Monday, 02 March 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Aaghar Nadeem Sahar
  4. Darhi Walay Mazah Nigar Bhi Hote Hai

Darhi Walay Mazah Nigar Bhi Hote Hai

سید سلمان گیلانیؒ کو آپ سب نے بطور مزاح نگار دیکھا اور سنا ہوگا مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ان کا سب سے منفرد اور نمایاں حوالہ نعت رسول مقبول ﷺ اور منقبت نگاری کا تھا۔ پاکستان میں جب بھی کسی فتنے نے سر اٹھایا، اس کی سرکوبی کے لیے شعری جہاد سب سے پہلے سید سلمان گیلانی نے کیا، انھیں یہ محبت اور جنون اپنے والدِ گرامی سید امین گیلانیؒ کی طرف سے ورثے میں ملا تھا۔ سید امین گیلانی نے بھی اس وقت اسٹیجوں پر مسئلہ ختم نبوت پر نظمیں سنائیں۔

ملک بھر کے اسٹیجوں پر دو نام نمایاں ہوتے تھے، مولانا منظور احمد چنیوٹی اور سید امین گیلانی، والد مرحوم کے بعد یہ ذمہ داری سید سلمان گیلانی نے اپنے کندھوں پر اٹھائی اور پاکستان کی بجائے دنیا بھر میں اس مشن کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ میرا بھی سید سلمان گیلانی سے پہلا تعارف اور ملاقات بطور نعت خواں تھی، آپ میرے شہر کے ایک چھوٹے سے گائوں میں نعت پڑھنے تشریف لائے تھے، اس تقریب میں کئی نامور نعت خواں بھی شریک تھی، اسٹیج پر میں نے بھی بطور مبتدی نعت خوان شرکت کی، بعد از تقریب گیلانی صاحب نے اپنے نعتیہ مجموعے"میں ہوں عندلیبِ بطحا"سے نوازا اور ساتھ یہ مشورہ بھی دیا کہ "شعر اچھا کہہ لیتے ہو، اس سے ہمیشہ جڑے رہنا"۔

یہ میراپہلا تعارف اور ملاقات تھی، اس واقعے کو ڈیڑھ دہائی سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا، میرے دماغ میں اس ملاقات اور داد کا خمار آج بھی موجود ہے۔ جو لوگ گیلانی صاحب سے ملے ہیں، ان کو محافل میں سنا ہے، وہ جانتے ہوں گے کہ گیلانی صاحب داد دینے میں ذرا بھی کنجوسی نہیں کرتے تھے۔ اپنے معاصرین یا سینئرز کو داد تو سبھی دیتے ہیں، اپنے جونیئرز کو سینے سے لگانا، ان کے سطحی شعروں پر بھی ان کا حوصلہ بڑھانا، انھیں شعر سے محبت سکھانا، گیلانی صاحب کا خاصہ تھا۔ وہ اگرچہ نمکین غزلیں بھی کہتے تھے، اسٹیجوں پر انھیں بطور مزاح نگار ہی بلایا جاتا تھا مگر ان کا سب سے مستند حوالہ نعت اور منقبت رہی۔

ایک زمانے میں گیلانی صاحب پر تنقید ہونے لگی کہ حلیہ مکمل اسلامی ہے اور نمکین غزلیں انتہائی غیر اخلاقی، یہ کھلا تضاد ہے۔ میں نے ایک سفر پر جاتے ہوئے گیلانی صاحب سے یہ سوال کر لیا کہ آپ باریش انسان ہیں، آپ یہ نمکین شاعری کی طرف کیسے آئے؟ آپ مسکرائے اور کہنے لگے "میاں! ایک زمانہ تھا، شدت پسند اور دہشت گرد گروہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ داڑھی والے شدت پسند ہوتے ہیں، یہ بچوں کو اسلامی تقریروں اور شاعری کے نام پر متشدد بنا رہے ہیں، میں نے اس وقت نمکین شاعری سنا کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ علمائے کرام یا داڑھی والے مزاح نگار بھی ہوتے ہیں"۔

مجھے ان کی یہ توجیہ بہت معقول لگی۔ ایسے دور میں مذہبی اسٹیجوں پرایسی شخصیات اور شاعروں کی اشد ضرورت تھی جو علمائے کرام کا ایک سافٹ امیج عوام کے سامنے پیش کرتے، گیلانی صاحب نے نمکین غزلوں کے ساتھ ایک نئے اور دبنگ انداز میں اپنا موقف پیش کیا۔ پھر خدا نے انھیں اس میدان میں بھی وہ مقبولیت دی کہ دنیا ششدر و حیران رہ گئی، گیلانی صاحب پہلے نعت نگار اور منقبت نگار تھے، اس کے بعد مزاح نگار۔ انھوں نے ان تینوں شعبوں میں بیک وقت اپنا لواہا منوایا، ان کے خلاف وہی بولتے تھے، جو ان کے قد و قامت سے خوف کھاتے تھے۔ دکھ تو یہ ہے کہ گیلانی صاحب کے بعد ہمیں اس میدان میں کوئی ایک بھی ایسا شاعر نظر نہیں آتا جو لفظوں کا جادوگر ہو اور ان میدانوں میں اپنا موقف انتہائی خوش اسلوبی سے پیش کر سکے۔

گیلانی صاحب کی شاعری کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اس میں غیر اخلاقی شعر نہیں تھا، وہ منقبتی شاعری میں بھی گالم گلوچ سے ہمیشہ دور رہے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ جب آپ شاعری میں گالی گلوچ پر اتر آتے تھے تو آپ کا موقف انتہائی کمزور ہو جاتا ہے، پڑھا لکھا آدمی دلیل سے بات کرتا ہے اور جاہل گالی اور گولی سے، وہ ایسے شاعروں سے ہمیشہ نالاں رہے جنھوں نے اپنی شاعری میں اس بات کا لحاظ نہیں کیا۔ میں ان کی والدہ کی وفات پر ان کے گھر تعزیت کے لیے گیا، جامعہ پنجاب کے ایک مشہور پروفیسر بھی وہاں موجود تھے، اس موضوع پر مکالمہ شروع ہوگیا، گیلانی صاحب نے بہت وضاحت سے اس پر بات کی، ان کا کہنا تھا کہ مخالف بھی گالی دے اور کمزور روایتیں پیش کرے، آپ بھی ایسا کریں گے تو ہم دونوں میں فرق کہاں رہ گیا، ہمیں اپنی جگہ انتہائی نمایاں بنانی ہے اور اس کے لیے مستند دلیل بہت اہم ہے اور وہ خود اس بات پر ہمیشہ قائم رہے۔

آپ سے محبت کرنے والوں میں صرف قلم کار نہیں تھے بلکہ علمائے کرام کا ایک وسیع طبقہ ان سے والہانہ محبت کرتا تھا، اس کے پیچھے گیلانی صاحب کا مشفقانہ مزاج، مدبرانہ انداز گفتگو اور تفکر انگیز قلم تھا جس کی بنیاد پر مخالفین بھی ان کا نام انتہائی عقیدت و احترام سے لیا کرتے۔ ان کی وفات پر ان کے اپنے بھی اداس اور تکلیف میں تھے اور پرائے بھی، سب کا ان احترام ایک خیر خواہ اور مصلح کے طور پر کرتے تھے، انھوں نے ہمیشہ محبتیں بانٹیں، امن کی باتیں کی، اصلاح کا رویہ اپنایا، اس طرز زندگی نے انھیں مخالف طبقوں میں بھی یکساں مقبولیت اور عزت سے نوازا۔

ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ کے چند بڑے اور اہم جنازوں میں شمار ہوتا ہے، ملک بھر سے ہزاروں علمائے کرام اور مداحین نے شرکت کی، اس جنازے میں لاہور کے شاعروں نے بھی شرکت کی مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی، خیر اس بات پر دکھی نہیں ہونا چاہیے، ہم نے کئی قدآور تخلیق کاروں کے جنازے بھی دیکھ رکھے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹ لگانے والے تو لاکھوں ہوتے ہیں مگر جنازے کو کندھا دینے والوں میں درجن بھر بھی نہیں ہوتے۔ گیلانی صاحب کا جنازہ دنیائے ادب اور دنیائے مذہب کا ایک بڑا اور اہم جنازہ تھا، خدا انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔