Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Aaghar Nadeem Sahar
  4. Log Rukhsat Hue Aur Log Bhi Kaise Kaise

Log Rukhsat Hue Aur Log Bhi Kaise Kaise

شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا حسین علیؒ اور علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے جنھوں نے تما م عمر توحید و سنت کا پرچار کیا، شیخ القرآنؒ نے اپنے اساتذہ کے پڑھائے ہوئے اسباق اور دعوت پر نہ صرف خود من و عن عمل کیا بلکہ وطن عزیز کے کونے کونے میں اس دعوت کو عام کیا۔ آپ انتہائی جری، بے باک اور معاملہ فہم عالم دین تھے، قومی تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مجلس احرار اسلام ہو یا پھرتحریک ختمِ نبوت کے دونوں ادوار، تحریک نظام مصطفی ہو یا پھر کوئی اور قومی و دینی تحریک، آپ نے ہمیشہ بہت نمایاں اور دبنگ کردارادا کیا۔

تمام عمر ردِ شرک و بدعت اور توحید و سنت کی اشاعت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا، اس مایہ ناز سفر میں آپ کو ہزاروں مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، اپنے پرائے ہو گئے، دوست دشمن ہو گئے، گھر والوں نے منہ موڑ لیا، اہلیانِ علاقہ نے نفرت کا اظہار کرنا شروع کر دیا مگر آپ شیخ القرآنؒ کا حوصلہ دیکھیں، ان ساری پریشانیوں کے باوجود آپ کے پائے استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی، آپ کاجذبہ اور توحید و سنت کے پرچار کا جنون، دنیاوی مصیبتوں پر ہمیشہ حاوی رہا۔ کسی بھی طرح کا لالچ، دھمکی یا سازش ان کے قدم ڈگمگا نہ سکی، حکمرانوں کے جاہ و جلال، رعب و دبدبہ اور شان و شوکت سے مرعوب ہونا وہ جانتے ہی نہ تھے، اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ بت کدوں میں اللہ اکبر کی صدا لگاتے رہے، یہی وجہ ہے کہ امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ انھیں ظریفانہ انداز میں "انتقام اللہ خان"کہا کرتے تھے۔

ایوب خان کے دور حکومت میں جب امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا احمد علی لاہوریؒ، یکے بعد دیگرے اس دنیا سے رخصت ہوئے تو مدنی علمائے کرام اور عوام الناس نے اپنی امیدوں کا مرکز و محور جن دو شخصیات کو بنایا تھا، وہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ اور سید عنایت اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ ان دونوں شخصیات نے اپنے اکابرین اور اسلاف کی علمی میراث کو جس احسن اور باوقار انداز میں آگے پہنچایا، تاریخ اسے ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔

شیخ القرآنؒ نے شرک و بدعت کے ابلیسی نظام کے محاسبے اور قادیانیت کے جھوٹے نظام فکرکے خلاف تما مکاتیب فکر کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے رہے، ان کا بنیادی فلسفہ ہی یہ تھا کہ وہ نظریات اور فکری مغالطے جنھوں نے عوام کو دینی محمدیﷺ کی اصل روح سے دور کر دیا ہے، ان کے خلاف جہاد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اصل میں یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی تھی جب 1970ء کے الیکشن میں چند سیٹوں پر مرزائی منتخب ہوئے اوروہ حالات سازگار دیکھ کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے تھے مگر صد شکر کہ ایسا نہ ہو سکا۔ اس وقت قومی اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے علم جہاد بلند کیا، اسمبلی کے باہر جن اکابرین نے ختم نبوت ﷺ کے تحفظ کے لیے اپنی جان، مال اور وقت کا نذرانہ پیش کیا، ان میں شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ پیش پیش تھے، مولانا غلام اللہ خانؒ اور ان کے دوست سید عنایت اللہ شاہ بخاریؒ کی وفات کے بعد اس مشن کو جن اکابرین نے آگے پہنچایا ان میں جانشین شیخ القرآن مولانا اشرف علیؒ کا کردار بہت نمایاں رہا۔

26 مئی 1980ء کو شیخ القرآن دبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے، ان کی نمازہ جنازہ لیاقت باغ میں ان کے دوست سید عنایت اللہ شاہ بخاریؒ نے پڑھائی، اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق بھی آپ کے جنازے کو کندھا دینے والوں میں شامل تھے۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا عار نہیں کہ اس قبیلے نے اہل سنت کی بنیادوں میں اپنا خون دیا ہے، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ ہوں یا پھر مولانا قاضی احسان الحقؒ، مولانا حسین علیؒ، مفتی امان اللہ شہیدؒ اور مولانا اشرف علیؒ۔

دو روز قبل جب جانشین شیخ القرآنؒ کی وفات کی خبر سنی تو دل و دماغ کو ایک نہ ختم ہونے والی اداسی نے گھیر لیا، میں نے ختم نبوتﷺ کی ان تحاریک کو ازسرنو دیکھا اور اپنے اکابرین و اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرنے لگا، اس بات کا اعتراف ان کے مخالفین بھی کرتے تھے ختم نبوتﷺ کا پرچار جس احسن انداز میں شیخ القرآنؒ یا ان کے اکابرین اور جانشین نے کیا، وہ بلاشبہ قابل تحسین ہے۔

16 نومبر2013ء (عین جمعہ کی نماز کے وقت) جب اس تاریخی مرکز (تعلیم القرآن) پر کچھ شرپسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا اور اس مرکز توحید و سنت کو خدا نخواستہ مٹانے کی مذموم کوشش کی گئی تھی، دنیا بھر سے اہل سنت فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، اس اندوہ ناک حادثے میں درجنوں بے گناہ علمائے کرام اور سینکڑوں طالب علم شہید ہو گئے تھے، دنیا بھر میں اس واقعے کو آج بھی ظلم و ستم کی ایک داستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کا ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا مگر۔۔

میں یہ ساری باتیں اس لیے کر رہا ہوں کہ ایک ایسا گھرانہ اور ایک ایسا طبقہ جنھوں نے تاعمر ایک بڑے مشن کے پرچار کے لیے کام کیا، ان کی وفات نے ایک پورے عہد کو اداس کر دیا ہے، کسی نے درست کہا تھا کہ عالِم کی موت، عالَم کی موت ہوتی ہے، آج بھی یوں ہی محسوس ہو رہا ہے مگر ایک بات تو طے ہے کہ دار العلوم تعلیم القرآن راولپنڈی سے قیامت کے دن تک، توحید و سنت، ختم نبوتﷺ اور عظمت صحابہؓ کی شمعیں روشن ہوتی رہیں گی، حضرت شیخ القرآن کا ایک بیٹا تو دنیا سے رخصت ہوگیا مگر دنیا کے کونے کونے میں شیخ القرآن کے لاکھوں روحانی بیٹے موجود ہیں، وہ اس مشن کو اسی طرح آگے بڑھاتے رہیں گے، جیسے اکابرین اور اسلاف نے آگے پہنچایا، خدا کے دین کا پرچم اور توحید و سنت کی اشاعت کا کام ہمیشہ آگے بڑھتا رہے گا، ہر ایسے نظریے اور طاقت کا سر کچلا جاتا رہے گا جو توحید و سنت پر، ختم نبوتﷺ پر یا پھر امہات المومنینؓ اور صحابہ کرامؓ پر کسی بھی طرح سے حملہ کرے گا، اس ادارے، اس مرکز اور اس مشن سے وابستہ افراد اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس مشن کی حفاظت کریں گے۔

بقول محشر بدایونی:

سوچتا ہوں کہ ڈھلیں گے یہ اندھیرے کیسے
لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے