Thursday, 15 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Ali Raza Ahmed
  4. Kano Kan

Kano Kan

بھلے آپ کسی محفل مزاح میں بیٹھے ہوں یا مشاعرے میں اگر کان بند ہوں تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی جب تک وہ بذات خود کسی کے کان میں نہ پھونکے۔ کسی وجہ سے ناک بند ہو تووہ اردگرد کے ماحول کو بھی ناک آؤٹ کر سکتا ہے۔ ناک کان اور آنکھ کا آپس میں گہرا تعلق بلکہ قدریں بھی مشترک ہیں مگر یہ مریضوں سے پوشیدہ اور ڈاکٹروں کی پسندیدہ ہیں۔ اسی وجہ سے ان تینوں کا اسپیشلسٹ اپنے مریضوں سے دو دو ہاتھ کرلیتا ہے مگر گلے سے آنکھ چراتا ہے بلکہ وہ اس کی بات کی طرح دھیان نہ دینے والے بہرے کے گلے بھی پڑ سکتا ہے۔

ناک کو الٹا لکھیں تو کان پڑھا جاتا ہے اور انہی حروف کو آگے پیچھے کر لیں تو آنکھ لکھا جاتا ہے۔ کان ناک اور آنکھ خود ہی واحد جمع ہیں لیکن ان تینوں کا علاج بہرحال مختلف ہوتا ہے۔ کبھی ناک بند ہو توساتھ کان بند ہو کر "ناک کارا" ہو جاتے ہیں جبکہ بھانپ دینے سے کھل بھی جاتے ہیں بعض اوقات کان بھانپ والا خطرہ بھانپ کر خود ہی کھل جاتے ہیں ہیں اور مزید"ہلکان" ہونے سے بچ جاتے ہیں بلکہ ان کو بھانپ دینے سے بعض اوقات آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں۔

سردیوں میں جب ناک بند ہو تو ساتھ کان بند ہونے کی شکایت بھی ملتی ہے اور آنکھیں بھی ہو جاتی ہیں سرخ۔ اگر کان بند ہو جائیں تو پورا جسم ناک بھوں چڑھانا شروع کر دیتا ہے بلکہ انسان کوناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ویسے آنکھ سے کان کا لفظی تعلق بھی نہیں ہے لیکن حیرانی ہوتی ہے کہ لوگ کان کٹے کو کانا کیوں نہیں کہتے۔ کانوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات لگا لیں کہ مغز چاٹنے کے لئے بھی براستہ کان ہی کا راستہ تلاش کیا جاتا ہے اور اس کار خیر کے لئے کان ہی آلہ کار بنتے ہیں۔ مگر کوئی بہرہ بھی اس کے لنچ یا ڈنر ہونے کے بارے میں زیادہ کان نہیں دھرتا۔ کانوں کی اہمیت کی وجہ سے کسی ڈاکٹر "خاقان" میں محکمہ صحت کا ڈی جی ہونا چاہئے تاکہ وہ کم از کم اپنے عملے کا عمدگی سے مغز چاٹے۔

انسانی قد اپنے دوسرے اعضاء پر اپنا کوئی اثر نہیں چھوڑتا۔ یہ قد بھلے آٹھ فٹ بلند ہو جائے لیکن کان یا ناک اس حساب سے نہیں بڑھتے اور نہ ہی یہ لمبے شخص کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں۔ اگر ایسا ہو اور ساتھ ناک ذرا بڑی ہوجائے تو اپنے ہی دوستوں میں "ناک قدری" سی ہو جاتی ہے اور یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ اس نے منہ کے آگے ناکہ لگا رکھا ہے کچھ ایسا ہی کانوں کے ساتھ بھی ہے۔ آپ انہیں ادھر سے بھی پکڑ لیں یا ادھر سے بس ذرا ناک رگڑنا پڑتی ہے۔ لگتا ہے قدرت نے ان کا آپس میں معاہدہ کروا رکھا ہے کہ بس تم نے ایک سا توازن رکھنا ہے۔

کان چاہے کتنے بڑے ہی کیوں نہ ہوں اور بھلے یہ کسی میگا پروجیکٹ کے تحت بنے ہوں مگر ان کی سماعت کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی اور اگر کان پڑی آواز سنائی دینا بند ہو جائے تو ڈائریکٹ بات کہاں سنتی ہے اس لئے وقتی طور پر کسی دوسروں کے کانوں کو استعمال میں لایا جاتا ہے جو دور کے رشتے دار کی دردناک خبر قریب والے کے ذریعے اس کے گوش گزار کرتا ہے مگر اسی دوران اپنے لہجے کی ملاوٹ سے اصل موضوع کا بیڑا غرق کر دیتا ہے۔

کچھ اس لیے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ بچپن میں ہی سکھا دیے جاتے ہیں تاکہ بڑھاپے میں کسی کی کوئی نہ کوئی بات تو کانوں میں پڑ جائے۔ کئی لوگوں کے کانوں اتنے تیز ہوتے ہیں کہ وہ ایک ہاتھ سے بجنے والی تالی آواز بھی سن لیتے ہیں حالانکہ اس نے بات کو صرف کان لگا کر سننا ہوتا ہے ناکہ کوئی ڈیوائس لگا کر۔ ڈیوائس سے یاد آیا آج کل کانوں کی جتنی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی اور موبائل فون کی ایجاد اس کا اہم سبب ہے حتی کہ ہینڈ فری کا تعلق بھی کانوں سے ہی ہے اگر گھر میں کسی بزرگ کے کانوں پر ہینڈ فری لگی نظر آئے تو سارے گھر والے ہی ہینڈ فری دکھائی دیتے ہیں۔

محفل میں کئی دفعہ کانوں کی کمزوری کی وجہ سے شرمندگی اٹھانا پڑ جاتی ہے چنانچہ انسان اگر صفائی پسند نہ بھی ہو پھر بھی اسے شرمندگی سے بچنے کے لیے کہیں نہ کہیں سے کانوں کی صفائی کروانا پڑتی ہے اور پھر یہ کام تقریباََ ہر مہینے اس کے معمولات میں شامل ہو جاتا ہے اگر کسی انسان پر گھریلو ذمہ داریاں زیادہ ہوں تو وہ کم سے کم پیسے دے کر اس صفائی کو بڑی صفائی سے کروانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے لیکن کچھ لوگ کانوں کی صفائی بھی کارپوریشن یا ویسٹ منیجمنٹ کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں بلکہ کئی لوگ ان کی صفائی میں اس حد تک کر گزرجاتے ہیں کہ یہ کان کن کھجورے کے لیے گویا موٹروے بن جاتی ہے بالاخر یہ خود ساختہ مریض اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے کہ وہ آئندہ ایسی صفائی سے دور رہے گا یہ امر ایک لحاظ سے بہتر ہے کہ کان کی صفائی باہر سے ہو جاتی ہے اور اس کے لئے کوئی بائی پاس نہیں کرنا پڑتا۔ البتہ ان کا بیرونی سائز کوئی بھی ہو اتائیوں سے ان کی صفائی کا ریٹ طے کرنا ضروری ہے فرق صرف یہ ہے کہ اسے صفائی کی بجائے فل سروس کا نام دے دیا جاتا ہے اور اس سروس کے پیسے زیادہ کھینچ لیے جاتے ہیں۔

کانوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنے کسی محسن کے لیے آ نکھیں بچھانے کو تیار ہو جاتے ہیں لیکن اس کام کے لیے اپنے کانوں کو ریڈ کارپٹ بنانے کا خطرہ مول نہیں لیتے۔ صفائی کے دوران اتائی کے ہاتھ میں لمبی سلائی سے یہ ڈر بھی پیش درپیش رہتا ہے کہ یہ کانوں کا سراغ کھولتے کھولتے کہیں دل میں سوراخ نہ کر دے اور اگر ذرا سی بے احتیاطی سے ایسا واقعہ پیش آ جائے تو پھر ان کے کانوں کومروڑنا بھی فرض ہو جاتا ہے۔ بیشتر اتائی کانوں کی صفائی کے دوران مریض کے کان ای این ٹی سپیشلسٹ کے خلاف بھی بھرنے ماہر بھی ہوتے ہیں۔ ریاست ENT اسپیشلسٹ بلکہ وہ ساتھ آئی اسپیشلسٹ کی طرح بھی ہوتی ہے جو عوام ناک کان اور گلے پر پوری آنکھ رکھتے ہیں کہ جہاں خرابی ہو وہاں اس کے کان کھڑے ہوجانا چاہئیں تاکہ عوام ان کے گلے نہ پڑیں ورنہ سیاسی ناک کٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔