Tuesday, 03 November 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Javed Chaudhry
  4. Student List

Student List

انجاراڈونجک (Anja Radonjic) چوبیس سال کی خوب صورت لڑکی تھی، بلغراد یونیورسٹی کے فلاسفی ڈیپارٹمنٹ میں پڑھتی تھی، ایتھلیٹ اور باسکٹ بال پلیئر تھی اور یونیورسٹی میں بہت مشہور تھی، وہ یکم نومبر 2024ء کو سربیا کے دوسرے بڑے شہر ناوی ساد کے ریلوے سٹیشن پر کھڑی تھی، وہ پیراسن ٹائون سے اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے کے لیے آئی تھی اور ریلوے سٹیشن پر کھڑی ہو کر اس کا انتظار کر رہی تھی لیکن پھر اچانک سٹیشن کی چھت ہلی اور دھڑام سے نیچے آ گری، دھماکا ہوا اور انجا چھت کے نیچے دب گئی، ریلوے سٹیشن کی کنکریٹ کی کنوپی ناقص تعمیراتی مٹیریل کی وجہ سے گر گئی تھی جس کے نتیجے میں 14 لوگ فوراً ہلاک ہو گئے جب کہ انجا اور ایک اور بزرگ شدید زخمی ہو گئے (ٹوٹل 16 ہلاکتیں ہوئیں)۔

انجا کو کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد ملبے سے نکالا گیا، وہ زندہ تھی، اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ 17 دن موت اور حیات کی کشمکش میں رہ کر فوت ہوگئی، انجا کا علاج ناوی ساد کے ہسپتال میں ہو رہا تھا، بلغراد یونیورسٹی کے طالب علم انجا کے علاج کے دوران ہسپتال کے سامنے اکٹھے ہوئے اور سٹیشن کی ناقص تعمیر پر احتجاج شروع کر دیا، یہ احتجاج آہستہ آہستہ سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک بن گیا اور پورے ملک کے طالب علم ہسپتال کے سامنے اکٹھے ہوتے چلے گئے، سٹوڈنٹس حکومت سے واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے، یہ مطالبہ انجا کی موت کے بعد ملک گیر ہوگیا اور طالب علم اس ڈیمانڈ کے ساتھ جڑتے چلے گئے۔

سربیا کی حکومت بھی تیسری دنیا کی حکومتوں کی طرح سست اور کرپٹ تھی، اس نے اس مظاہرے کو سیریس نہیں لیا لیکن یہ معاملہ وقت کے ساتھ ساتھ سیریس ہوتا چلا گیا، پورے ملک سے لوگ کرپشن کی داستانیں طالب علموں کو بھجوانے لگے اور سٹوڈنٹس انہیں سوشل میڈیا پر اٹھانے لگے، حکومت پر دبائو بڑھتا چلا گیا، یکم نومبر 2025ء کو ناوی ساد کے حادثے کی پہلی برسی تھی، طالب علموں نے عوام سے اپیل کی اور پورے ملک میں احتجاج کی نئی لہر شروع ہوگئی، طالب علموں نے اس احتجاج کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا، انہوں نے سٹوڈنٹ لسٹ کے نام سے ایک انوکھی سیاسی جماعت بنا لی۔

اس جماعت کی تین خوبیاں تھیں، ایک، یہ بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ نہیں کرائی گئی لہٰذا یہ ایک ایسی سیاسی جماعت تھی جو بڑی سیاسی طاقت ہونے کے باوجود سیاسی جماعت نہیں تھی، دو، سٹوڈنٹ لسٹ کا کوئی لیڈر، کوئی انتظامی عہدیدار نہیں تھا، یہ فیصلہ ہوا سٹوڈنٹ لسٹ کا کوئی صدر یا جنرل سیکرٹری نہیں ہوگا، کیوں؟ کیوں کہ طالب علموں کا خیال تھا ہم نے اگر اس کا دفتر اور انتظامیہ بنا لی تو پھر ہم بھی بہت جلد روایتی سیاست دانوں جیسے ہو جائیں گے جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور تین، یہ فیصلہ ہوا پارٹی میں شامل کوئی طالب علم الیکشن نہیں لڑے گا، یہ خود کنگ نہیں بنیں گے، یہ صرف کنگ میکر رہیں گے۔

یہ بظاہر بچوں کا کھیل محسوس ہو رہا تھا لہٰذا روایتی سیاسی جماعتوں نے اسے مذاق سمجھ کر مسترد کر دیا لیکن معاملہ وقت کے ساتھ ساتھ سیریس ہوتا چلا گیا، طالب علموں نے 2026ء کے وسط تک پورے ملک سے 250 اعلیٰ تعلیم یافتہ، پروفیسرز، ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ایکسپرٹ، کھلاڑی، اداکار، فن کار اور سائنس دان اکٹھے کیے اور انہیں اکتوبر 2026ء کے الیکشنز میں کھڑا کر دیا، طالب علموں نے سوشل میڈیا کو ان امیدواروں کی الیکشن مہم کے لیے استعمال کیا، سیاسی جماعتوں نے اس کو بھی زیادہ سیریس نہیں لیا لہٰذا سیاست دان ووٹوں کے لیے دروازوں پر دستک دیتے رہے جب کہ سٹوڈنٹس موبائل فونز کی سکرینز کے ذریعے ووٹروں تک پہنچتے رہے۔

آج سے چند دن قبل 25 اکتوبر کو الیکشن کے نتائج نکلے اور پوری دنیا حیران ہوگئی، سٹوڈنٹ لسٹ کے 250 امیدواروں میں سے 140 الیکشن جیت گئے، کام یاب ہونے والوں میں سے آدھے پی ایچ ڈیز ہیں جب کہ باقی اعلیٰ پائے کے ڈاکٹرز، انجینئرز اور معاشی ماہر ہیں، سٹوڈنٹ لسٹ نے ٹوٹل 160 پی ایچ ڈیز کو الیکشن میں کھڑا کیا تھا، الیکشن جیتنے والوں میں مشرقی یورپ کے سب سے بڑے کارڈیالوجسٹ اور میڈیکل پروفیسر ڈاکٹر علیجا سر ڈانویک (Ilija Srdanovic)، آرگینک کیمسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر راڈومیرے ساسیک اور معاشی ماہر اور سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر ڈی جان بھی شامل ہیں یوں یہ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے جس میں اسٹرو فزکس، الیکٹریکل انجینئرنگ، آرگینک کیمسٹری، سوشیالوجی اور اکنامکس کے ماہرین ہیں۔

الیکشن کے اس رزلٹ نے پوری دنیا کو حیران کر دیا یہاں تک کہ 29 اکتوبر کو دنیا کے مشہور میگزین سائنس نے "دنیا کی شان دار ترین پارلیمنٹ" کی سرخی لگائی، یہ واقعی دنیا کی پہلی انتہائی پڑھی لکھی پارلیمنٹ ہے۔ سٹوڈنٹ لسٹ کے پاس 250 ارکان کی پارلیمنٹ میں 140 سے 145 ارکان ہیں لہٰذا یہ بڑی آسانی سے حکومت بنالے گی، سٹوڈنٹ نے 53 فیصد ووٹ لے کر ملک میں ریکارڈ بھی قائم کر دیا ہے، یہ پارلیمنٹ اور حکومت انتظامی لحاظ سے کیسی ہوگی؟ یہ آج کا بڑا سوال ہے، ماہرین کا خیال ہے اگر اس نے پرفارم کر دیا تو پھر پوری دنیا میں روایتی سیاست کا مزاج بدل جائے گا لیکن اگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا تو پھر ثابت ہو جائے گا کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے اور کافی شاپس میں گپ بازی اور بدترین سماجی حقائق میں بہت فرق ہوتا ہے اور کوئی سوشل میڈیا انقلاب اس فرق کو پاٹ نہیں سکتا، دربار میں اگر ملک کے 9 اعلیٰ ترین دماغ (نورتن) بھی موجود ہوں تو بھی بادشاہ صرف ان پڑھ اکبر ہی رہتا ہے، اکبر اہم ترین ہوتا ہے یا نورتن یہ فیصلہ بہرحال آنے والے چند ماہ یا برسوں میں ہو جائے گا تاہم یہ حقیقت ہے سوشل میڈیا ایک نئی انتخابی طاقت بن چکا ہے اور قوموں کا مقدر اب اس کے ہاتھ میں ہے۔

ہم اگر سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں چند ماڈلز کا مطالعہ کرنا ہوگا، پہلا ماڈل ڈونلڈ ٹرمپ، نریندر مودی اور عمران خان ہیں، یہ تینوں ایوریج اور انتظامی لحاظ سے نالائق انسان ہیں لیکن یہ تینوں اس کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعے اقتدار میں آئے اور پورے سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا چناں چہ آج دنیا میں بحث ہو رہی ہے ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد امریکا، نریندر مودی کے بعد انڈیا اور عمران خان کے بعد پاکستان کی کیا حالت ہوگی؟ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سمجھ دار نکلی، اس نے ساڑھے تین سال بعد ہی بریکس لگا دیں ورنہ ملک آج وہاں ہوتا جہاں سے اسے نکالنا ناممکن ہوتا۔

نریندر مودی تیسری بار وزیراعظم بن چکا ہے، یہ 12برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی سکولر سٹیٹ کو متعصب ہندو ریاست تک لے آیا ہے، یہ دو بار دو نیوکلیئر پاورز کو نیوکلیئر بٹن تک بھی لے آیا تھا چناں چہ مودی کے بعد بھارت میں خانہ جنگی ہو جائے گی اور پیچھے رہ گیا ڈونلڈ ٹرمپ تو یہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ تک گھسیٹ لایا ہے، دنیا میں کسی بھی وقت ایسی جنگ سٹارٹ ہو جائے گی جس کا خاتمہ دنیا کا خاتمہ ثابت ہوگا، ہم اگر اس فہرست میں یوکرائن کے صدرولادمیر زیلنسکی کو بھی شامل کر لیں تو یہ نمونہ بھی اپنے ملک کو کھنڈر تک پہنچا چکا ہے، یہ وہ ناتجربہ کار اور جذباتی لوگ ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے حکمران بنے اور ملکوں کا جنازہ نکال دیا، دوسرا ماڈل، مصر کے طالب علموں نے جنوری 2011ء میں فیس بک کے ذریعے التحریر سکوائر میں احتجاج شروع کیا اور وہ احتجاج حسنی مبارک کے 30برس کے اقتدار کو نگل گیا۔

اس سے قبل تیونس میں دسمبر 2010ء میں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان اکٹھے ہوئے اور صدر زین العابدین (بن علی) کی 28سالہ حکومت ختم ہوگئی، لیبیا میں نوجوانوں نے فروری 2011ء میں تحریک شروع کی اور کرنل قذافی کا 32 سال کا اقتدار ختم ہوگیا اور بنگلہ دیش میں جولائی 2024ء میں نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک شروع کی اور یہ حسینہ واجد کا 15 سال کا اقتدار نگل گئے، یہ دوسری مثال ہے، اس میں ایک آمر یا لمبی حکومت کی جگہ دوسری لمبی حکومت اور ڈکٹیٹر نے لے لی یا پھر لیبیا کی طرح پورا ملک ہی برباد ہوگیا اور تیسرا ماڈل تازہ ترین ہے، انڈیا میں 15مئی 2026ء کو چیف جسٹس سوریاکانت نے بھری عدالت میں نوجوان نسل کو "کاکروچ" قرار دے دیا، اس کے جواب میں امریکا میں زیرتعلیم مہاراشٹرا کے ایک نوجوان ابھی جیت دیپکے نے16 مئی کو ایک طنزیہ پوسٹ کے ذریعے ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے اکائونٹ بنایا اور اس اکائونٹ کے 72 گھنٹوں میں تین ملین فالورز ہو گئے۔

حکومت کا خیال تھا کاکروچ صرف سوشل میڈیا تک محدود رہیں گے، ہمیں ان سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا لیکن پھر میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے چند پیپرز لیک ہوئے اور کاکروچ پارٹی کے نوجوانوں نے دہلی میں تباہی مچا دی، نریندر مودی اس قدر دبائو میں آ گیا کہ یہ اپنے وزیر تعلیم دھرمیندرا پرادھان کا استعفیٰ لینے پر مجبور ہوگیا، انڈین کاکروچ اب الیکٹورل ریفارمز کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور نریندر مودی کو بالآخر یہ مطالبہ بھی ماننا پڑے گا اور تازہ ترین نتیجہ سربیا کی "سٹوڈنٹ لسٹ" ہے، اس نے دو ماہ کی سوشل میڈیا کمپیئن کے ذریعے 250 کے ایوان میں 140 پروفیسرز پہنچا کر دنیا کو حیران کر دیا۔

ہم اگر 2015ء سے 2026ء کے دوران ہونے والے واقعات کا تجزیہ کریں تو ہمیں ماننا پڑے گا آج کی دنیا کی یوتھ زیادہ "فوکس" ہوتی چلی جا رہی ہے اور یہ چند برسوں میں پوری دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی، پاکستان میں بھی دو ہفتوں میں پانچ حیران کن واقعات پیش آئے ہیں، یہ پانچوں سوشل میڈیا کی پیداوار ہیں اور انہوں نے پورا سسٹم ہلا کر رکھ دیا، پہلا واقعہ ملتان میں 14 سال کے لڑکے وسیم عباس کی ہلاکت تھا، اسے اس کے ٹھیکے دار توقیر نذیر نے گاڑی کے نیچے کچل دیا، اسلام آباد میں لائبہ اعجاز نام کی لڑکی نے خودکشی کر لی، اسے محمد نعمان نے بیرون ملک تعلیم کا لالچ دے کر لوٹ لیا تھا، تیسرا واقعہ لاہور میں پٹرول بوائے کو تھپڑ تھا، چوتھا واقعہ لاہور میں سکوٹی پر سوار لڑکی پر تشدد تھا اور پانچواں واقعہ حیدر آباد میں سڑک کے درمیان کھمبوں کی فوٹیج تھی۔

یہ واقعات چھوٹی چھوٹی ویڈیوز کی شکل میں سوشل میڈیا پر آئے اور پورے سسٹم کو دیوار کے ساتھ لگا دیااور حکومت چند گھنٹوں میں ایکشن لینے پر مجبور ہوگئی، یہ ٹرینڈ ثابت کرتا ہے پاکستان کی یوتھ بھی اب سیاسی تقریروں کی بجائے ایشوز پر شفٹ ہو رہی ہے، یہ شفٹنگ الارمنگ ہے، اب اگر اس کے ساتھ سربیا کا نیا ماڈل کام یاب ہو جاتا ہے تو پھر وہ وقت دور نہیں جب دنیا کے زیادہ تر ملکوں میں سٹوڈنٹ لسٹ تیار ہوں گی اور آج کے تمام سیاسی خاندان اور پولیٹیکل پارٹیز ماضی کا قصہ بن جائیں گی لہٰذا تیاری کر لیں اور یہ سوچ لیں وہ سسٹم جو مسٹر پتلو کا مقابلہ نہیں کر پا رہا وہ جینوئن سٹوڈنٹ لسٹ کے سامنے کیسے کھڑا ہوگا؟

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.