جب تین عشرے قبل ہم نے صحافت میں قدم رکھا توملازمت کے مختلف مرحلوں اور مختلف اداروں میں بہت سے "سینئرز" سے وابستہ پڑا۔ ان میں سے بیشتر وہ تھے جو بقول شخصے پڑے پڑے ہی سینئر ہوگئے، مگر وہ نوجوان لکھاریوں پر اپنا رعب جمانے کا کوئی موقعہ ضائع نہیں جانے دیتے تھے۔ قدم قدم پر احساس دلاتے کہ تم لوگ تو کل کے لونڈے ہو، ہمیں صحافت میں اتنے عشرے گزر گئے، فلاں کے ساتھ کام کیا، فلاں کو یہ کہا، وغیرہ وغیرہ۔ خیر ان کے اس افتخار کوتو ہم ماننے کو تیار تھے، سینئرز کا احترام کرنا ہی چاہیے، مگر ہمیں اصل اعتراض یہ تھا کہ اہلیت تو ایک مختلف چیز ہے، دل سے احترام تو اس کا ہوتا ہے، جس کے پلے کچھ ہوبھی سہی۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی صاحب پچاس سال کے تجربے کے بعد بھی پہلے زینے پر کھڑے رہ گئے ہوں اور کوئی پہلی جست میں کئی سیڑھیاں پھلانگ جائے۔
ویسے صاحبو! ہم لکھنے کے حوالے سے سینئر، جونیئر کے الگ الگ کمپارٹمنٹ یا ڈبوں کے قائل نہیں۔ جس طرح ادب میں زنانہ مردانہ کا کوئی الگ ڈبہ نہیں ہوتا، اسی طرح سینئر جونیئرکی بھی کوئی خاص تخصیص نہیں۔ لکھاریوں کی دو ہی قسمیں ہیں، اچھا لکھنے والا اور برا لکھنے والا۔ اسی طرح صحافیوں کی بھی دو قسمیں ہیں، اچھا صحافی اور برا صحافی، باقی سب بیکار کی باتیں ہیں۔ چار پانچ عشرے گزارنے والے ایسے پیر فرتوت بھی ہیں، حکمرانوں سے جن کے گہرے روابط ہیں، دلیل ان کے جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہے، مگر ان کے مصنوعی لکھے یا بولے جانے والے لفظوں سے تعفن اٹھتا ہے۔
ان نام نہاد سینئرز میں البتہ ایک "خوبی" ضرور موجود ہے کہ عملی زندگی کے تجربات نے انہیں شاک پروف بنا دیا۔ زندگی میں کوئی آئیڈیلز ان کے رہے ہی نہیں کہ جن کے ٹوٹنے پر صدمہ ہو، وہ مدتوں پہلے اپنے خواب بیچ باچ کر آرزئوں کی نئی فصل اگا چکے۔ ممکن ہے کبھی اس فصل کی بربادی کا انہیں دھچکا لگتا ہو، مگر ایسے جھٹکے دل کو نہیں، دماغ کو سہنے پڑتے ہیں۔
ہم جیسے صحافیوں کا البتہ المیہ یہ ہے کہ ابھی تک ہم اپنے خواب ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ اگرچہ بالوں میں چاندی اتر آئی ہے، حالات کے جبر اور زمانے کے نشیب و فراز نے بہت کچھ سکھا دیا، مگر ابھی تک ہمارے خواب باقی ہیں۔ خواب دیکھنا ہم نے ختم نہیں کیا، شائد اسے اپنی زندگی کا حصہ ہی سمجھتے ہیں۔ تیس اکتیس برس گزر گئے اس وادی پرخار میں، پر ابھی تک "پریکٹیکل صحافی" بننے کا ہنر نہیں سیکھ سکے۔ گمان (اور دعویٰ) تو یہ ہے کہ اسی "ناخواندگی" میں عمر بیت جائے گی۔
عملی صحافت کے ساتھ مجھے دو چار سمیسٹر لاہور کی سب سے بڑی اور تاریخی یونیورسٹی میں صحافت کے طلبہ کو پڑھانے کا موقعہ بھی ملا۔ صحافت کے نوجوان طلبہ کو پڑھاتے ہوئے میرا تمام تر زور اسی پر ہوتا ہے کہ خواب دیکھو اور ان کی خاطر سرگرم رہو۔ دنیا میں اس سے بڑا بدنصیب کوئی نہیں جس کا کوئی خواب نہیں۔ اس سے زیادہ حقیر بھی کوئی نہیں جس کے خواب زر و مال کے ذخائر جمع کرنے کے گرد گھومتے ہوں۔
صحافت اور خاص کر کالم نگاری کے دوران ایسے مواقع آتے ہیں جب بات کہنا مشکل ہوجاتی ہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں، خصوصاً نو مارچ کے بعد کی عدلیہ بحالی تحریک میں دوسرے اخبار نویسوں کے ساتھ ہم نے بھی اپنی بساط اور توفیق کے مطابق چھوٹا سا حصہ ڈالا۔ جب حالات مشکل ہوگئے تب ہم نے علامتی کہانیوں کا سہارا بھی لیا۔ تاریخ میں ڈھونڈ ڈھانڈ کر ان ججوں کی مثالیں نکالیں، جنہوں نے آمر وقت کے سامنے انکار کیا تھا اور اگرچہ اس کی قیمت ادا کی، مگر امر ہوگئے۔
جسٹس کک سے تھامس مور اور جسٹس مارشل سے بھارتی جسٹس کھنہ تک، امریکی ججوں سے حسنی مبارک کے خلاف سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے والے ججوں کی کہانیاں لکھیں۔ ان کہانیوں کا تعلق بظاہر پاکستان سے نہیں تھا، مگر بغیر کسی اشارے کے قارئین پرسب واضح تھا۔ اس وقت اپنے رومانٹسزم میں ہم سمجھتے تھے کہ عدلیہ کی بحالی سے انقلاب برپا ہوجائے گا۔ یہ گمان تھا کہ جب جمہوریت بحال ہوگی تو رفتہ رفتہ ادارے مضبوط ہوں گے اور جمہوری کلچر بھی اوپر سے نیچے تک رائج ہوجائے گا۔ میڈیا کا فعال ہونا بھی ہمیں امید دلاتا تھا۔ وکلا اور سول سوسائٹی کے دیگر حصوں کا اچانک متحرک ہوجانا بھی خوشگوار حیرت لے کرآیا تھا۔
بعد کے برسوں میں بہت کچھ دیکھا، جس کی امید نہیں تھی۔ سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ پرفارم کرنے کے بجائے انہوں نے گٹھ جوڑ اور جوڑ توڑ پر فوکس کیا۔ غیر سیاسی قوتوں نے بھی غلطیاں کیں۔ دونوں اطراف سے بہت کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ آج کے نوجوانوں میں خاصی مایوسی پھیل چکی۔ نوجوان خاص کر جنریشن زی یہ نہیں جانتی کہ وہ کیا کرے؟ اسے کیا کرنا ہے، مستقبل کیسے سنوارا جائے، کس سمت میں عملی زندگی کا سفر شروع ہو اور کیسے آگے بڑھا جائے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات نوجوان نسل ہمارے اہل قلم، اہل علم اور میڈیا کے جغادریوں سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ ان کے جواب دینے کو مگر کوئی تیار نہیں۔ ہر روز شام سات سے گیارہ بجے تک کے ٹاک شوز دیکھ لیں، اندازہ ہوجائے گا کہ کیسے چائے کی پیالی میں طوفان برپا ہوتے ہیں۔ اخبارات میں بھی ایک خاص قسم کا جمود چل رہا ہے۔ یہاں بھی بہت کچھ ہونے کی ضرورت ہے۔ باقی رہا سوشل میڈیا تو یہاں پر ببل لائف چل رہی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کراچی کے ساحل یا دیگر تفریحی جگہوں پر بچے شیمپو یا سرف نما لیکوڈ سے پھونک مار کر ببلز، بلبلے اڑاتے ہیں۔ یہ بلبلے اڑتے ہوئے خوش نما لگتے ہیں، مگر چند لمحوں سے زیادہ ان کی زندگی نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ہر چوبیس یا اڑتالیس گھنٹوں کے لئے ایک بلبلہ پیدا ہوتا ہے۔ کوئی ایسا ایشو جس پر فوری شور مچ جاتا ہے، ہر کوئی اس پر پوسٹیں لگا رہا، وی لاگ کر رہا۔ مشکل سے دو یا تین دن۔ پھر وہ بلبلہ پھٹ کر بیکار ہوگیا۔ کسی کو اس ایشو سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رہتی۔ فالو آپ کا تو تصور تک نہیں۔
اس لئے اب میڈیا، سوشل میڈیا وغیرہ سے امید بنانے کے بجائے زیادہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو متحرک ہونا پڑے گا۔ تبدیلی کے لئے پوری قوم کو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ کسی ایک یا دو اداروں یا کچھ لوگوں کی انفرادی کوشش ثمربار نہیں ہوسکتی۔ میڈیا، عدلیہ، سول سوسائٹی سب کی حدود ہیں۔ اب واضح ہوگیا کہ سپورٹنگ سٹرکچر بنائے بغیر کچھ نہیں ہوپائے گا۔
انٹیلی جنشیا یا اہل دانش کا اب کام ہے کہ وہ کھیل کے نئے اصول اورضابطے طے کریں اور اگر جمہوریت بچانی ہے، پولیٹیکل سسٹم چلانا ہے تو اس کے روایتی نعروں سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوگا۔ یہ بات محض ایک کلیشے اور گھسا پٹا نعرہ ثابت ہوئی ہے کہ سسٹم چلتے رہنے دینا چاہیے تب خودبخود چیزیں ٹھیک ہوجائیں گی۔ حضور والا یہ بات درست نہیں۔ اول تو کوئی بھی چیز ازخود ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ اگرکسی سسٹم کو چلانے والے کرپٹ ہوں اور ان کے مفادات اس سے منسلک ہوں تو وہ تبدیلی کیوں آنے دیں گے؟ ایسی تبدیلی جو ان کے لئے موت کا پیغام لائے، وہ اسے ازخود کیوں قبول کریں گے؟
زرعی آمدنی پر ٹیکس ہو، ٹیکس مشینیری کو درست کرکے ریونیو بڑھانا، پولیس اور انتظامیہ خصوصاً پٹواری گرداور وغیرہ کو ایم این اے، ایم پی اے کے دبائو سے آزاد کرنا، تھانے کچہری، ہسپتال، سرکاری محکموں میں بغیر سفارشی پرچی کے عام آدمی کو ریلیف دینا، آخر کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک چیز کے ہوجانے سے ہمارے روایتی سیاسی سٹرکچر کے ٹوٹنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس لئے ان میں سے کچھ بھی نہیں ہو پائے گا۔ افسوس تو یہ ہے کہ زرعی ٹیکس ہو یا تھانے پٹواری کے چنگل سے عام آدمی کو آزاد کرانا، اس حوالے سے اب اسمبلیوں میں زبانی کلامی بات بھی نہیں کی جاتی۔
جمہوریت کی سب سے پہلی سیڑھی دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو مانا جاتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ کے نظام کو ہر جگہ بااختیار، موثر بنایا جاتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے کراچی میں یہ بھی دیکھا کہ حکمران جماعت کا اپنا مئیر ہونے کے باوجود کراچی شہر کی حالت نہیں سدھری۔ پنجاب میں تو خیر سے بلدیاتی الیکشن ہو ہی نہیں رہے۔
اب ضرورت ہے کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط اور موثر بناجائے۔ ادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں۔ خاص کر پولیس، انتظامیہ کو عوام دوست اور موثر بنایا جائے۔ ٹیکس نظام کی اصلاحات سے لے کر ہر جگہ، ہر شعبے میں بہتری لانا ہوگی۔ اس سب کے لئے مگر نئے ضابطے بنانے ہوں گے۔ کھیل کے نئے اصول اور طریقے جس کا واحد مقصد عوام کی بہتری اور ان کی زندگیوں میں آسانی لانا ہو۔ عام آدمی اور خاص کر نوجوانوں کی مایوسی اسی طرح ہی دور ہوسکتی ہیں۔ یہ نہیں تو پھر باقی کہانیاں ہیں بابا۔