Wednesday, 07 October 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Alaaim Nahi, Illat Ka Ilaj

Alaaim Nahi, Illat Ka Ilaj

قوموں کے زوال کی داستان ہمیشہ کسی ایک حادثے سے شروع نہیں ہوتی، کبھی فکری جمود، کبھی انتظامی کمزوری، کبھی اخلاقی انحطاط اور کبھی قومی وسائل کے بے مصرف استعمال سے ایک ایسا بحران جنم لیتا ہے جو وقت کے ساتھ پوری اجتماعی زندگی کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ معیشت کی ناتوانی، قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، مہنگائی، بے روزگاری اور بیرونی سہاروں پر انحصار بظاہر الگ الگ مسائل ہیں، مگر درحقیقت ایک ہی بنیادی مرض کی مختلف علامات ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم برسوں سے علامات کو دبانے کی کوشش کرتے رہے، علت تک پہنچنے سے گریز کیا۔ قرض لے کر قرض اتارنا، وقتی مالیاتی سہارا حاصل کرنا اور عارضی اقدامات کو اصلاحات کا نام دینا کسی بیمار معیشت کا مستقل علاج نہیں۔ طبِ انسانی ہو یا حکمتِ اجتماعی، جب تک مرض کی اصل تشخیص نہ ہو، علاج محض ایک وقتی تسکین بن کر رہ جاتا ہے۔

اس مرض کی جڑوں میں ہمارے نظامِ حکمرانی کی ساخت بھی شامل ہے۔ جب منصب اہلیت کے بجائے وابستگی، قرابت یا سیاسی مصلحت کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگیں تو صلاحیت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور ریاستی اختیار اپنی اصل غایت کھو دیتا ہے۔ ریاست محض دفاتر، قوانین اور عہدوں کا مجموعہ نہیں، یہ علم، عدل، امانت اور اجتماعی ذمہ داری سے تشکیل پانے والا ایک زندہ نظام ہے۔ اکیسویں صدی میں مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی علوم، جدید صنعت، توانائی اور تحقیق قومی قوت کے نئے پیمانے متعین کر رہے ہیں۔ ایسے عہد میں غیر پیشہ ورانہ فیصلہ سازی کے ذریعے عالمی مسابقت کا سامنا کرنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ قرآنِ حکیم کا اصول ہے: إِنَّ خَيُرَ مَنِ اسُتَأُجَرُتَ الُقَوِيُّ الُأَمِينُ، بہترین شخص وہ ہے جو قوتِ کار بھی رکھتا ہو اور امانت دار بھی۔ یہی میزان قومی مناصب کے لیے ہماری رہنما ہونی چاہیے۔

ریاستی مشینری میں ہر شعبے کی ذمہ داری ایسے افراد کو ملنی چاہیے جو متعلقہ میدان میں علمی مہارت اور عملی تجربہ رکھتے ہوں۔ وزارتِ خزانہ ماہرینِ معاشیات اور مالیات کی رہنمائی میں چلے، تعلیم و صحت کی پالیسی اہلِ علم و فن مرتب کریں، جبکہ سائنس، صنعت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے فیصلے تخصص اور تحقیق کی بنیاد پر ہوں۔ حضرت یوسفؑ کا واقعہ اس باب میں ایک روشن اصول پیش کرتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ، میں حفاظت کرنے والا اور علم رکھنے والا ہوں۔ اس مختصر قرآنی تعبیر میں امانت اور اہلیت دونوں جمع ہو گئے ہیں۔ ریاستی تقرریوں میں سفارش کے بجائے میرٹ، شخصی وفاداری کے بجائے دیانت اور دعووں کے بجائے ثابت شدہ کارکردگی کو معیار بنانا ہوگا۔

یہی اصول قانون سازی کے ایوانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پارلیمان میں قومی قوانین، بجٹ، عوامی حقوق اور ریاستی ترجیحات طے ہوتی ہیں، اس لیے قانون فہمی، مالیاتی شفافیت، سنجیدگی اور قومی معاملات کی سمجھ کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ عوامی نمائندگی کا حق اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم انتخابی اور پارلیمانی نظام کو زیادہ شفاف، جواب دہ اور مؤثر بنانے کے لیے امیدواروں اور منتخب نمائندوں کے مالیاتی معاملات، ٹیکس کی قانونی پابندی، مفادات کے ممکنہ تصادم اور عوامی خدمت کے ریکارڈ کے حوالے سے مؤثر ضابطے ضروری ہیں۔ قرآن کا سوال آج بھی ہمارے اجتماعی شعور کے سامنے ہے: هَلُ يَسُتَوِي الَّذِينَ يَعُلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعُلَمُونَ۔ علم اور بے علمی کو یکساں قرار دینا علم کی قدر کو مجروح کرتا ہے۔

ترقی کا راز صرف قدرتی وسائل کی فراوانی میں نہیں، بلکہ انسانی سرمائے، مضبوط اداروں، تحقیق اور مسلسل درست پالیسی میں پوشیدہ ہے۔ بعض ممالک نے محدود وسائل کے باوجود تعلیم، صنعت، ٹیکنالوجی اور برآمدات کے ذریعے اپنی معاشی ساخت بدل ڈالی۔ پاکستان کو بھی کم قدر والی پیداوار اور درآمدی انحصار سے نکل کر علم پر مبنی برآمدی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، زرعی تحقیق، قابلِ تجدید توانائی، جدید انجینئرنگ اور دفاعی ٹیکنالوجی ایسے میدان ہیں جہاں ہمارے انسانی سرمائے کو معاشی قوت میں بدلا جا سکتا ہے۔ ہر وزارت کے لیے واضح اہداف، متعین مدت، قابلِ پیمائش اشاریے اور آزادانہ سالانہ جائزہ ضروری ہے، کیونکہ اختیار اگر جواب دہی سے خالی ہو تو اصلاح کا خواب محض اعلان بن جاتا ہے۔

مگر قومی اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اختیارات اور وسائل عوام کے قریب منتقل نہ ہوں۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں، یہ شہریوں کو اپنے اجتماعی معاملات میں حقیقی اختیار دینے کا نظام بھی ہے۔ پانی، صفائی، سڑک، بنیادی صحت اور تعلیم جیسے معاملات مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں حل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آئینی تحفظ اور شفاف مالیاتی نگرانی کے ساتھ مقامی حکومتوں کو مناسب وسائل اور حقیقی انتظامی اختیار دینا ضروری ہے۔ نئی صوبائی یا انتظامی اکائیوں کے قیام پر بھی جذبات کے بجائے آبادی، جغرافیہ، معاشی استعداد اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر غور ہونا چاہیے۔

پاکستان کا اصل سرمایہ اس کی زمین سے زیادہ اس کے انسان ہیں۔ ہمارے نوجوان، اہلِ علم، محققین اور فنی ماہرین وہ قومی سرمایہ ہیں جسے درست سمت مل جائے تو معاشی منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ تعلیم کو ڈگری، سیاست کو اقتدار، ترقی کو تعمیر اور معیشت کو قرض کے دائرے سے نکال کر علم، تحقیق، پیداوار اور برآمدات سے وابستہ کیا جائے۔ قومیں وسائل کی کثرت سے نہیں، وسائل کے عادلانہ اور دانش مندانہ استعمال سے بنتی ہیں۔

پاکستان کو اب علامات کے علاج سے آگے بڑھ کر علت کا علاج کرنا ہوگا، قرض کے عارضی سہاروں کے بجائے پیداوار کی قوت، شخصی وابستگی کے بجائے اہلیت و امانت، مرکزیت کے بجائے بااختیار مقامی جمہوریت اور روایتی معیشت کے بجائے علم و تحقیق پر مبنی برآمدی نظام اختیار کرنا ہوگا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کتنے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس ان وسائل کو قومی امانت سمجھ کر بروئے کار لانے کی بصیرت، دیانت اور عزم کتنا ہے۔ جب تک ہم مرض کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے اس کی علامات گنتے رہیں گے، شفا کا خواب تعبیر سے محروم رہے گا۔