انسان نے پتھر سے پہیہ، پہیے سے مشین، مشین سے کمپیوٹر اور کمپیوٹر سے مصنوعی ذہانت تک کا سفر محض چند صدیوں میں طے کیا ہے۔ ہر ایجاد نے اس کی قوت میں اضافہ کیا، مگر مصنوعی ذہانت پہلی ایسی تخلیق ہے جو خود انسانی ذہانت کی حدود کو چیلنج کرنے لگی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سائنسی کامیابی ایک گہرے فلسفیانہ سوال میں تبدیل ہو جاتی ہے: اگر انسان ایسی ذہانت پیدا کر دے جو اس سے زیادہ تیزی سے سیکھ سکے، زیادہ پیچیدہ مسائل حل کر سکے اور اپنے علم و صلاحیت میں خود اضافہ کر سکے، تو کیا انسان ہمیشہ اس کا حاکم رہے گا؟
یہ سوال اب محض سائنسی تخیل کا موضوع نہیں رہا۔ مصنوعی ذہانت کے میدان سے وابستہ متعدد ممتاز ماہرین نے انسانی بقا کے ممکنہ خطرات پر سنجیدہ تشویش ظاہر کی ہے۔ انتھروپک کے محقق ایوان ہوبنگر نے آئندہ ایک دہائی میں مصنوعی ذہانت کے باعث انسانیت کے خاتمے کے امکان کو دس فی صد سے زیادہ قرار دیا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہر جیفری ہنٹن نے بھی اسی نوعیت کے خطرے کے امکان کو سنجیدہ سمجھا ہے۔ یوشوا بینجیو، اسٹورٹ رسل، میکس ٹیگ مارک اور رومن یامپولسکی سمیت کئی ماہرین مختلف زاویوں سے اس بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت انسانی نگرانی، فہم اور فیصلے کی صلاحیت سے آگے نکل گئی تو اسے انسانی مفاد کے مطابق رکھنے کی ضمانت کیا ہوگی؟
خطرہ یہ نہیں کہ کوئی مشین اچانک انسان سے نفرت کرنے لگے گی۔ اصل مسئلہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک انتہائی ذہین نظام کو اگر کوئی مقصد دیا جائے اور اسے اس مقصد کے حصول کے لیے غیر معمولی خودمختاری، وسائل تک رسائی اور اپنی صلاحیت بہتر بنانے کا اختیار بھی حاصل ہو جائے تو وہ ایسے راستے اختیار کر سکتا ہے جنہیں انسان نقصان دہ تصور کرے۔ اگر اسے بند کرنا اس کے مقصد کی تکمیل میں رکاوٹ محسوس ہو تو وہ بندش سے بچنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ اگر اسے توانائی، مالیاتی نظام، مواصلات، دفاع یا بنیادی شہری ڈھانچے تک رسائی حاصل ہو تو ایک غلط فیصلہ محض ایک مشین کی خرابی نہیں رہے گا بلکہ بڑے پیمانے پر انسانی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ یوں اصل سوال مشین کے ذہین ہونے کا نہیں، بلکہ اس ذہانت کے اختیار اور سمت کا ہے۔
تاہم علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ان خدشات کو قطعی پیش گوئی سمجھنے کے بجائے ممکنہ خطرات کے طور پر دیکھا جائے۔ کوئی شخص یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے تباہی کا سبب بنے گی، لیکن یہ بھی دانش مندی نہیں کہ خطرے کے امکان کو اس وقت تک نظر انداز کیا جائے جب تک واپسی کا راستہ باقی نہ رہے۔ یوشوا بینجیو محفوظ مصنوعی ذہانت کے ایسے تصورات پر کام کر رہے ہیں جو خود غرض مقاصد سے پاک ہوں، جبکہ مصنوعی ذہانت کی بڑی تجربہ گاہوں کے بعض سربراہان بھی بیرونی نگرانی، عالمی تعاون اور ذمہ دارانہ رفتار کی ضرورت تسلیم کر رہے ہیں۔ اصل ضرورت خوف پھیلانے کی نہیں بلکہ احتیاط کو علمی، قانونی اور عالمی پالیسی کا حصہ بنانے کی ہے۔
انسان نے ایٹمی قوت دریافت کی تو اسے یہ بھی سیکھنا پڑا کہ ہر قابلِ حصول طاقت قابلِ استعمال نہیں ہوتی۔ مصنوعی ذہانت کا معاملہ اس سے بھی زیادہ نازک ہے، کیونکہ ایٹمی ہتھیار خود اپنی حکمتِ عملی نہیں بناتے، اپنی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتے اور اپنے مقاصد کی نئی تعبیر نہیں کرتے، ایک انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت یہ سب کرنے کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے آنے والے برسوں کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ مشین انسان سے زیادہ ذہین کب ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ اس دن سے پہلے انسان اپنی اجتماعی بصیرت کو کتنا بیدار کر پاتا ہے۔
شاید انسانی تاریخ کا سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ انسان اپنی تخلیق کردہ طاقت پر حکمرانی کر سکتا ہے یا نہیں۔ مصنوعی ذہانت اگر انسانی عقل کا عظیم ترین ثمر ہے تو اس کے اخلاقی حدود متعین کرنا بھی انسان ہی کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسی مشین نہیں چاہیے جو صرف انسان سے زیادہ ذہین ہو، ہمیں ایسی ذہانت درکار ہے جو انسانی جان، آزادی، وقار اور اختیار کی حرمت کو بھی سمجھ سکے۔ کیونکہ اگر انسان نے ذہانت تو پیدا کر لی، مگر اس ذہانت کی سمت متعین نہ کر سکا، تو ممکن ہے مستقبل کی تاریخ میں سب سے خوفناک جملہ یہ نہ ہو کہ مشین نے انسان کو شکست دے دی، بلکہ یہ ہو کہ انسان اپنی ہی عقل سے شکست کھا گیا۔