Monday, 02 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Saadia Bashir
  4. Shama Har Rang Mein Jalti Hai Sehar Hone Tak

Shama Har Rang Mein Jalti Hai Sehar Hone Tak

"خواتین کے بارے میں کوئی فیصلہ، خواتین کے بغیر نہیں"۔ یہ محض ایک جملہ نہیں۔ یہ ایک فکری اعلان اور مزاحمتی صدا ہے اور یہی صدا پاکستان میڈیکل ویمن ایسوسی ایشن کے منشور کی روح ہے۔ جس کی بانی اور روح رواں ڈاکٹر وجیہہ ہیں۔ جو انتہائی ذہین، قابل اور متحرک شخصیت ہیں اور ہمیشہ اعداد و شمار، زمینی حقائق اور دلیل کی بات کرتی ہیں۔

سفید کوٹ کو اگر صرف ایک یونیفارم سمجھا جائے تو یہ زیادتی ہوگی۔ یہ دراصل ایک عہد ہے۔ ایک مسلسل بیداری ہے، ایک ایسی ذمہ داری ہے جو کندھوں پر نہیں، ضمیر پر رکھی جاتی ہے۔ اس کی سفیدی قائم رکھنے کے لیے کتنے ہی خواب اپنے رنگ قربان کرتے ہیں۔ ایک بچی جب پہلی بار ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی ہے تو اسے اندازہ تک نہیں ہوتا کہ اس خواب کی تعبیر میں اس کا بچپن، اس کی جوانی، اس کی نیندیں، اس کی عیدیں، اس کی خواہشیں سب شاملِ نصاب ہو جائیں گی۔ وہ کھیل کے میدان سے کتابوں کی میز تک آتی ہے۔ تقریبات سے لائبریری تک سمٹتی ہے اور یوں اپنے وجود کو ایک مقصد کے تابع کر دیتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اس قربانی کو اسی سنجیدگی سے قبول کرتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر بچیوں کو ڈاکٹر بنانے کا فیصلہ ان کی پیشہ ورانہ شناخت کے لیے نہیں بلکہ سماجی وقار کے لیے کیا جاتا ہے۔ گویا سفید کوٹ قابلیت سے زیادہ رشتوں کی منڈی میں قدر بڑھانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف پیشے کی توہین ہے بلکہ ان بچیوں کے خوابوں سے بھی ناانصافی ہے جو واقعی طب کو خدمت سمجھ کر اپناتی ہیں۔ میڈیکل کالج تک پہنچنے کا سفر کٹھن ہے، مگر اس کے بعد کا راستہ اس سے بھی زیادہ دشوار۔ نصاب سخت ہے مگر نظام اس سے بھی زیادہ بے رحم۔ ہاؤس جاب اور ٹریننگ کے برسوں میں نیند ایک تعیش بن جاتی ہے۔ چوبیس گھنٹے کی آن کال ڈیوٹی، غیر محفوظ وارڈز، ناکافی تنخواہیں جو صرف خواتین کا مسئلہ نہیں مرد ڈاکٹر بھی انھی مشکلات سے دوچار ہیں۔

پوسٹ گریجویٹ تربیت کے محدود مواقع اور پیشہ ورانہ عدم تحفظ۔ یہ سب مل کر اس جوش کو آہستہ آہستہ تھکاوٹ میں بدل دیتے ہیں۔ پھر شادی اور اس کے ساتھ ایک غیر مرئی سوالنامہ۔ کیا وہ گھر اور ہسپتال دونوں سنبھال سکتی ہے۔ کیا اسے اجازت ہوگی۔ کیا خاندان اس کے پیشے کی نوعیت کو سمجھے گا۔ اگر سسرال یا شوہر کی طرف سے حمایت نہ ہو تو ایک با صلاحیت ڈاکٹر بھی عملی طور پر محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ طبی ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ خواتین ڈاکٹرز کو بیرونی سماجی اور ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

حیرت انگیز طور پر یہی سوالات بیوروکریسی، پولیس یا سیاست میں جانے والی خواتین سے کم کم ہی پوچھے جاتے ہیں۔ وہاں ڈیوٹی کے اوقات بھی سخت ہیں۔ خطرات بھی موجود ہیں، مگر اعتراض کم ہے۔ طب کے شعبے میں اعتراض کیوں۔ شاید اس لیے کہ یہاں سہولیات کم ہیں۔ سپورٹ سسٹم کمزور ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں جذباتی محنت کا اعتراف نہیں کیا جاتا۔ ایک خاتون ڈاکٹر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پیشہ ور بھی ہو۔ مثالی بہو بھی۔ مکمل ماں بھی اور ہر وقت دستیاب معالج بھی۔ یہ کثیر الجہتی توقعات اکثر اس کے وجود کو چیر دیتی ہیں۔

علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیے جائیں۔ اگر مسئلہ پیچیدہ ہے تو حل بھی سنجیدہ ہونا چاہیے۔ محض نشستیں کم کرنے یا خواتین کو مورد الزام ٹھہرانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہر سال ہزاروں نئے ڈاکٹر عملی طور پر نظر نہیں آتے۔ یہ صرف افرادی قوت کا مسئلہ نہیں۔ یہ قومی وسائل کے ضیاع کا سوال ہے۔ برسوں کی محنت اور ریاستی سرمایہ کاری صفر ہو جاتی ہے۔ پھر ایک اور تلخ حقیقت ہے۔ ہمارے ہسپتالوں میں نظام کی ہر خرابی کا بوجھ ڈاکٹر کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ مریض اگر تاخیر سے آئے۔ سہولیات ناکافی ہوں۔ ادویات میسر نہ ہوں۔ قصور وار ڈاکٹر، اگر نتیجہ توقع کے مطابق نہ ہو۔ قصور وار ڈاکٹر۔ تشدد، بدزبانی، ویڈیوز بنانا۔ حتیٰ کہ جان لیوا حملے۔ یہ سب اس سفید کوٹ کے حصے میں آتا ہے جو دراصل ایثار و قربانی کی نیت اور نام سے پہنا جاتا ہے۔

ہم ایک انسان سے مافوق الفطرت توقع رکھتے ہیں اور جب وہ انسان اپنی انسانی حدوں میں رہ کر جدوجہد کرتا ہے تو ہم اسے معاف نہیں کرتے، ایسے میں پاکستان میڈیکل ویمن ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے ڈاکٹر وجیہہ کا ویژن محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ صحت کے حوالے سے ایک صنفی و انسانی برادری کا قیام۔ جہاں خواتین بطور قائد ابھریں۔ مثبت تبدیلی کی علامت بنیں اور اپنی صلاحیتوں کو مکمل وسعت کے ساتھ بروئے کار لا سکیں۔ اس کا مشن صنفی مساوات، تنوع اور بہترین معیار پر مبنی ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جہاں خواتین کی راہ میں درپیش سماجی و ثقافتی رکاوٹوں کو تسلیم بھی کیا جائے اور ان کا حل بھی تلاش کیا جائے۔

عوامی آگاہی، صنفی مساوات کا فروغ، پیشہ ورانہ ترقی، تحقیق و جدت، رہنمائی و معاونت، کمیونٹی انگیجمنٹ اور سب سے بڑھ کر ڈاکٹر وجیہہ کی مؤثر وکالت۔ یہ سب محض نکات نہیں بلکہ اس سفید کوٹ کی حفاظت کے ستون ہیں۔ مساوات، بااختیاری، اشتراک اور پیشہ ورانہ مہارت وہ اقدار ہیں جو ایک مضبوط طبی معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سفید کوٹ کو ایک انسان کے تناظر میں دیکھیں۔ ایک ایسی عورت کے تناظر میں جو اپنے خوابوں کو ملتوی کرکے دوسروں کی زندگیوں کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس پیشے میں قائم رہے تو ہمیں اسے تحفظ، سہولت، عزت اور اعتراف دینا ہوگا۔ ہمیں اسے دو طرفہ احترام دینا ہوگا۔ اس کی تنخواہ کو اس کی محنت کے مطابق بنانا ہوگا۔ اس کے کام کی جگہ کو محفوظ بنانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر اس سے متعلق فیصلوں میں اسے شامل کرنا ہوگا۔

سفید کوٹ کی سفیدی برقرار رکھنے کے لیے صرف ڈاکٹر کی نیت کافی نہیں۔ معاشرے اور انتظامی امور کی بہتری بھی درکار ہے۔ کیونکہ جب خوابوں کے سارے رنگ قربان ہو جائیں تو صرف سفیدی باقی نہیں رہتی۔ خالی پن بھی رہ جاتا ہے اور ہم ایک ایسے نظام کے متحمل نہیں ہو سکتے جس میں ہمارے معالج ہی تھک کر بیٹھ جائیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر عہد کریں۔ خواتین کے بارے میں ہر فیصلہ میں ان کا وقار مدنظر۔