسے بہت سارے دوسرے صحافتی طالب علم، کالم کو کالم بنا کے نہیں لکھتے کوئی تجزیے کو کالم بنا دیتا ہے اور کوئی تبصرے کو۔

کالم کو کالم کے طور پر دیکھنا ہو تو اس میں سب سے بڑا اور پہلا نام (میری نظر میں) بڑے بلکہ ہر طرح بہت بڑے بھائی عطاءالحق قاسمی کا ہے۔ اگر آپ نے صحافت کے کسی طالب علم کو تجزیے، مضمون، تبصرے اور کالم میں فرق بتانا ہو تو انہیں لازمی طور پر روزن دیوار سے، دکھائیں، میرا مطلب ہے پڑھائیں۔ کالم نویسی میں ارشاداحمد حقانی بڑا نام تھے مگر میں نے ان کے کالم کو ہمیشہ تجزیہ سمجھ کر پڑھا۔

عباس اطہر صاحب نے اپنے کالموں کے فقروں میں تندی اور تیزی دی وہ ان کی ادھر تم ادھر ہم، جیسی سرخیوں جیسی تھی۔ کالموں میں خبریں لانے میں جناب حامد میر بہت آگے رہے اور کالموں میں فکشن لانے میں جاوید چوہدری۔ میں اگر سہیل بھائی کے کالموں کو دیکھوں تو یہ کالموں کے بہت سارے مزوں کی کاک ٹیل، ہے۔ مجیب الرحمان شامی صاحب کہتے ہیں کہ وہ صحافی ہی کیا جو بات کہے اور پکڑا جائے اور میں سمجھتا ہوں اس تعریف پرسہیل بھائی پرفیکٹ جرنلسٹ قرار دئیے جا سکتے ہیں اور کسی کو شک ہو تو وہ خبردار، ہوشیار، تیار، کے بعد مجھ سے بھول ہوگئی؟ ، پڑھ لے۔

دروغ بہ گردن راوی، کیا موخر الذکر کالم اس کے بعد آیا ہے جب جناب محسن نقوی نے انہیں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق (دروغ بہ گردن راوی) صحافت سے ریٹائرمنٹ کا مشورہ دیا ہے۔ سہیل وڑائچ اور محسن نقوی میں جو دوستی ہے وہ دوستی کم کم ہی ہوتی ہے۔ بہت کم جانتے ہیں کہ جب سہیل وڑائچ، فیلڈ مارشل کی میز پر گھنٹوں بیٹھے رہے تھے توانہیں وہاں بٹھانے والے محسن نقوی ہی تھے مگر اس کے بعد گڑ بڑ ہوگئی جب وہ گفتگو رپورٹ ہوئی اور پھر بہت سارے گلے شکوے ہوئے۔

میں نے کہا کہ آج کل ایک بار پھر سہیل بھائی کے کالموں نے دھوم مچا رکھی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی والے آج کل ان کے کالم بہت شیئر کررہے ہیں حالانکہ یہ وہی ہیں جو اس سے پہلے ان کی میمز شیئر کیا کرتے تھے اور ان کی کرپٹ صحافیوں کی کوئی بھی لسٹ ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں ان کا ذکر نہ ہو حالانکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے ان کالموں نے کیسا طوفان برپا کیا تھا جن میں انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ میاں نواز شریف کو عمران خان کو معاف کر دینا چاہئے اور خود جا کے معافی دینی چاہئے۔

مجھ سے بھول ہوگئی، بنیادی طور پر خبردار، ہوشیار، تیار ہی کی دوسری قسط ہے جس کے آخری پیراگراف سے میں بہت حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ جب حکومت کو معیشت اور سیاست پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ میں اسے بیانیے کی جنگ سمجھتا ہوں۔ یہ بات اپنی جگہ پر درست کہ ایک حکومت جس نے ایک برس میں ایسے سیلاب کا بھی سامنا کیا ہو جس کی مثال پچھلے پینتیس برس سے نہ ملتی ہو، اسی حکومت نے اسی برس ایک جنگ لڑ کے اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن کو صرف میدان جنگ ہی نہیں بلکہ اس کے بعد سفارتی محاذ پر بھی ایک بڑی شکست دی ہو، اسی حکومت نے بھارت بنگلہ دیش سمیت دیگر ملکوں کی طرح مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات سے نمٹا ہو مگر اپنے ملک میں پٹرول کے ایک لیٹر کی شارٹیج نہ ہونے دی ہو اور یہی حکومت آئی ایم ایف کے اس چنگل میں بھی ہو جس میں ایک سابق وزیراعظم اپنے سیاسی مفادات کے لئے معاہدہ توڑ کے پھنسا گیا ہو تو ایسے میں ایسا بجٹ دے دینا جس میں ٹیکس اور ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہوں، واقعی ایک کرشمہ لگتا ہے مگر ہم سب کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی عینک سے دیکھتے ہیں۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ سیاست اور پروپیگنڈے کی جنگ میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے شائد بالکل اسی طرح جیسے کرکٹ کا کوئی پھنسا ہوا میچ جیتنے کے لئے چوکے چھکے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہرحال سہیل بھائی کہتے ہیں تودرست ہی کہتے ہوں گے ورنہ میری نظر میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے کہ جولائی کے بعد حکومت کا زوال ہو رہا ہو۔ برادرم منصورعلی خان نے اسی روز اس کالم پر پروگرام کھڑکا دیا اور مجھے بھی بلا لیا۔ میرا اور اطہر کاظمی کا سیاسی، ملکی امور پر اختلاف ہوسکتا ہے مگر انہوں نے حکومت کے زوال کی شدید ترین خواہش کے باوجود مجھ سے اتفاق کیا کہ انہیں حکومت کے جانے کی کوئی وجہ، کوئی علامت نظر نہیں آ رہی۔ میرا کہنا تھا کہ حکومتیں چار سے پانچ وجوہات کی بنا پر جاتی ہیں ا ور سب سے پہلے وجہ لوکل اسٹیبلشمنٹ ہے۔

میرے پاس کوئی ایسی اطلاعات نہیں کہ فوج کے حکومت کے ساتھ کسی قسم کے اختلافات موجود ہیں بلکہ یہ اس وقت یک جان دو قالب نظر آ رہی ہیں۔ دوسری وجہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہے اور میری نظر میں عمران خان کے جانے کی وجہ قمر جاوید باجوہ نہیں بلکہ چین، سعودی عرب، ترکی جیسے دوست ممالک تھے۔ موجودہ حکومت کے امریکہ کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین بھی حیران پریشان ہیں کہ یہ صحر، ا ہرا بھرا جنگل کیسے بن گیا۔ حکومتوں کی رخصتی کی ایک وجہ عدلیہ ہوا کرتی تھی مگر مان لیجئے کہ ایسی عدلیاوں کے پیچھے بھی فوج ہی ہوا کرتی تھی یعنی ثاقب نثاروں کے پیچھے فیض حمید، اب ایسا کچھ نہیں ہے۔

چوتھی وجہ اپوزیشن اور اس کی کوئی ایسی تحریک بھی ہوسکتی ہے جو بہت زیادہ عوامی ہو اور ملک کے نظم و نسق کو ختم کرکے رکھ دے مگر کیا پی ٹی آئی ایسا کوئی طوفان لا سکتی ہے جو بچاری چھ ماہ سے اپنے بانی سے ملاقات نہیں کر سکی اور جیل کے باہر چھ سو بندہ بھی اکٹھا نہیں کرسکتی اور آخر میں اتحادی ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی سے ایم کیو ایم تک اتحادی کہیں بھاگے جا رہے ہیں؟

بہرحال ہم سہیل بھائی سے عمران خان کے دور کے یہ کمپنی نہیں چلے گی اور نواز شریف دور کے پارٹی از اوور، جیسے کالموں کا کریڈٹ نہیں چھین سکتے۔ یہ کالم جلدبا بدیر درست ثابت ہوئے۔ ویسے یہ مشورہ ایک دوست کا ہی ہے کہ حکومت مہنگائی کی طرف توجہ دے اور سیاسی بیانیے کی طرف بھی۔ کام کرنا ہی ضروری نہیں، کیا ہوا کام بتانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔