حالیہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے خطے کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر طاقتوں کی کشمکش، توانائی کے بحران اور پراکسی جنگوں کے خطرات کے درمیان پاکستان ایک نہایت حساس جغرافیائی اور اسٹریٹیجک مقام پر کھڑا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان بالخصوص پاکستانی افواج نے جس توازن، بردباری اور تدبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ ایک ذمہ دار ریاستی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف خود کو براہِ راست اس تنازع سے دور رکھنے کی پالیسی اپنائی بلکہ سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔
عالمی رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ رابطوں میں امن کے خواہاں ہیں۔ جو ایک متوازن اور ذمہ دار کردار کا واضح ثبوت ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستانی فوج کا کردار محض دفاعی ادارے سے بڑھ کر ایک اسٹریٹیجک استحکام فراہم کرنے والے ستون کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس وقت فوج بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف ہے۔ ایک طرف بیرونی خطرات ہیں۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور دشمنوں کے سرحدی چیلنجز۔ تو دوسری طرف اندرونی محاذ پر دہشت گردی۔
علیحدگی پسند تحریکیں اور پراکسی جنگوں کے خدشات روپ بدل بدل کر وار کر رہے ہیں۔ خصوصاً بلوچستان کی صورتحال اس پیچیدگی کی واضح مثال ہے۔ جہاں برسوں سے جاری شورش اور حالیہ حملوں نے سیکیورٹی چیلنجز کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف ایک سال میں سینکڑوں حملے اور درجنوں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ دشمن کس منظم انداز میں پاکستان کے استحکام کو نشانہ بنا رہا ہے۔ مزید برآں بلوچستان میں پیش آنے والے حالیہ دلخراش واقعات۔ جہاں سیکیورٹی اہلکاروں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔ ناقابل تلافی نقصان ہیں۔
ایسے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے قابلِ برداشت نہیں۔ یہ محض حملے نہیں بلکہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوششیں ہیں، جن کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک"ملٹی فرنٹ وار" کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ ایک ایسی جنگ جو صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی، اطلاعاتی اور داخلی سطح پر بھی جاری ہے۔ اس میں بیرونی دشمن تو شامل ہیں ہی، مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ اندرونی عناصر ہیں جو منافقانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ستم تو یہ ہے کہ فوج ستم میں بھی انجم
بس اپنے لوگ ہی دیکھوں جدھر نگاہ کروں
(انجم خلیق)
اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں چیف آف آرمی اسٹاف کی شیعہ علما سے ملاقات کو متنازع بنانے کی کوشش ایک افسوسناک مثال ہے۔ یہ ایک مثبت اور ہم آہنگی پیدا کرنے والا اقدام تھا۔ جسے دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ دے کر پیش کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران جنگ کے بعد پاکستان میں ہونے والے احتجاج اور فرقہ وارانہ حساسیت کے ماحول میں قومی اتحاد کی مضبوطی ناگزیر ہے۔
پاک فوج نے ہمیشہ قومی اتحاد کی سلامتی کے لیے تمام مکاتبِ فکر کو دعوت عام دی ہے۔ یہ محض ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ ریاست کی طرف سے ایک سماجی توازن کی حکمت عملی تھی۔ ایک ایسا قدم جو ممکنہ داخلی انتشار کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا۔ مگر دشمن عناصر نے اسے بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ وہ ہر ممکن طریقے سے داخلی انتشار پیدا کرنے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ فوج اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جا سکے۔
عزت کا ہے نہ اوج نہ نیکی کی موج ہے
حملہ ہے اپنی قوم پہ لفظوں کی فوج ہے
(اکبر الہ آبادی)
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دشمن ممالک کی پشت پناہی سے چلنے والے عناصر۔ چاہے وہ دہشت گرد تنظیموں کی شکل میں ہوں یا معلوماتی جنگ (information warfare) کے ذریعے مسلسل پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے۔ اگر فوج کمزور ہوگی تو ریاست کمزور ہوگی اور اگر ریاست کمزور ہوگی تو سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوگا۔ تاہم تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستانی فوج نے ہر آزمائش میں قوم کو سرخرو کیا ہے۔ چاہے وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو۔ سرحدی دفاع ہو یا داخلی امن کا قیام۔ فوج نے ہمیشہ قربانیاں دے کر ملک کا دفاع کیا ہے۔ ہزاروں جانوں کی قربانی اس عزم کی روشن دلیل ہے۔
اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا
جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم محض جذباتی نعروں تک محدود نہ رہیں، بلکہ بحیثیت قوم اتحاد، برداشت اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ شعوری طور پر ان سازشوں کو سمجھیں جو ہمیں تقسیم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ جنگ صرف بندوق کی نہیں بلکہ بیانیے کی بھی ہے اور اس میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب قوم اور ادارے ایک صفحے پر ہوں۔
اے اہل وطن شام و سحر جاگتے رہنا
اغیار ہیں آمادۂ شر جاگتے رہنا
پاکستان کی بقا، استحکام اور ترقی کا راستہ اتحاد، شعور اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے اور اس راستے میں پاکستانی فوج کا مدبر اور ذمہ دار کردار یقیناً قابلِ تحسین بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی۔ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور داخلی ہم آہنگی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سچ اور پروپیگنڈہ میں فرق پہچانیں اور ساتھ کھڑے نظر آئیں۔ دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو۔