مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ جنرل ضیاءالحق کا مارشل لا پاکستان کا سیاسی، سماجی اور مذہبی ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ضیا الحق نہ آتے تو اسی، نوے کی دہائی سے آج تک کا پاکستان بہت مختلف ہوتا۔ اس دور کی ہاتھوں سے لگائی بہت ساری گانٹھیں آج تک دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہے۔ ضیاءالحق کے پاکستان کے دفاع میں بھی بہت سارے دلائل موجود ہیں کہ پاکستان بنا ہی اسلام کے نام پر تھا اور یہ کہ ہم افغانستان میں مزاحمت کو مضبوط نہ کرتے تو روسی کراچی کے سمندر تک پہنچ جاتے مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ضیاءالحق کے اسلام نے ملا کو مضبوط کیا اور امن کو کمزور۔ ہمیں فرقہ واریت ملی اور اس کی بنیاد پر تقسیم، نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردی۔
پرویز مشرف دائیں بازو کے حکمران نہیں تھے مگر انہوں نے بھی ملا کا استعمال کیا تاکہ اپنی آمریت کو جائز قرار دے سکیں۔ میرے خیال میں ان کی جتنی خدمت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے غداروں نے کی اس سے کہیں زیادہ مولویوں نے۔ یہ ایک بالواسطہ استعمال تھا اور ان سے بھی ملا ازم نے سیاسی اور سماجی طاقت کشید کی۔ مگر آج ایک حافظ قرآن آرمی چیف ہے جس نے بھارت کو شکست دی۔ غزہ اور ایران میں امن کے لئے کردار ادا کیا اور اس کا اسلام بارے ویژن بالکل مختلف ہے۔ وہ اپنے قومی مقاصد کے لئے ملا کا استعمال نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس کا ویژن فرقہ واریت نہیں بلکہ اس سے بالاتر ہو کے امت کا اتحاد ہے وہ وہابی سعودی عرب کو شیعہ ایران کے ساتھ لڑتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا۔ وہ جنوبی ایشیا میں بیٹھ کے مشرق وسطیٰ میں امن چاہتا ہے۔
یہی وہ فرق ہے جو ضیاءالحق اور سید عاصم منیر کے اسلام کے درمیان ہے کہ ایک کے دور میں سپاہ محمد اور سپاہ صحابہ بنتی ہیں اور دوسرے کے دور میں سعودی اور ایرانی قریب آتے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف بھی مذہب کی بجائے صرف خدمت اور کارکردگی کو سیاست کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں اور یوں ایک پہلے سے مختلف ٹیم وجود میں آتی ہے۔
پھر غور کیجئے، ضیاءالحق کے اسلام اور حافظ عاصم منیر کے اسلام کے فرق میں۔ ایک نے تقسیم دی، دوریاں دیں، کافر کافر کے نعرے دئیے، فرقہ واریت دی، تشدد دیا اور دوسرے نے اتحاد امت، امن اور اللہ کی اس رسی کا تصور کو تھام لینے سے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ کہنے دیجئے، اسلام کے اس تصور نے ملا کی مارکیٹ گرا دی ہے وہ مارکیٹ جو ضیاءالحق کے اسلام کے بعد عروج پر پہنچ گئی تھی۔ پرویز مشرف دور کے بعد عمران خان، ضیاالحق والے سیاسی اسلام کے استعمال والی آخری پراڈکٹ کہہ سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ آج کی فوجی اسٹیبلشمنٹ طالبان کو استعمال نہیں کرنا چاہتی لہٰذا ان کی بروکری کی اہمیت ختم ہوگئی ہے۔ ان کی مارکیٹ گر گئی ہے حالانکہ ابھی کچھ عرصہ پہلے رضوی صاحب لانچ ہوئے تھے اور وہ پروجیکٹ بھی کامونکی میں لپیٹ دیا گیا۔ انہیں حافظ عاصم منیر کے اسلام کے ویڑن کو سمجھنا ہوگا کیونکہ وہ بازار بند ہو گئے جہاں یہ اپنا مال بیچا کرتے تھے۔
میرے نزدیک اسلام کا یہ ویژن قائداعظم والا ہے۔ وہ مولوی نہیں تھے مگر انہوں نے تحریک خلافت کی حمایت کی تھی اور اسرائیل کے وجود کی مخالفت۔ انہوں نے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کو چھت، عزت، تحفظ، حکومت اور ریاست سب عطا کر دیئے تھے۔ ان کی لمبی داڑھی نہیں تھی اور شلوار ٹخنوں سے اوپر نہیں تھی مگر ان کا اسلام اور مسلمانوں بارے ویژن ابوالکلام آزاد اور اس جیسے مولویوں سے بہت بہت بہت بہتر تھا، مجھے لگتا ہے کہ ہم اس ویژن کی طرف واپس لوٹے ہیں۔ ترکی، ملائشیا، انڈونیشیا کی طرح آپس میں لڑتے جھگڑتے، اک دوجے کے لئے کافر کافر کے نعرے لگاتے، ملا کے اسلام کی رخصتی مبارک ہو۔ اسے خداحافظ کہنے کا وقت آ گیا۔
عمران خان ہو، شوکت نواز میر ہو، ماہ رنگ بلوچ ہو، فضل الرحمن ہو یا کوئی بھی دوسرا۔ اسے ماضی کے فوج کے سربراہان اور موجودہ فیلڈ مارشل کے درمیان ایک فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے جب وہ ان سے"مقابلہ" کرنے جا رہے ہوں۔ اس فرق کو بیان کرنے سے پہلے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ موجودہ آرمی چیف آج تک کسی صحافی کو نہیں ملے یعنی شہرت کی کوئی خواہش نہیں۔ ملک ریاض سمیت کسی پراپرٹی مافیا سے نہیں ملے یعنی پلاٹ نہیں چاہئے۔ سرحد بند کر دی اور سمگلنگ بھی یعنی مال نہیں چاہئے۔
اب ایک دوسرے پہلو پر آ جائیں کہ انڈیا تو ہے ہی دشمن حملہ کیا تو اندر تک گھس کے مارا، حملہ آور کو چائے پلا کے واپس نہیں بھیجا۔ ایران اور افغانستان کی مثالیں بھی ہیں کہ حملہ کرو گے تو گھر کے اندر گھس کے ماریں گے اور ایسا ماریں گے کہ دیر تلک زخم سہلاتے رہو گے۔ لغت میں نہ سرنڈر ہے نہ معافی۔ ایک تیسرے پہلو پر آ جائیں کہ حافظ قران ہیں، ذاتی طور پر اتنے بہادر اور اتنے کلیئر کہ اپنے وقت کے آرمی چیف کے پیارے اور راج دلارے وزیراعظم کے سامنے جا کے فائلیں رکھ دیں کہ تمہاری بیوی اور اس کی ایجنٹ کرپشن کر رہی ہے اسے روکو، یہ کہتے نہ نوکری کا ڈر رکھا نہ زندگی کا۔ بس جو حق سمجھا اس پر ڈٹ گئے۔
اب چوتھے پہلو پر آ جائیں کہ اکھڑ فوجی تو ہیں ہی مگر اس کے ساتھ بلا کے معاملہ فہم اور سفارتکار بھی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر مسعود پزشکیان تک کو گرویدہ کر رکھا ہے تو بھائی کہنا یہ ہے کہ مقابلے پر آنے سے سوچ لیں۔ آپ ضیاالحق سے پرویز مشرف اور قمر جاوید باجوہ تک جس ٹیم کے ساتھ کھیلنے کے ماہر تھے وہ ٹیم نہیں رہی، وہ وکٹ نہیں رہی، یہ ٹیم ٹی ٹوئنٹی کھیلتی ہے، یہ وکٹ باونس کرتی ہے۔ سمجھانا تھا کہ جو انڈیا، اسرائیل، ایران اور افغانستان کو خاطر میں نہیں لایا کیا وہ تم سے ڈرے گا؟
جس نے بائیس وہیلر پر ریس جیت لی تم تو اس کے سامنے چنگ چی ہو۔ ذرا اکھاڑے میں اترنے سے پہلے ٹھہرو، تم سے پہلے جو مقابلے میں اترے ان کا حال دیکھ لو ایسا نہ ہو کہ ہم تمہیں بھی پہلوں کی طرح ڈھونڈتے رہ جائیں، تمہاری صورت دیکھنے، تمہاری آواز سننے کو ترستے رہ جائیں اور ہاں، انڈیا، ایران اور افغانستان سے عمران خان تک، ان سب کی طرح، پنگا تم نے پہلے لیا ہے، حملہ تم نے پہلے کیا ہے۔ مفت کا مشورہ ہے اگر سمجھ آ جائے تو!