Friday, 17 July 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Siasi Mafadat Ke Liye Shuhada Ki Ahmiyat Kam Karna

Siasi Mafadat Ke Liye Shuhada Ki Ahmiyat Kam Karna

لازمی نہیں کی اچھے والدین کی اولاد بھی اچھی۔ ہو جلیل القدر نبی حضرت نوح علیہ اسلام کی اہلیہ اور بیٹا ایمان نہ لائے اور اِس حالت میں انجام کو پہنچے کہ دوزخ کے حقدار ٹھہرے۔ حضرت لوط علیہ اسلام کی بیوی بھی نبوت کی پاکیزگی سے دور رہی اور اللہ کے مغضوب بندوں میں شمار ہوئی۔ نیکی اور ہدایت کی توفیق اللہ کی طرف سے ہے جو ہدایت پاگیا وہ فلاح و کامیابی پا گیا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود کا ایک مخصوص مکتبہ فکر تھا جس سے بڑی تعداد اختلاف رکھتی ہے اور یہ سچ ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے خلاف تھے مگر جب قائدِ اعظم کی ولولہ انگیز قیادت سے دنیا کی سب سے بڑی ریاست بن گئی تو مفتی محمود نے اپنے موقف میں تبدیلی کرلی اور دینی و سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی انھی کے فلسفے کی ترویج و فروغ کے داعی ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ دینی سرگرمیوں کی آڑ میں اُن کی نظر سیاسی مفاد پر ہوتی ہے۔ وہ اِداروں کا اعتماد حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے اور عوضانے میں حکومتی منصب چاہتے ہیں مگر اپوزیشن میں ہوں تو دینی رہنما بن جاتے ہیں اور حکومت میں ہوں تو صرف دنیا کے رہ جاتے ہیں۔ اُن کے اِس کردار پر اکثر لوگ کہتے ہیں کہ مفتی محمود تو اچھے تھے لیکن اُن کا بیٹا عجب روش پر گامزن ہیں۔ یہی تضاد اُن کی اہمیت و احترام کم کرتا ہے مگر ذہن میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ انتہائی مقدس ہستیوں کے گھروں میں بھی نافرمانی ہوتی رہی لہذا مولانا فضل الرحمٰن جیسے دنیا دار کے کردار کا تضاد اچھنبے کی بات نہیں۔

سیاسی مفاد کے لیے شہدا کی اہمیت کم کرنے کا بیان مولانا کی فکری ناپختگی کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ اِس سے اُن کے دینی مرتبے میں بھی کمی آئی ہے سیاسی حلقوں میں بھی شدید اشتعال ہے اور شہداء بارے بیان سے اُنھیں ہدفِ تنقید بنایا جارہا ہے۔ اسلامی مملکت میں دینی شخصیت کا گلہ پھاڑ کر کہہ دینا کہ شہدا تنخواہ کے بدلے جان دیتے ہیں دراصل شہداء اور اُن کے اہلِ خانہ کی توہین ہے۔

مولانا کے اِس بیان سے اُن کے دینی و سیاسی قد میں نمایاں کمی ہوئی ہے کیونکہ نہ صرف دینی حلقے بدظن ہوئے بلکہ سیاسی حلقوں میں اُن کا احترام ماضی کی داستان بن رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شہداء کی قربانیوں سے آج پوری قوم امن و سکون کی زندگی گزار رہی ہے۔ علاوہ ازیں ایسے حالات میں جب دفاعی اِداروں کے سپوت بیک وقت بیرونی اور اندرونی دشمنوں سے برسیرِ پیکار ہیں اور پوری قوم اپنی سپاہ کی قربانیوں کی معترف ہے مولانا کا بیان قومی اتحادکو پارہ پارہ کر سکتا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ گمراہ کُن بیان پر معافی مانگی جائے۔ معافی مانگنے یا جھکنے سے احترام میں اضافہ ہوتا ہے تکبر اور غرورتو شیطان کا وصف ہے جو اپنے غلط موقف پر اڑکر قیامت تک رائندہ درگاہ ہوگیا لہذا کسی دینی شخصیت کو رعونت و تکبر زیب نہیں دیتا۔

شہادت تنخواہ سے نہیں حب الوطنی اور ایمان کی حرارت سے ملتی ہے مگر صدا فسوس کہ علمائے دین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق شہادت ایک ایسا عظیم رُتبہ ہے جو اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کو ملتا ہے۔ شہید کی موت درحقیقت ایک دائمی حیات اور کامیابی ہے۔ قرآن پاک میں واضح ارشاد ہے کہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مُردہ مت کہو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں سے رزق پاتے ہیں۔ کیاِ اِس حد تک واضح احکامات بارے میں مولانا کو کچھ علم نہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو بلاشبہ وہ ایک اچھے باپ کے بیٹے ضرور ہوں لیکن اُنھیں اچھا کہنے میں مجھے ہچکچاہٹ ہے۔

وطنِ عزیز کے کئی شعبے زوال کا شکار ہیں مگر علمائے دین بھی سیاسی مقام و مرتبے کے لیے اِس حد تک جا سکتے ہیں اِس بارے ہمارے ناقص علم میں اضافہ مولانا کے بیان سے ہوا ہے۔ بلاشبہ اِس وقت مولانا فضل الرحمٰن سیاسی طور پر غیر اہم اور عضو معطل ہیں۔ انھوں نے عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے وہ اپنی موجودہ حثیت کو اپنے مرتبے سے کمتر سمجھتے ہیں وہ اپنی زات کے سوا کچھ دیکھنے سے قاصر ہیں۔ بصیرت وبصارت کا تقاضا تو یہ ہے کہ حقائق کا ادراک کیاجائے لیکن سیاسی عہدوں کے حصول کے لیے بلیک میلنگ پر آگئے ہیں۔ انھوں نے ماضی میں جوڑ توڑ سے ضرور اہم مناصب حاصل کیے اور خاندان کے افراد کو بھی اعلیٰ عہدے دلائے لیکن فی الوقت باوجود کوشش ایسا کچھ حاصل نہیں کر پا رہے۔ شاید اسی لیے اُکتائے لگتے ہیں کیونکہ شاہانہ جاہ جلال اور پروٹوکول حاصل نہیں تو دینی اور فکری مغالطے میں شہداء کی قربانیوں کوکم کرنے جیسی غلطی کربیٹھے ہیں۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ شہداء بارے غلط بیانی سے دراصل مولانا نے صدائے احتجاج بلند کی ہے کہ اُنھیں اچھا اور اہم عہدہ دیا جائے وگرنہ اچھے سے بُرے بننا اُن کے لیے کوئی مشکل نہیں اور وہ نظام کی بساط بھی لپیٹ سکتے ہیں مگر مجھے نہیں لگتا کہ کوئی صدائے احتجاج کو اہمیت دے۔ اِدارے تو سیاست سے کنارہ کش ہوچکے لہذا مولانا کی خواہش کا پورا ہونا مشکل ہے اِس لیے بہتر ہے کہ علمائے دین اپنے مقام و مرتبے کے منافی بیانات دینے کی بجائے حق کی ترویج کریں۔ جب ایک عالمِ دین عہدے مانگتے ہوئے دین کے منافی بات کرتا ہے تو ایک جاہل سے زیادہ دنیا و آخرت کی رسوائی کا حقدار بن جاتا ہے۔ وجہ علم کے باوجود باعمل نہ ہونا ہے۔ فضل الرحمٰن ایک اچھے باپ کا بیٹا ضرور ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ شہداء کے متعلق غلط بیان دیکر اہلِ اسلام کی نفرت مول لی ہے اِس سے علمائے دین کا فکری تضاد آشکار ہوا ہے اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جن لوگوں کا اپنا دینی علم محدود ہے وہ دینی طلبا کے علم کے علم اور کردارسازی کا فریضہ احسن طریقے سے سرانجام نہیں دے سکتے۔

مولانا طاہر اشرفی کہتے ہیں کہ وہ ہر وقت شہادت کی دعا کرتے ہیں مگر اسلامی ریاست کے محافظوں کے ساتھ سرحدوں پر جانے کو تیار نہیں۔ حلوہ کھانے سے تو شہادت نہیں مل سکتی مولانا بھی اگر اپنا کردار و عمل درست کریں تو احترام، مقبولیت اور اہمیت حاصل کر سکتے ہیں لیکن شہداء کے متعلق غلط بیان بازی سے جو قوم کو اشتعال دلایا ہے اِس کے بعد اُن سے اچھے فعل کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ایسے بیانات سے فائدے کی بجائے حاصل مقام و مرتبے سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ اچھے باپ کے بیٹے کے ایسے انجام پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے فخر نہیں۔