Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Petrol Se Jure Sawalat

Petrol Se Jure Sawalat

پاکستان میں ایک دن میں ساڑھے چار لاکھ بیرل تک پٹرول، ڈیزل وغیرہ استعمال ہوجاتے ہیں۔ ایک بیرل میں 159 لیٹر ہوتے ہیں یعنی ہماری روزانہ کی کھپت بنی کوئی سات کروڑ پندرہ لاکھ چوالیس ہزار لیٹرز سے بھی زیادہ۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز بند ہوئی اورپاکستان میں تیل کی سپلائی متاثر ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ساٹھ، باسٹھ ڈالر فی بیرل سے چھلانگ لگا کے نوے، بانوے ڈالر پر پہنچ گئیں بلکہ کمال تو یہ ہوا کہ سوموار کے روز ایک سو بیس ڈالر کو جا کے ٹچ کر لیا۔

حکومت پاکستان نے جنگ لگنے کے تیسرے، چوتھے روز پٹرول کی قیمتوں میں پچپن روپے لیٹر کا اضافہ کردیا اور ساتھ ہی بتا دیا کہ ہمارے پاس پچیس سے اٹھائیس دن کے سٹرٹیجک ذخائر موجود ہیں۔ اس پر سوشل میڈیا پر موجود نام نہاد ماہرین کے ساتھ ساتھ بہت سارے ٹی وی چینلوں کے معاشی ماہرین نے بھی سوال اٹھانے شروع کر دئیے جیسے ہمارے مفتاح اسماعیل۔ یہ پی ڈی ایم کی حکومت میں کوئی تین ماہ کے لئے وزیر خزانہ رہے۔ یہ ڈیزل پٹرول کے پچپن روپے لیٹر مہنگا ہونے پر اعتراض کر رہے تھے تو میں نے ان کا ریکارڈ نکالا، موصوف تین ماہ میں پچا سی روپے لیٹر مہنگا کرکے گئے تھے اور اس وقت عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل کم ہو رہی تھیں۔

پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی چار سوالات ہونے لگے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ جب حکومت کے پاس سٹاک موجود ہے توموجود سٹاک کو نئی قیمت پر کیوں بیچ رہی ہے، یہ تو ناجائز منافع خوری ہے اور یقین کریں میں بھی کچھ دیر تک اس پر یقین کرتا رہا۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ جب بھارت نے پٹرول مہنگا نہیں کیا تو پاکستان نے کیوں کیا۔ تیسرا سوال تھا کہ یکمشت پچپن روپے اضافہ کیوں کیا گیا، یہ پہلے بیس تیس روپے بھی ہوسکتا تھا اور چوتھا سوال ججوں کو ملنے والے چھ سو لیٹر ماہانہ پٹرول پر کیا جا رہا ہے کہ اگر ان کو روزانہ بیس لیٹر پٹرول ملنا بند ہوجائے تو پٹرول سے جڑے ملکی مسائل کافی حد تک حل ہوجائیں۔ چلیں سب سے پہلے سب سے آخری سوال کا جواب دے دیتے ہیں۔

میں نے آپ کو بتایا کہ ایک دن میں سات کروڑ لیٹر سے زیادہ ڈیزل اور پٹرول استعمال ہوتا ہے اور اگر آپ اس میں سے ڈیڑھ دوسو ججوں کو روزانہ ملنے والے بیس، بیس لیٹر نکال بھی دیں گے تو اس سے کیا فرق پڑے گا، ہاں، فرق صرف یہ ہوگا کہ اس سے ان کا غریب عوام کے ساتھ اظہاریکجہتی ہوگا۔ یقین کیجئے میں وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے کابینہ کی دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے یا ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں سے پچیس فیصد کٹوتی کو بھی علامتی اقدامات سمجھتا ہوں جو کہ ایک سیاسی حکومت کی مجبوری ہیں ورنہ نہ ان تنخواہوں کے نہ لینے سے کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی اس سے کوئی بچت ہوگی، ہاں، سرکاری اداروں کی گاڑیوں کے پٹرول کوکٹ لگانا مفید ہوسکتا ہے، اس سے پانچ، دس فیصد کی بچت ہوسکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جج حضرات کو از خود ہی اس سے دو ماہ کے لئے دستبردار ہوجانا چاہئے، ا س سے ان کی نیک نامی بنے گی۔

پہلا سوال یہ ہے کہ جب حکومت کے پاس سٹاک موجود ہے تو نئی قیمت پر کیوں بیچ رہی ہے تو اس کا جواب کاروبار کرنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں گھر پر چارپائیاں توڑنے والے نہیں۔ یہ ایک منطقی تقاضا ہے اور حکومت کا بنایا ہوا قانون بھی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں کم از کم بیس دن کا سٹاک رکھیں۔ اس کو انوینٹری کہاجاتا ہے۔ ایسے میں جب ایک دن کاسٹاک فروخت ہوتا ہے تو کمپنیوں کے لئے لازمی ہوتا ہے کہ اس دن کا متبادل سٹاک خریدیں یعنی جس دن فروخت ہوئی اس کی ری پلیسمنٹ نئے مال کے ساتھ ہوگی جو نئی قیمت پر ہی آئے گا۔ ایسے میں کمپنیوں کو کئی بار کُشن، مل جاتا ہے اور انہیں فائدہ بھی ہوجاتا ہے مگر یہ فائدہ اس وقت نقصان میں بدل جاتا ہے جب حکومتیں عالمی منڈی میں پرائس کم ہونے پر قیمت کرتی ہیں تو انہیں نئی کم قیمت پر پرانا مہنگا خریدا مال بیچنا پڑتا ہے۔

مجھے علم ہے کہ کئی شارٹ میموری والے کہیں گے کہ قیمت کم کب ہوتی ہیں تواس کا جواب ہے کہ ابھی حال ہی میں یعنی ڈیفالٹ کے خطرے والے دنوں میں یہی تیل 335 روپے لیٹر تک پہنچا مگر پھر یہی تیل 247 روپے لیٹر بھی فروخت ہوتا رہا یعنی قیمتیں کم بھی ہوتی ہیں اور اب بھی وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے کہ قیمتوں میں کمی ہوگی، انشاء اللہ۔ دوسرا سوال تھا کہ بھارت نے قیمتیں نہیں بڑھائیں تو ہم نے کیوں بڑھائیں۔

میں نے بھارت کی قیمت چیک کی تو یہ پچھلے برس سے ہی بھارت کے دلی میں ستانوے روپوں سے کلکتہ کے ایک سو پانچ روپے لیٹرکے درمیان آ رہی ہے جب میں نے اسے پاکستانی روپوں میں کنورٹ کیا تو کلکتہ کی قیمت کم و بیش وہی نکلی جو اس وقت پاکستان میں پچپن روپے اضافے کے بعد ہے یعنی مودی سرکار پہلے ہی اپنے شہریوں کو اس ریٹ پر پٹرول فروخت کررہی ہے جو پاکستان کی حکومت نے اب بحران کی وجہ سے مقرر کی ہے تو پھر اسے واقعی قیمت بڑھانے کی کیا ضرورت ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت بڑا خریدار ہے اور اسے سستا تیل ملتا ہے مگر نریندر مودی اسے مہنگا بیچتا ہے۔ تیسرا سوال تھا کہ ایک ہی مرتبہ پچپن روپے کیوں تواس کا جواب یہ ملا ہے کہ حکومت کو خطرہ ہے کہ پٹرول کی قیمت مزید اوپر جائے گی لہذا اس نے پیش بندی کی یعنی تیس، چالیس روپے بڑھا کے بھی برا بننا ہے تو پچپن بنا کے بن جاو۔ ویسے حکومتی دوستوں کاکہنا ہے کہ سرکاری حکام نے وزیراعظم کو پٹرول کی قیمت میں ایک ہی بار ایک سو دس روپے بڑھانے کی تجویز دی تھی مگر انہوں نے اس اضافے کوآدھا کر دیا۔

کسی نے کہا کہ یہ شہباز شریف کیا کر رہا ہے تو میرا جواب تھا کہ شہباز شریف کچھ نہیں کر رہا بلکہ یہ سب امریکہ، اسرائیل اور ایران کر رہے ہیں۔ کیا شہباز شریف نے یہ جنگ شروع اور آبنائے ہرمز بند کی ہے۔ اس پر کہا گیا کہ شہباز شریف ہی تو ٹرمپ کا حامی ہے تو میرا جواب تھا کہ کیا ٹرمپ نے شہباز شریف کے کہنے پر ایران کی جنگ شروع کی ہے یا ایران شہباز شریف کے مشورے پر خلیجی مسلم ریاستوں پر حملے کر رہا ہے، شہبا زشریف تو امریکہ اور ایران دونوں کے حملوں کی مخالفت کر رہا ہے۔

ہمیں تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمارے پاس وہ وزیراعظم نہیں جو کہا کرتا تھا میں کیا کروں، کیا جنگ شروع کردوں، جو سقوط سری نگر پر آدھا گھنٹہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کے احتجاج کو ہی خارجہ پالیسی سمجھا کرتا تھا۔ شہباز شریف نے پرخطر عالمی دور میں پاکستان کو ایران یا افغانستان بننے سے بچا لیا ہے تو اس پر بھی آپ کو تکلیف ہے؟ کیوں؟