Monday, 22 June 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Yahan Kon Puchta Hai

Yahan Kon Puchta Hai

بزم طارق کے میزبان طارق عزیز نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ایک سفر سے وطن لوٹ رہے تھے، انکے ہم سفر نے مغربی دینا کے قصیدے پڑھنا شروع کئے اور زور اس بات پر تھا کہ لوگ کیسے قانون کی پابندی کرتے ہیں، ان کے اجتماعی اقدامات کس قدر قابل رشک ہوتے ہیں۔

مرحوم نے بتایاکہ جونہی ائر پورٹ سے وہ مسافر باہر نکلا اس نے سگریٹ سلگائی اور کش لگاتا رہا بقیہ حصہ فرش پر پھینک دیا، طارق عزیز اس سے مخاطب ہوئے جہاز میں آپ قانون کی پاسداری پر لیکچر دیتے رہے یہ حرکت کس زمرے میں آتی ہے، وہ گویا ہوئے کہ "یہاں کون پوچھتا ہے"۔

راقم کو فیصل آباد میں پتنگ کی ڈورکا شکار ہونے والے نوجوان کی المناک موت سے یہ واقعہ یاد آیا ہے، کس طرح کسی ماں کا لخت جگر پتنگ باز کی اندھی ڈور گلے میں پھرنے سے بے دردی سے ہلاک ہوا تھا۔ اس بدعت کا آغاز روشن خیال طبقہ نے زندہ دلان لاہور سے کیا، وہ عہد تھا جب لاکھوں افراد بسنت کے نام پر تفریح منانے لاہور کارخ کرتے، آتش بازی، ہوائی فائرنگ، ڈھول کی تھاپ پررقص اس کے بنیادی لوازمات تھے، بعد ازاں اس تفریح نے خونی کھیل کا روپ دھار لیا، محتاط اندازے کے مطابق اب تلک سینکڑوں افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہو چکے ہیں، یہ پہلاواقعہ نہیں تھا، تاہم ہر بار سرکار کا رد عمل ایک جیساہی رہا ہے، دفعہ 144کا نفاذ اور پکڑ دھکڑ، پولیس ملازمین کی معطلی وغیرہ، امسال وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے ذوق کے لئے لاہور میں بسنت منانے کی ایک بار پھر اجازت دی، تمام تر احتیاط کے باوجود گلے میں ڈور پھرنے کے واقعات اس لئے رونماء ہوئے کہ قانون کا احترام نہ کیا گیا۔

کروڑوں کی آبادی میں نہ تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر گلی، محلہ اور فرد پر نظر رکھ سکتے ہیں نہ ہی یہ ممکن ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر سنگین واقعہ کے بعد سماج کے افراد اور قانون متحرک ہوتے ہیں، آگاہی مہم چلائی جاتی ہے تاہم ہرلاقانونیت اس بات کی مصداق بنتی ہے کہ "یہاں پوچھتا کون ہے"، ہم شاہد ہیں گنے کے سیزن میں ٹرالیوں کی آمدورفت انتہائی غیر محفوظ ہوتی ہے، یہی رویہ بھوسہ توڑی کی ترسیل میں اپنایا جاتا ہے، رات کی تاریکی میں یہ" واردات" ڈالی جاتی ہے تاکہ قانون کی نظر سے بچ سکیں، مالکان بخوبی جانتے ہیں انکی روش کسی کی جان لے سکتی ہے، یہ جان اگر ان کے گھر کے فرد کی ہو تو پھر بھی ان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہوگا؟ اہم سوال یہ ہے۔

غلط سمت میں گاڑی، موٹر سائیکل چلانے والے اکثر حادثات کا شکار ہوتے ہیں، ریسکیو ذرائع بتاتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر موٹر سائیکل اور رکشوں کے سینکڑوں حادثات ہوتے ہیں، زیادہ زور چالان کرنے پر دیا جاتا ہے، مگر ٹریفک کی روانی کے لئے ٹریفک انجینئرنگ کے اصولوں کی پاسداری نہیں کی جاتی، نہ ہی ڈرائیور حضرات اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں، حادثہ کی صورت الزام تراشی کا آغاز کیا جاتا ہے۔ سابقہ موسم گرما میں ایک نجی کمپنی کی بس موٹر وے پر حادثہ کا شکار ہوگئی، نتیجہ کے طور پر ہلاکتیں ہوئیں یہ راولپنڈی سے سرگودھا جارہی تھی، بعد ازاں معلوم ہوا، اسکی بریک میں نقص تھا مگر ڈرائیور نے غفلت کا مظاہر ہ کیا یہ سوچ کر گاڑی چلا دی کہ اسکی مرمت سرگودھا جاکر کروالیں گے مسافروں سمیت وہ موت کے منہ میں چلا گیا، یہاں سرکار کیا کرے؟

چند سال قبل ایک فوکر طیارہ ملتان سے پرواز کے بعد فوراً گر کر تباہ ہوگیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں خرابی کا پہلے سے علم تھا، خرابی کو معمولی قرار دے کر جہاز روانہ کردیا، یہ پانچواں حادثہ تھا، مجموعی طور پر 168افراد مذکورہ طیاروں کی نذر ہوگئے پہلا حادثہ1970 میں پیش آیا تھا۔ پی آئی اے کی انتظامیہ خرابی کو معمولی سمجھ کر طیارہ کو پرواز کی اجازت نہ دیتی، تو عین ممکن حادثہ ہوتا مگر ان کے ذہن کو کامل یقین تھا کہ یہاں کون پوچھے گا، تبھی ایسی غفلت کا مظاہرہ ہوا۔

ریلوے حادثات کا ہونا بھی ایک معمول ہے، اس لئے کہ یہاں انسان کی کوئی قدرو قیمت نہیں، تاج برطانیہ کے عہد سے قائم ٹریک پر آئے روز ٹرینیں ڈی ریل ہوتی ہیں، مسافر ہلاک زخمی ہوتے ہیں، وزیر ریلوے نے اخلاقی طور پر ان حادثات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ کی بات نہیں کی، مہذب ممالک میں اس غفلت کو سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، شائد وزیر سمجھ بیٹھے ہیں کہ انہیں کون پوچھ سکتا ہے، اس لئے حادثات کا عمل بھی جاری ہے۔

، فوڈ اتھارٹی کے قیام کے باوجود اب بھی غیر معیاری، بوسیدہ کھانے پینے کی چیزوں سے اموات ہورہی ہیں، ملاوٹ کی بدولت دھیرے دھیرے بچے، بڑے موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں، کیا یہ جرم کسی حادثہ یادھات کی ڈوری سے گلہ کٹنے سے کم ہے؟ المیہ یہ ہے کہ ناقص اشیاء کھانے سے اموات بھی ہو رہی ہیں اور ادارے کام بھی کر رہے ہیں۔

کل ہی بات ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 22سالہ طالب علم کی کنٹین سے کھانا کھانے کے بعد کولڈ ڈرنک پیتے ہی طبعیت خراب ہوئی، ہسپتال پہنچ کر وہ جانبر نہ ہوسکا، کیا جامعہ پر ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اس خاندان کو حرجانہ ادا کرے جسکی غفلت سے ان کا لخت جگر جان سے گیا۔ محض کنٹین سیل کر دینا کافی نہیں ہے، مگر انتظامیہ جانتی ہے کہ رعایا کی کیا جرات کہ ان سے پوچھ سکے۔

سماج میں افراتفری اور لا قانونیت اس بات کی مصداق ہے، کہ عوامی سطح پر غیر اعلانیہ طور یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ یہاں کون پوچھتا ہے، کیونکہ ارباب اختیار جنہوں نے قانون کی پاسداری کرنا تھی وہ اس فعل سے کوسوں دور ہیں، حد تو یہ ہے کہ قانون کے رکھوالے بھی اسکی پاسداری کو خاطر میں نہیں لاتے، عدلیہ اور بار کونسل کی صورت حال نوشتہ دیوار ہے۔

وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے خریدا گیا مہنگا ترین طیارہ بھی موضوع بحث ہے، کہاجاتا ہے کہ ریاست کی ضرورت کے لئے بانی پاکستان کی موجودگی میں سفری طیارہ خریدنے کی ضرورت پیش آئی تو قائد اعظم نے تمام تر تقاضے پورے کرنے اور قومی خزانہ پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایات دی تھیں، ہرچند ان کی با اصول شخصیت پر کسی قسم کا بھی گمان نہیں تھا مگر وہ سمجھتے تھے کہ یہ عوام کا پیسہ ہے اس کا ضیاع نہ ہو، محترمہ کے ذہن میں یہی سمایا ہوگا کہ یہاں کون پو چھتا ہے، ورنہ وہ طیارہ خریدنے کی بجائے ان کڑووں بچوں کی فکر کرتیں جو تعلیمی اداروں سے باہر ہیں۔

تمام تارکین وطن جب اس سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو قانون کا احترام اور ضابطے وہیں چھوڑ آتے ہیں، یہی رویہ ارباب اختیار کا ہے، اس کا اثر یہ ہے کہ ہر غیر قانونی کام پر بے ساختہ عوام کی زبان سے نکلتا ہے کہ یہاں کون پوچھتا ہے، مغربی معاشروں اور ہماری ریاست میں یہی فرق ہے کہ وہاں مقتدر طبقہ قانون کا احترام اس لئے کرتا ہے کہ عوام بھی اس کا احترام کریں گے۔