Sunday, 12 July 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Civil Military Relationship

Civil Military Relationship

حکومت اور فوج کے تعلقات، پاکستان جیسے سٹریٹیجک اہمیت کے ملک میں، ہمیشہ پولیٹیکل سائنس کا اہم ترین موضوع رہے ہیں مگر ان کی تشریح ہمیشہ سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کے کی گئی ہے۔ ہر وہ سیاسی جماعت جو فوج کی گڈ بُکس سے باہر نکل جاتی ہے وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے اس ادارے سے اچھے تعلقات کو منفی انداز میں پیش کرتی ہے حالانکہ یہ تعلقات آئین ہی نہیں تعمیر و ترقی اور استحکام کا تقاضا بھی ہیں۔

پاکستان کی پوری تاریخ سیاسی حکومتوں کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہونے کی قیمت ادا کرنے کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ بہت سارے لوگ سٹیٹ کے سسٹم میں فوج کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ فراموش کرجاتے ہیں کہ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک اہمیت اس کے چین، افغانستان، ایران اور ہندوستان کے ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ہے۔

میں نے جب سے عملی صحافت شروع کی تو میاں نوازشریف کو فوج کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہونے کی قیمت ادا کرتے دیکھا۔ جب ان کے دور میں اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر پاکستان آئے تو میں اس وقت بھی ایک قومی اخبار کے چیف رپورٹر کے طور پر مینار پاکستان پر موجود تھا مگر جنوبی ایشیا کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی موو اس لئے ناکام ہوگئی کہ اس وقت کی فوج اور حکومت کے تعلقات اچھے نہیں تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب اٹل بہاری واجپائی مینار پاکستان پر حاضری دے اورگورنر ہاوس لاہور میں اعلان لاہور پر دستخط کر رہے تھے تو عین اسی وقت پرویز مشرف پاکستانی فوج کارگل کے محاذ پر اتار رہے تھے۔

میں میاں نواز شریف کو پاکستان کی تعمیر و ترقی کا نقیب سمجھتا ہوں اور یہ بھی کہ اگر ان کے دور کے ترقیاتی منصوبے پاکستان سے نکال دئیے جائیں تو پھر پاکستان میں صرف مغلیہ ادوار کے قلعے ہی بچتے ہیں مگر اس محنت اور ترقی کیا فائدہ جو حکومت اور فوج کے برے تعلقات کی بھینٹ چڑھ جائے؟

میں نے ایک دلچسپ سٹڈی کی، عمران خان کے قمر جاوید باجوہ (یا فیض حمید) اور مقابلے میں شہباز شریف کے سید عاصم منیر کے ساتھ اتحاد کا موازنہ۔ میاں نواز شریف والا ماڈل کامیاب نہیں رہا اوریہی وجہ ہے کہ فوج بارہ اکتوبر ننانوے سے ہی ان کا متبادل تیار کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ کوئی مانے یا نہ مانے ہماری ساری مقبول قیادت فوج کی فیکٹری سے ہی تیار ہو کر نکلی ہے مگر مسئلہ اس وقت ہو جاتا ہے جب وہی قیادت مقتدرہ کے لئے بہت ساری وجوہات کی بنا پر ناقابل قبول ہوجاتی ہے۔ ہماری تاریخ میں تین مقبول اور کرشمہ ساز رہنماآئے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو شہید، میاں محمد نواز شریف اور عمران احمد خان نیازی اور یہ تینوں ایک ہی ذریعے سے آئے اور ان کا جانے کا ذریعہ بھی ایک ہی رہا۔

پچھلے پندرہ برس کا تجربہ بھی ہم سب کے سامنے ہے، ہم نے بذات خود مشاہدہ کیا ہے سو ہم اس کا بہترین تجزیہ اور موازنہ کر سکتے ہیں۔ مقتدرہ نے عمران خان کو ایک پلے بوائے ہونے کے باوجود صادق اور امین، ایک مسیحا بنا کے پیش کیا اوربڑی تعداد میں پاکستانیوں نے اسے اسی طرح قبول کر لیا جس طرح ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کوکیا تھا مگر یہ دونوں تو ملک کو کچھ نہ کچھ دے گئے مگر عمران خان نے فوج کی آنکھ کا تارہ ہونے کا غلط فائدہ اٹھایا۔

مجھے کہنے میں عار نہیں کہ عمران خان کا کردار بھی ان کی گفتار جیسا ہوتا تو وہ ایک انقلاب برپا کر سکتے تھے مگر ان کاسیاسی فہم اور کردار انتہائی مایوس کن رہا۔ ہم سب نے ان کے دور میں سقوط سری نگر ہوتے دیکھا اور یہ چند جمعے آدھے گھنٹے تک ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے والے مضحکہ خیز احتجاج کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ ان کے دور میں ہی ہم نے سنا کہ بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہماری جیپوں میں تیل تک موجود نہیں اور یہ خطاب بھی انہوں نے ہی پارلیمنٹ میں کیا کہ کیا کروں، کیا ہندوستان پر حملہ کردوں۔ یہ تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز کرسکتے تھے مگر انہوں نے سی پیک کو رول بیک کیا اور جنرل باجوہ ان کے لےے محمد بن سلمان کو پاکستان لے آئے مگر یہ ان کی ڈرائیوری کے سوا کچھ نہ کر سکے، جی ہاں، عمران خان کو اتنی ہی حمایت ملی جتنی اب شہباز شریف کے لئے کہی جا سکتی ہے مگر ان کی بدقسمتی رہی کہ ان کے دور میں کورونا آ گیا جس نے اتنا ہی نقصان کیا جتنا ان کی اپنی نااہلی نے، جی ہاں، انہوں نے آدھا پاکستان عثمان بزدار جیسے ناتجربہ کار کے حوالے کر دیا (یہاں فرح گوگی کانام زیادہ مناسب ہوگا) اور خیبرپختونخوا بزدار پلس محمود خان کے حوالے۔

مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ قمر جاوید باجوہ کبھی عمران خان کے خلاف نہ ہوتے کیونکہ ان کو گود میں بٹھا کے لانے والے وہی تھے اگر وہ پاکستان کا چلنا ناممکن نہ بنا دیتے۔ یہ عجیب بات ہے کہ پی ٹی آئی کے وہ لوگ جو آرمی چیف کو باپ کہہ کے بلاتے تھے وہ شہباز شریف کے سید عاصم منیر کے ساتھ بہترین تعلقات کار پر تنقید کرتے ہیں، اس کی بنیاد صرف تعصب اور بغض ہے کہ جو شے عمران خان کی خوبی اور کامیابی تھی آپ اسے شہباز شریف کی خامی یا ناکامی کیسے کہہ سکتے ہیں؟

میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر سول ملٹری ریلیشن شپ صرف طاقت، مال، اقتدار اور مفادات کے لئے ہیں تو یہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے زہر قاتل ہیں لیکن اگر یہ میرٹ پر ہیں، حب الوطنی، صلاحیت اور محنت کے ساتھ ہیں تو ان سے بڑھ کے پاکستان کے لئے کوئی خوش قسمتی اور کامیابی ہی نہیں۔ عمران خان، قمر جاوید باجوہ (یا فیض حمید) اتحاد کا موازنہ شہباز شریف اور سید عاصم منیر اتحاد کے ساتھ کر لیجئے، پہلے نے سقوط سری نگر دیا، حملہ آور ابھینندن کو چائے پلا کے بھیج دیا جبکہ دوسرے نے بھارت کو شکست فاش دی، پہلے نے چین اور سعودی عرب جیسے دوستوں کے ساتھ تعلقات کا بیڑہ غرق کیا کہ خود ان کی اہلیہ کے بقول سعودی حکمرانوں نے قمر جاوید باجوہ سے کہا کہ یہ کیا اٹھا لائے ہو اور دوسرے نے پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ فوجی اتحاد دیا۔

پہلے نے افغانستان سے دہشت گرد پاکستان لا کر بسائے جبکہ دوسرے نے دہشت گردوں کے حوالے سے واضح کر دیا کہ نہ ہم انہیں پاکستانی سمجھتے ہیں اور نہ ہی ہم اپنے بچوں، اپنے جوانوں اور اپنے شہریوں کے قاتلوں سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ پہلے نے عثمان بزدار اور فرح گوگیاں دیں جبکہ دوسرے سے پنجاب کی تاریخی اور شاندار ترقی مل رہی ہے۔ موخرالذکر اتحاد نے پاکستان کو اس یقینی ڈیفالٹ سے بچایا جس کے کنارے پر عمران خان اسے چھوڑ کر گئے۔ اسی اتحاد نے غزہ میں امن کروایا اور ایران کو ایک نیا ایران بنانے جا رہا ہے۔ حاصل کلام بہت واضح ہے کہ اگر یہ اتحاد نیک نیتی، حب الوطنی، شبانہ روز محنت اورصلاحیتوں کا ہے تو یہ ملک کے لئے امرت دھارا ہے اور اگر نہیں تو اس سے بڑاکوئی زہر نہیں!