Friday, 02 January 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Mulazim Kush Policiyan Kyun?

Mulazim Kush Policiyan Kyun?

سرکاری ملازم پنشن، گریجویٹی، لیو ان کیشمنٹ میں کٹوتی اور ڈسپیرٹی الائونس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بہت پریشان ہے اور اس ناانصافی پر دہائی دے رہا ہے، موجودہ سرکار نے2 دسمبر2024 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کی زد میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین آئے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ اس حکم نامہ سے ایک ملازم کو کم از کم 15سے40لاکھ کا مالی نقصان ہوا ہے اور ماہانہ کی بنیاد پر پنشن میں کمی اس کے علاوہ ہے۔

مقام حیرت ہے کہ جو ملازم یکم دسمبر2024کو ملازمت سے ریٹائرڈ ہوا ہے اسے سابقہ ضابطہ کے مطابق پوری مراعات ملی ہیں، ماہانہ پنشن میں بھی کمی نہیں ہوئی، لیکن24گھنٹے کے بعد جو ملازم ریٹائرڈ ہوا ہے یا آئندہ ہوگا اس کو مذکورہ مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، عدلیہ کا معززجج، ماہر قانون، بیوروکریٹ اس حکم نامہ کے قانونی، اخلاقی ہونے کاجواز دے سکتاہے، دنیا میں رائج قوانین یہی بتاتے ہیں کہ پبلک یا پرائیویٹ سیکٹر میں جن تحریری شرائط پر کی امید وار کا تقرر کیا جاتا ہے مدت ملازمت کی تکمیل پر مراعات بھی انہیں قواعدو ضوابط پر ادا کی جاتی ہیں۔

ملتان سے ظہور احمد بھٹی سرکاری ملازم کی تحریر کا متن سوشل میڈیا پر وائرل ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا " میری پکی فصل کو آپ نے تباہ کر دیا ہے، یہ دکھ مجھے قبر تک یاد رہے گا، جوآپ نے دیا ہے، میری نسل بھی یاد رکھے گی، میں نے41سال16دن سروس کی ہے، جب ریٹائرڈ ہوا، تو آپ نے2دسمبر2024کو میری پنشن کو کٹ لگا کر مجھے جیتے جی مار دیا ہے، اب میں پریشان ہوں اپنی بیٹی اور بیٹے کی شادی کس سے بھیک مانگ کر کر وں، آپ وفاق والا قانون نافذ کرکے شکریہ کا موقع دیں "سچ تو یہی ہے کہ یہ آواز پنجاب کے ہر سرکاری ملازم کی ہے جو مذکورہ سرکاری حکم نامہ کی زد میں آیا ہے۔

تاج برطانیہ کے عہد سے قائم دفتری نظام میں کئی طرح کے سرکاری ملازم ہیں، جن کی مراعات، الائونسز الگ الگ ہیں، بعض کو اراکین پارلیمنٹ کی طرح اپنی تنخواہ اور مراعات بڑھانے کا از خود اختیار ہے، وہ ملازمین جو بلا واسطہ یا بالواسطہ 5300 ارب کی مالی بے ضابطگیوں میں کسی طرح شریک رہے جسکی طرف عالمی اداروں نے اشارہ کیا ہے، انہیں اس طرح کے نوٹیفکیشن سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، اس حکم نامہ سے سب سے زیادہ متاثروہ ہو ئے ہیں، جنہوں نے جذبہ حب الوطنی کے تحت اپنے فرائض منصبی انتہائی دیانتداری سے ادا کئے۔

ملازمین کی غالب تعداد سماج کے متوط طبقات سے تعلق رکھتی ہے، ان کا تعلق کسی جاگیر دار، گدی نشین، سرمایہ دار، یا سردار گھرانوں سے نہیں ہوتا نہ ہی یہ موروثی سیاست کی بدولت امیر ہوسکتے ہیں، انکی بسر اوقات دوران ملازمت تنخواہ اور اسکے بعد پنشن پرہے عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل 23اور24 کے تحت پنشن کو ہرملازم کی جائیداد قرار دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب اپنی جائیداد سے کیا دستبردار ہو سکتی ہے اگر محکمہ ریونیو اس طرح کا حکم نامہ آناً فاناً جاری کر دے؟ جواب یقیناً نفی میں ہے توشاہی حکم نامہ سے سرکاری ملازمین کو انکے بنیادی حق سے محروم کیوں کیاجارہا ہے؟

سرکاری ملازمین کے آبائو اجداد نے بھی اس ریاست کے لئے قربانیاں اور سب سے ٹیکس دیا ہے مگر اِن سے سلوک تاج برطانیہ جیساہے، جو ہائوس رینٹ دیا جارہا ہے، اس میں ایک کمرہ بھی کرایہ پر نہیں مل سکتا، اسی طرح 50 سے 165 روپے یومیہ کنوینس الائونس ملتا ہے، خواتین اساتذہ کو اپنی جیب سے قریباً دس ہزار ماہانہ ادا کرنا پڑتے ہیں، ایسی پالیسیاں وہ "دفتری بابو "بناتے ہیں جو سرکاری بنگلوں میں رہتے اور سرکار کی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں انشورنس پالیسی کا مروجہ اصول ہے، جب پالیسی میچور ہو جائے، پالیسی ہولڈر کو رقم ادا کردی جائے، پنجاب ہی نہیں قریباً ملک بھر کے سرکاری ملازمین انشورنس کی رقم سے محروم ہیں، جسکی قسط انکی تنخواہ سے کاٹی جاتی رہی ہے، نجانے کس نے یہ طے کردیا تھا مذکورہ رقم کی وصولی کے لئے ملازم کا لحد میں اُترنا لازمی ہے، شنید ہے کہ اب ترمیمی بل اسمبلی کے فلور پر ہے کہ ملازم کویہ رقم اسکی ریٹائرڈمنٹ پر دی جائے، حکومتی ممبر پنجاب اسمبلی محترم امجد علی جاوید اس ضمن میں تحریک فلور پر پیش کرچکے، جب اراکین پارلیمنٹ کو اپنی مراعات کی منظوری درکار ہوتی ہے تو کسی قسم کے بل کو سٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجنے کا "تکلف" نہیں کیا جاتا، جب معاملہ سرکاری ملازمین کو مراعات دینے کا ہو مین میخ نکالی جاتی ہے۔

پنجاب میں بڑا ظلم گذشتہ تیرہ سال سے پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہائوسنگ فائونڈیشن کی بابت روا رکھا جارہا ہے، اس سکیم کا آغاز چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں ہوا، سرکاری ملازمین کو اس رقم کے عوض گھر دینے کامنصوبہ تھا جو انکی تنخواہ سے ماہانہ کی بنیاد پر کاٹی جا رہی ہے، 2012 سے گھر تو کیا دیتے پلاٹ دینے کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے، اس سکیم کے آغاز ہی سے تمام مردو خواتین ملازمین کا ڈیٹا مذکورہ فائونڈیشن کے پاس موجود ہے، صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے تحت یہ منصوبہ 2004 شروع ہوا تھا، المیہ ہے کہ فائونڈیشن کے ملازمین باقاعدگی سے تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں مگر قریباً، 70000 ہزار ملازمین جو فائونڈیشن کے ممبرز ہیں پلاٹ کی پیشگی رقم کی ادائیگی کے باوجود اس سے محروم چلے آرہے ہیں۔

گذشتہ اکیس سال میں مشرف کے ساتھ مسلم لیگ نون۔ پی ٹی آئی بھی پنجاب میں برسر اقتدار رہی ہے، مقتدر طبقہ کو اس طرح پلاٹس یا مکان کی فراہمی سے محروم رکھا جاتا تو عدلیہ سمیت پوری سرکاری مشینری متحرک دکھائی دیتی، دل پر ہاتھ کر سوچیں، اس عرصہ میں وفات پانے والے ملازمین کے لواحقین کس قرب میں ہوں گے؟

محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب جن کا دعویٰ ہے کہ عوام کے غم میں انھیں رات بھر نیند نہیں آتی وہ ان بیوگان کا دکھ محسوس تو کریں، جن کے شوہروں نے اپنی جمع پونجی ہائوسنگ فائونڈیشن کو دی مگر گھر یا پلاٹ کے بغیر راہی ملک عدم ہوئے۔ کئی سال سے ریٹائرڈ ملازمین مکان یا پلاٹ کے منتظر ہیں، شرم ناک بات کہ فائونڈیشن کے کرتا دھرتا کہتے ہیں کہ زیادہ جلدی ہے تو رقم واپس لے لیں، یہ وہ گورننس کا اعلیٰ معیار جو ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں روا ہے، پنجاب سرکار کی ملازم کُش پالیسیوں کا نوٹس آخر کب لیا جائے گا؟