Saturday, 06 June 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Haq Do Awam Ko, Badal Do Nizam Ko

Haq Do Awam Ko, Badal Do Nizam Ko

جماعت اسلامی کے چھٹے امیر کی حیثیت نے حلف اٹھا کر محترم حافظ نعیم الرحمان نے انقلابی اقدامات کرنا شروع کردیئے، عروس البلاد سے زندہ دلان لاہور کا رخت سفر باندھنے والے حافظ نعیم الرحمان نئی وضع وقطع کے آدمی ہیں، کراچی میں مظلوموں کی آواز بن کر شہرت پانے والی اس معتبر ہستی نے اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوایا، اراکین نے پوری جماعت اسلامی ان کے حوالہ کردی، غزہ کا معاملہ یامسئلہ کشمیرہو امیر جماعت کا یہی پیغام ہے کہ جہاد اور مزاحمت میں عزت ہے، جو باطل کے سامنے دب اور لیٹ جاتے ہیں انکی دنیا میں نا کوئی عزت ہے نہ ہی آخرت میں حصہ، عصر حاضر میں ایران، امریکہ جنگ اسکی عمدہ مثال ہے۔

امیر جماعت اسلامی ہر سیاسی میٹنگ میں مستقبل کا لائحہ عمل دیتے ہوئے واضع کر رہے ہیں، اپنے نشان اور جھنڈے پر انتخابی میدان میں اتریں گے، ہم نے اتحادی سیاست دفن کردی، انھوں نے نسل نو کو جماعت اسلامی میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ روشن مستقبل آپ کا ہے، مایوس نہ ہوں، اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی 10لاکھ نوجوانوں کو "بنو قابل" پروگرام کے تحت آئی ٹی کی ٹریننگ دے گی، یہ سلسلہ کامیابی سے کراچی کے علاوہ دیگر شہروں حتیٰ کشمیر میں جاری ہے۔

محترم حافظ نعیم الرحمان کا امتیاز ی وصف یہ ہے کہ انھوں نے زبانی، کلامی متاثرہ اور مظلومین کی حمایت کا دعوی نہیں کیا بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی دیا اور متاثرین کی جائداد کے پیسے ایسے طاقتور افراد اور ادارہ سے نکلوا کردیئے جن کے سامنے بڑے سورماؤں کا پتا پانی ہو جاتا ہے، وجہ اس کی دیانت دار قیادت اور کردار سازی جماعت اسلامی کی میراث ہے، جس کو طاقتور حلقے بھی خریدنے سے قاصرہیں۔

جو بھی امراء جماعت اب تلک اسکی قیادت کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، معاملہ فہم اور صاحب کردار رہے، جماعت اسلامی کی جمہوری اقدار، صلاحیتوں کا اعتراف مخالفین بھی کرتے ہیں، پاکستان کی یہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کا اتنا بڑاہیڈ کوار ٹر، مرکزی دفتر منصورہ میں ہے۔ پہلے امیر محترم بانی جماعت سید مودودی نے ا س کے خدو خال جوطے کئے اور دستور بنایا اس پر جماعت کے امراء اراکین عمل پیرا ہیں، محترم میاں طفیل محمد نے بھٹو کے فسطائی ہتھکنڈوں کا جہاں مقابلہ کیا وہاں جہاد افغانستان کے صبر آزماء دور سے بھی گزرے۔

قاضی حسین احمد بذات خو دجہاد افغانستان میں شریک ہوئے، امت مسلمہ، مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے وہ بہت حامی تھے، انھوں نے الخدمت فاونڈیشن، غزالی ٹرسٹ، ادارہ معارف اسلامی جیسے ادارے بنائے، محترم سید منور حسن نے افغانستان پر امریکی قبضہ کے تناظر میں گو امریکہ گو تحریک چلائی، کیری لوگر بل کی متنازعہ شقوں کے خلاف رائے عام ہموار کی، لاپتہ پاکستانیوں کی باز یابی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے اورسی ٹی بی ٹی پالیسی کے خلاف متحرک رہے۔

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کا اپنی خود نوشت میں اعتراف کہ پاکستان کی واحد پارٹی جماعت اسلامی انکی رہائی میں اہم رکاوٹ تھی۔

جبکہ موجودہ امیر جما عت اسلامی نے لاہور میں منعقدہ ا جتماع عام کے موقع پر انہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کئے لئے نیا سلوگن "حق دو عوام کو بدل دو نظام کو" دیا ہے، رائے عامہ کے لئے ملک بھر میں ممبر سازی مہم کاسلسلہ بھی جاری ہے، وہ لوگ جو اس فرسودہ نظام کے خلاف عوامی جدو جہد پر یقین رکھتے ہیں خواہ کسی بھی، فرقہ، جماعت، عقیدہ، گروہ سے ان کا تعلق کیوں نہ ہو وہ جماعت کے ممبر بن سکتے ہیں، کم از کم سوشل میڈیا پر وہ اس جبر ظلم کے خلاف آواز تو اٹھا سکتے ہیں، جو اشرافیہ نے سماج پر روا رکھا ہوا ہے، ممبر سازی کا مطلب غیر آئینی طریقہ کی بجائے عوامی حمایت سے ریاست میں مثبت تبدیلی لائی جائے جو دیر پا بھی ہو، حق دوکراچی کو" جس تحریک کا آغاز کراچی سے ہوا تھا اب وہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

محترم حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ آمرو ں کو ڈیڈی کہنے، انکی نرسریوں میں پروان چڑھنے، سپہ سالار کو باپ ماننے، سلیکٹڈ کی گردان کرنے والے کس منہ سے جماعت کو انتخابی ناکامی کا طعنہ دیتے ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ وصیت، وراثت اور خاندانوں کی بنیاد پر سیاسی پارٹیاں چلانے والے اور الیکٹیبل کے آسیر بتائیں کہ پاکستان کے لئے کون سا اچھا کام انہوں نے کیا ہے؟ پوری قوم قرضوں میں غرق ہے خود مگر وہ خوشحال ہیں، تینوں پارٹیوں نے خود انحصاری کی بجائے ہاتھ میں کشکول تھا مے ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کی ہے"تبدیلی" کے نام پر جو ڈرامہ رچایا گیا وہ بری طرح فلاپ ہوا ہے، جماعت اسلامی سہارا دینے اور لینے والوں کو بے نقاب کرے گی، متحدہ پاکستان کے لئے جماعت کی قربانیوں کا تذکرہ وہ کیوں نہیں کرتے؟ اس لئے ان کے دامن حب الوطنی کے ان پھولوں سے خالی ہیں۔

ہمارا دعویٰ ہے اگر مشرقی پاکستان میں صاف اور شفاف انتخاب ہوتے تو آج کا جغرافیائی منظر نامہ بالکل مختلف ہوتا، وہاں شورش اپنی موت آپ مر جاتی مگر عالمی منصوبہ سازوں کو یہی مطلوب تھا، مقام شکر ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی ایک پھر سرخرو ہوئی ہے، ظلم اور جبر عوام کا راستہ روکنے میں ناکام رہا، آج وہ پارلیمنٹ میں بڑی پارٹی اور اپوزیشن لیڈ جماعت اسلامی کا ہے۔

پلڈاٹ نے جماعت اسلامی کے پارلیمنٹرین کی کارکردگی کو ہمیشہ سراہا ہے، انھو ں نے محض مراعات لینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ قانون سازی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

وہ برملا فرماتے ہیں کہ ریاست میں وسائل کی کمی نہیں مایوسی پھیلانے والے ملک دشمن ہیں، عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کاروں نے ملک کو یرغمال بنایا ہے قوم کے پاس جماعت اسلامی ہی بہترین آپشن ہے، کیونکہ جماعت اسلامی باصلاحیت، ایماندار قیادت کی حامل، مظلوم کی حامی اور تمام تر تعصبات سے بالا تر ہے، دہشت گردی عالمی طاغوت کے خلاف ہمیشہ سینہ سپر رہی ہے، رخصت ہونے والے امراء نے خوش دلی اپنے اختیارات نئے امراء کو منتقل کئے ذمہ داری لینے والوں نے بھیگی آنکھوں سے انھیں قبول کیا۔ کوئی دوسری سیاسی جماعت اس روایت کی امین نہیں ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کی عوامی سطح پرمقبول ہونے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے عوامی ایشوز کو اپنی عوامی مہم کاحصہ بنایا ہے، آئی پی پیز، مہنگی بجلی، پٹرول، بھاری بھر ٹیکسزکے خلاف توانا آواز صرف انکی ہے، ہر فورم پر انہوں نے نواجوانان قوم کو قومی ترقی اور کار خیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دی ہے، امیر محترم امیدسحر ہیں وہ نسل نو کی توقعات پر پورا اتریں گے، تبدیلی کے نام پر ماضی کی طرح نوجوانان قوم کو نہ دھوکہ دیں گے نہ ہی مایوس کریں گے، اس لئے نوجوانان حق دو عوام کو بدل دو نظام کو اس تحریک میں فعال کردار ادا کرتے ہو ئے بدعنوانی اور مافیاز کو دیس نکالا دیں۔