میلسی کو ادبی کلچر، زبان و بیان کے حسن اور شعر کے اعلیٰ معیار کی بنیاد پر پاکستان کا لکھنٶ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر صرف ایک آدھ نظر بٹو کو نکال کے سارے کا سارا حسین دل والے، سادہ اور اجلے لوگوں، جینئوئن شاعروں ادیبوں اور سریلے لوگوں سے آباد ہے۔ مجھے یہ شہر اور اس شہر کے لوگوں کوپہلی بار قریب سے دیکھنے کا موقع شہر کی معروف اور مقبول کاروباری شخصیت حفیظ طاہر نے دیا۔ بچپن کے دوست پروفیسر سید جواد نقوی گزشتہ دو تین سالوں سے حفیظ طاہر کی طرف سے دعوت دے رہے تھے سو اس دفعہ حالات بن ہی گئے اور میں نے حامی بھر لی۔
27 دسمبر کی دوپہر حافظ صاحب المعروف مکمل خاموش، عبداللہ دی گریٹ اور احمد بیدار تقریباََ 12 بجے غریب خانے پہنچ گئے اور مجھ ناتواں شاعر کو اٹھا کے ایک سپر ڈپر بڑی سی گاڑی میں نہ صرف رکھ دیا بلکہ لِٹا دیا۔ سفر اتنا آرام دہ تھا کہ مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ چھ گھنٹے کا دورانیہ کب تمام ہوا۔ گاڑی حفیظ طاہر کے خوبصورت، نعمتوں اور رب تعالیٰ کے تشکر سے بھرے گھر کے پورچ میں جاکے رکی تو ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے لیے خوبصورت و خوب سیرت حفیظ طاہر اور علمی و ادبی حسن اور فن کارانہ چاشنی سے بھری شخصیت، مرزا مسرور نے بڑی محبت سے استقبال کیا۔
تقریب کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر بہاولپور خلیل احمد بڈھیار نے کی۔ مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میں زندگی میں آج تک جن چند سرکاری افسران کی علمی و ادبی استعداد، قومی اخلاص اور ایڈمنسٹریٹو قابلیت سے متاثر ہوا ہوں ان میں اب ایک نام خلیل احمد کا بھی شامل ہے جن کی میلسی میں صرف ایک سال کی تقرری نے پورے شہر کے دل میں ان کی انسان دوستی، پیار اور فرض شناسی کے انمٹ نشان ثبت کیے ہیں۔ تقریب کے مہمانان خاص میں ڈاکٹر شاہ نواز خان لنگاہ۔ عبدالمعبود عبداللہ۔ شیخ محمد سلیم۔ شیخ نعیم پاشا۔ سجاد احمد سعیدی۔ راؤ ظفر اقبال ایڈووکیٹ۔ چوہدری محمد اشرف سندھو۔ راؤ ریاض حسین۔ صادق مرزا۔ مہر راشد منظور۔ میاں عمران واحد۔ ملک عامر سلیم ممرا۔ ملک کاشف۔ ڈاکٹر سعید احمد کھوکھر۔ میاں محمد اطہر۔ چوہدری زاہد۔ چوہدری محمد ارشد اور دیگر شامل تھے جبکہ شعرائے کرام میں جناب اختر مرزا۔ راشد تبسم۔ ڈاکٹر مظہر حسین مظہر۔ شہزاد راؤ۔ زاہد خان ایڈووکیٹ۔ ڈاکٹر راؤ عاشق علی۔ اشفاق احمد قادری۔ ڈاکٹر امجد نذیر۔ یاسر عباس فراز۔ مدثر شجاعت شامل تھے۔
نشست کے حصہ اول میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض علی حسین جاوید نے نہایت خوبصورتی سے ادا کیے اور میرے لیے بہت خوبصورت نظم پڑھی جس پر میں ہمیشہ ممنون رہوں گا۔ یہاں میں مظہر حسین مظہر کا بھی تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں بندہ ناچیز کی شاعری پر مقالہ اور نقد و نظر پر انتقادی نظم پڑھی۔ دوسری نشست کی نظامت دل جانی مرزا مسرور ایڈووکیٹ نے سنبھالی اور اس حسن اور عمدگی سے نبھائی کہ شاید ہی کسی اور کو یہ ملکہ حاصل ہو۔
میرے لیے ایک اور خوشگوار بات یہ بھی تھی کہ اس مشاعرے میں میلسی کے جتنے شعراء نے کلام سنایا ایک سے بڑھ کے ایک عمدہ و اعلیٰ تھا۔ ہر شاعر کا اپنا رنگ، اپنا اسلوب اور اپنا خیال، جیسے مختلف رنگوں کے شعروں کا کوئی باغ سا کھل اٹھا ہو۔
یہ مشاعرہ محض اشعار کی قرأت کا نام نہیں تھا بلکہ یہ ایک تہذیبی عمل، ایک فکری ملاقات اور ایک زندہ روایت کی تجدید تھی اور سب سے بڑھ کے یہ کہ سامعین بلاکے شعر فہم اور منصف مزاج تھے۔ ان کی زبانوں پر صرف داد ہی نہیں تھی بلکہ آنکھوں میں فہم کی روشنی بھی تھی اور یہی وہ نکتہ ہے جو میلسی کو واقعی پاکستان کا لکھنؤ بناتا ہے۔ مجھے پتہ چلا کہ یہاں شعر سننے والا محض سامع نہیں بلکہ شریکِ معنی ہوتا ہے۔
محفل میں بیٹھے بزرگ چہروں پر وقت کی سنجیدگی کے ساتھ ساتھ بچوں جیسی خوشی جھلک رہی تھی اور نوجوان شعرا کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خود اعتمادی اور تخلیقی سرشاری نظر آ رہی تھی۔ "چل استاد" نے جتنا اس شہر کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے یہ شہر اتنا ہی لائق تکریم ہے، جہاں حقیقی استاد شاگرد کے رشتے رسمی نہیں بلکہ روحانی ہیں، جہاں اصلاح تنقید نہیں بلکہ تربیت سمجھی جاتی ہے اور جہاں لفظ کو محض لفظ نہیں بلکہ امانت جانا جاتا ہے۔
حفیظ طاہر کی میزبانی اس پورے ماحول میں ایک خاموش مگر مضبوط ستون کی طرح محسوس ہوتی رہی۔ وہ خود بھی شعر کہتے ہیں، شعر سمجھتے ہیں اور شاید اسی لیے شعرا کی ضرورت، انا اور نازک مزاجی سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے گھر کی فضا میں تکلف نہیں تھا، وقار تھا۔ نمود نہیں تھی، نعمتوں پر شکر تھا۔ یہی چیز اس ادبی شام کو عام تقریبات سے الگ کر دیتی ہے۔
مرزا مسرور ایڈووکیٹ کی موجودگی محفل کو ایک فکری شائستگی عطا کر رہی تھی۔ ان کی گفتگو، ان کی نشست و برخاست اور ان کی نظامت میں وہی تہذیبی تسلسل جھلکتا رہا جو آج کے شور زدہ عہد میں کم کم دکھائی دیتا ہے۔ وہ بولتے کم ہیں مگر جب بولتے ہیں تو لفظ ترتیب میں ہوتے ہیں اور یہی ایک اچھے ناظم کی اصل پہچان ہے۔
اس مشاعرے میں ایک بات نمایاں طور پر محسوس کی گئی کہ یہاں کوئی شاعر دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں نہیں تھا۔ ہر ایک اپنے کلام کے ساتھ آیا، اپنے احساس کے ساتھ بولا اور اپنے حصے کی روشنی بانٹ کر مٶدب بیٹھ گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر خلیل احمد بڈھیار کی موجودگی محض ایک سرکاری اعزاز نہیں بلکہ اس بات کی علامت تھی کہ اگر ریاستی نظم و نسق میں ادب دوستی شامل ہو جائے تو معاشرہ کس قدر متوازن ہو سکتا ہے۔ ان کی گفتگو میں تصنع نہیں تھا اور ان کی توجہ محض پروٹوکول تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ واقعی اس محفل کا حصہ محسوس ہو رہے تھے۔
مشاعرے کے بعد ہونے والی غیر رسمی نشست، چائے کے گرد ہونے والی گفتگو، ہلکی پھلکی ہنسی ار لند آہنگ قہقہے، دنیا بھر کے قصے، تذکرے اور آئندہ کے خواب، یہ سب اس شام کا وہ حصہ تھے جو تحریر میں مکمل طور پر سمیٹے نہیں جا سکتے مگر دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
میلسی کی یہ شام مجھے یہ باور کرا گئی کہ بڑے شہروں کی روشنی ہمیشہ بڑے ادب کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اصل ادب وہاں جنم لیتا ہے جہاں لفظ اب بھی مقدس ہو، جہاں شاعر اب بھی سماج کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہو اور جہاں سامع اب بھی دل سے سنتا ہو۔
جب واپسی کا وقت آیا تو جسم تھکا ہوا تھا مگر ذہن تازہ اور دل کسی انجانی سی خوشی سے بھرا ہوا تھا۔ کچھ شامیں زندگی میں اس لیے آتی ہیں کہ وہ آنے والی بہت سی تھکنوں کا ایندھن بن جائیں اور میلسی میں گزاری گئی یہ شام یقیناً انہی میں سے ایک تھی۔