Tuesday, 03 November 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Fauj Mukhalif Bayania Aur Maqbooliat Ka Sarab

Fauj Mukhalif Bayania Aur Maqbooliat Ka Sarab

یہ غلط فہمی عمومی طور پر سوشل میڈیا پیدا کرتا ہے کہ فوج، حکومت یا اسٹیبلشمنٹ (جو دل چاہے خطاب دے لیں) کا مخالف بیانیہ عوام میں مقبولیت لاتا ہے۔ میں فوج اور حکومت میں سے حکومت کو فی الحال بحث سے باہر رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ حکومت سے باہر سیاسی جماعتوں کا یہ آئینی اور قانونی حق ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت کریں، اس کے اقدامات پر تنقید کریں مگر معاملہ صر ف حکومت کا نہیں ہے بلکہ کچھ لوگ یہاں پر یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان میں فوج کی مخالفت بھی مقبولیت دلاتی ہے اور اس کے لئے سوشل میڈیا پر حکومت یا فوج مخالف کمنٹس کی بہتات کو بنیاد بناتے ہیں۔

یہ بات کئی تحاریر اور مباحث میں واضح کی جا چکی کہ سوشل میڈیا کی مقبولیت کو حقیقی اور عوامی مقبولیت کا پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس کی بے شماروجوہات اور دلائل ہی نہیں بلکہ حقیقی زندگی سے ہزاروں مثالیں بھی موجود ہیں۔ ہم نے بہت ساروں کو دیکھا ہے جن کے سوشل میڈیا پر لاکھوں کی تعداد میں فالوورز موجود ہوتے ہیں مگر ان کی بکسوں سے ووٹ چندایک ہی نکلتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا کے ذمہ داران دعوے کر رہے تھے کہ اگر ان کی حکومت ختم کی گئی تو گورنر کے پی کے گورنر ہاوس سے باہر نہیں نکل سکیں گے اور ہم نے دیکھا کہ دوتہائی اکثریت والی حکومت کے لئے چند سو لوگ بھی نہ نکل سکے۔ ہم نے کئی ٹک ٹاکرز کو دیکھا ہے جن کے کئی کئی ملین فالوورز ہوتے ہیں اورانہی کے جنازے میں دوسری سے تیسری صف پوری کرنا مشکل ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا یہ مغالطہ کیوں پید اکرتا ہے کہ فوج مخالف بیانیہ بہت مقبول ہوتا ہے تو ہم اس کو سمجھنے کے لئے پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں اوریہ ہمیں اس کے بالکل الٹ تصویر دکھاتی ہے، یہ بتاتی ہے کہ اسے تین ہی کرشمہ ساز لیڈر ملے، ایک ذوالفقار علی بھٹو، دوسرے میاں محمد نواز شریف، تیسرے عمران احمد خان نیازی اوریہ تینوں سیاسی جمہوری رہنما فوج سے ہی ملے۔ ذوالفقار علی بھٹو، عوامی لیڈر بننے سے پہلے آٹھ برس تک آمریت کے ہی وزیر رہے اور اسی دوران اپنی سیاسی جڑیں مضبوط کیں۔ اکہتر کے سانحے میں وہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے پیارے تھے۔

میاں محمد نواز شریف کو جنرل ضیاءالحق نے دعا دی کہ انہیں، ان کی عمر لگ جائے، وہ وزیر خزانہ، وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم مقتدرہ کی حمایت سے بنے اور پھر تیسرے نمبر پر عمران خان، جن کے بارے میاں عامر محمود کا فقرہ تاریخ کے پنوں پر لکھا جا چکا ہے کہ اگر وہ فوج کی طرف سے چن نہ لئے جاتے تو مزید بائیس برس بھی جدوجہد کرتے رہتے تو ان کی اسمبلی میں ایک سیٹ ہی ہوتی۔ کیا ہم یہ سیاسی تاریخ رکھنے کے باوجود بھی یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنی ہی فوج کے مخالف ہیں۔ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ستر، اسی برس کی تاریخ میں لیڈر ہی وہ بنا جس پر فوج نے اپنا ہاتھ رکھا، اسے اپنی چھتری دی۔ یعنی عوام نے اسے ہی لیڈر سمجھا جسے فوج نے لیڈر بنایا اور دکھایا ورنہ ہمارے پاس ٹیلنٹڈ سیاستدانوں کی ایک لمبی قطار ہے اور ان میں سے بہت ساروں کی زبانیں بھی بہت لمبی، لیس اور لچھے دار ہیں مگر وہ ان کی مدد سے اقتدار کے درخت پر چڑھنے سے رہ جاتے ہیں۔ یہ ضرور درست ہے کہ فوج کو مردے میں جان ڈالنی آتی ہے مگر اپنے ہی بنائے ہوئے بتوں کو گرانا، یہ اس کے لئے بھی مشکل رہا ہے۔

ہمیں یہاں یہ اعتراف بھی کرنا ہے کہ پاک فوج نے ہمیشہ اپنے دور کا لبرل اور پروگریسو لیڈر ہی قوم کو دیا جیسے ذوالفقار علی بھٹو، ساٹھ اور ستر کی دہائی کا وہ نوجوان جو جاگیردار ضرور تھا مگر آکسفورڈ کا پڑھا ہوا تھا اور سوشلزم کے نظریات سے متاثر۔ میاں نواز شریف تاجر اور صنعتکار برادری کی پہچان، اسی کی دہائی کا نوجوان جس نے دنیا گھوم کے دیکھ رکھی تھی اوراس کے سامنے ترقی پذیر ممالک کی خوشحالی تھی اور اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اگر نواز شریف دور کے ترقیاتی منصوبے نکال دئیے جائیں تو پاکستان میں مغلیہ دور کے کھنڈر اور قلعے ہی بچتے ہیں۔

فوج کی اگلی چوائس بھی ایک کھلاڑی تھا جس کی سسرال تک اسرائیل میں تھی اور وہ ہر بات پر یورپ کی مثالیں دیتا تھا۔ فوج نے کسی دور میں بھی چوائس کی مگر وہ اتنی پختہ اور شاندار تھی کہ وہ مارشل لاؤں کی سختیوں سے بھی ختم نہیں کی جا سکی جیسے کوئی اچھی گاڑی کہ اس کے بہت سارے ایکسیڈنٹ بھی ہوجائیں تو وہ چلتی رہتی ہے۔ یہاں مجھے ایک بار پھر اسی مغالطے کی طرف جانا ہے جو سوشل میڈیا پیدا کرتا ہے کہ فوج کی مخالفت پاپولربیانیہ دیتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر فیک اکاونٹس کی بھرمار ہے اور ایسے اکاونٹس بھی جو کہ انڈیا، افغانستان اور اسرائیل سے چلتے اور اسی کی زبان بولتے ہیں۔ سوشل میڈیابنیادی طور پر رائے عامہ کا اظہار کم ہے اور ایک کاروبار زیادہ ہے جسے بہت ساری کاروباری ایجنسیوں نے قابومیں کر رکھا ہے۔

ہوتا یوں ہے کہ یہ تمام اکاونٹس دن رات ایک ہی کام کرتے ہیں کہ محب وطن حلقوں کی بھد اڑائی جائے۔ جیسے ابھی ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ ہمارے شہدا کے حوالے سے پوسٹس پرقہقہے کے ایموجیز کی اکثریت بوٹ اکاونٹس کی ہوتی ہے اور اسی حوالے سے باقاعدہ اعداد و شمار ڈی جی آئی ایس آئی کی پوسٹس سے ثابت بھی کئے گئے۔ یہی اکاونٹس ہوتے ہیں جو عوام کی محرومیوں اور مجبوریوں پربھی کھیلتے ہیں اور ہر و ہ شخص جو روزگار سے لے کر کسی بھی شکایت کے ساتھ ہوتا ہے وہ ان کے ساتھ مل جاتاہے۔ وہ لوگوں کی مقامی اور ذاتی شکایات کو بھی ریاست مخالف بیانئے تک لے جاتے ہیں۔ جب فوج کی طرف سے بیڈ گورننس پر تحفظات ظاہر کئے جاتے ہیں تو اس کی بنیاد یہی ہوتی ہے کہ یہی بیڈ گورننس، کسی ایس ایچ او، کسی پٹواری یا کسی سرکاری ڈاکٹر سے شکایت آگے بڑھ کے ریاست سے ناراضی بن جاتی ہے۔ ریاست مخالف اکاونٹس انہی لوگوں کے جذبات سے بھی کھیلتے ہیں اور انہیں بھی اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں۔

جو سیاسی رہنما اقتدار سے محروم ہوتے ہیں وہ اپنی کارکردگی یا روئیے کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے اور انہیں ایک ایسا ٹارگٹ درکار ہوتا ہے جس پر وہ اپنی ناکامیوں کی ذمے داری تھوپ سکیں سو وہ فوج پر الزام لگا دیتے ہیں جیسے عمران خان، کیا ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سو فیصد آئینی، پارلیمانی اور جمہوری نہیں تھی؟ عمران خان سے پہلے الطاف حسین، سعد رضوی یا شوکت میر کو دیکھ لیجئے یا مستقبل قریب میں مولانا فضل الرحمان کو دیکھ لیجئے گا۔ پاکستان کے عوام کو ان کے بچپن سے ہی فوج کی محبت اور احترام درسی کتب میں گھول کے پلایا جاتا ہے سو قوم کی بھاری اکثریت اپنی فوج سے محبت کرتی ہے، وہ امن تعمیر اور ترقی چاہتی ہے، اس پر ملکی دفاع اور سالمیت کے لئے اعتماد کرتی ہے اور یوں سوشل میڈیا ئی تصورات ہارجاتے ہیں اور زمینی حقائق جیت جاتے ہیں۔