Wednesday, 18 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Ali Raza Ahmed
  4. Adal Ka Bojh

Adal Ka Bojh

اب نیٹو کے اتحادیوں کا شاید وجود نظر نہیں آرہا لیکن آج کل سب سے بڑے اتحادی "اپسٹین جزیروی" یا اپسٹین کے باس کے یرغمالی اس وقت ایک مضبوط اتحادیوں کی شکل میں سامنے آچکے ہیں۔ جے فری اپسٹین کے جزیروں کا دنیا میں چرچہ ہے۔ یہاں فائلوں کے ساتھ pedophile کے راز اور ساتھ تیسری عالمی جنگ کے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ ویسے کسی پاکستانی کا ابھی تک اس گھنونے قصے میں کوئی نام سامنے نہیں آیا جن کا آیا بھی ہے وہ اس کے وجود سے دھائیاں قبل وہاں کا پھیرا لگا چکے ہیں ہو سکتا ہے پچیس تیس سال قبل انہوں نے اس جزیرے کو آباد کرنے کے مشورے یا اپنی گراں قدر vision دی ہوکہ یہ "تیسرے عالمی امن" کے لئے Absolutely سود مند ہے۔ جے فری کی "تکنیک" یوں سمجھ آرہی ہے کہ جیسے کسی نے خود کو تھوڑا پھنسا کر باقی دشمنوں کو ہمیشہ کے لئے پھنسا دیا ہو۔

نیویارک میں پیدا ہونے والے اپسٹین نے اپنے کیریئر کی ابتدا سکول ٹیچر سے کی جہاں وہ میتھ ٹیچنگ سے دو چار ہاتھ کرتا تھا۔ ریاضی پڑھانے والے کی صرف ریاضی سے اراضی تو بنتی نہیں اس کے لئے اسے کچھ نہ کچھ جمع تفریق کرنا پڑتی ہے لیکن اپسٹین تیزی سے ضربیں لگاتا ہوا کیا سے کیا جمع کرتا گیا، اس کے لارڈز نے اس پر خوب پیسہ نشاور کیا، اس نے جیویارک میں جائیدادیں بنائیں جہازوں کے ساتھ جزیرے بھی خرید لئے یوں بڑے بڑے نامور لوگوں کو اپنے مختلف قسم کے جال میں پھنسایا پھر یہاں ایسے ایسے مالز بنائے جہاں ہر قسم کا مال ملتا تھا لیکن خریدار کی شکل یا عمر نہیں اس کے مستقبل کے عہدے کو مدنظر رکھ کر سیوا کی جاتی تھی۔ یہاں عالمی سازشوں کا شاہکار مودی بھی کسی طریقے سے جا پہنچا ورنہ اس جزیرے کے کسی چڑیا گھر میں بھی اس کی جگہ نہیں بنتی تھی بلکہ بھلا ہو مودی کا اس نے جیسے ہی جزیرے میں قدم رکھا اس کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا کیونکہ جہاں مودی جائے وہاں کے سیدھے رستے عمودی کیوں نہ ہوں کیونکہ مودی برانڈ ہے بربادی کا۔

یہاں کھینچ کر لائے جانے والے سرکردہ لوگوں کی کلوننگ کی جاتی تھی یوں ان کی شخصیت سے بھی بڑے clown تیار کیے جاتے تھے۔ جیفری ایپسٹن نے اپنے والد رابرٹ اپسٹین کوبھی نہیں چھوڑا اور اس کی بھی کلوننگ کروا دی تھی امریکی گلوکارہ برٹنی کی کلوننگ کی گئی جو اب پندرہ سولہ سال کی ہے اسی طرح مودی کی کلوننگ کرکے ایک کچے پکے مودی کو اسی جزیرے میں اس کی خواہش کے مطابق چائے کا ڈھابہ کھول دیا گیا۔ جہاں بی جے پی یعنی Bharat Jaffrey Point لکھا ہو سمجھ لیں یہیں چائے پانی ملے گا یہاں بھی وہ اپنے چھپن انچ قدسے سینہ زوری کرتا ہے اور ڈھابے کے باہر ایسے نعرے لگاتا پایا جاتا ہے "سب سے کم دام جے فری نام جے شری رام"

اس نے ڈھابے میں یہ بھی لکھوا رکھا ہے۔

ٹرمپ جو یہاں آئے/ اس کو ملے گی چائے/ ڈانس بھی دیکھے وہ/ گائے بھی گانا گائے/ پتی جو میری تیز/ ہر کوئی دھوکہ کھائے/ سب اس کو پٹیں گے/ پیر یہاں جو پائے/ بیچ دوں سب کو میں / اپنے ہوں یا پرائے/ میں ہی ہوں اپرادی/ سب کی کیا ہے رائے

بھلا ہو"گبر" کا جو واقعی اپنے دور کی"گبر سنگھ" ثابت ہوئی۔ اکیس سالہ میکسیکن گبریلا نے آج اسے اٹھارہ سال قبل جب ننگے پاؤں چیخ چیخ کر بین القوامی پارٹی میں ہائی پروفائل لیڈروں کی جانب انسانی گوشت خوری کی دعوت کے بارے میں بتایا تھا توجملہ انواع کے "جانوروں" نے اپنی اپنی بولی میں اس کا مذاق اڑایا تھا۔ بعد ازاں اس راز کو "افشاں" کرنے والی بہادر لڑکی کو دماغی مریض قرار دے کر اسے موت کے ہاتھوں گرفتار کرا دیاگیا۔

ایپسٹین کی دنیا میں معصوم لڑکیاں اور لڑکے ایک ایسی اصطلاح تھی جس کا مطلب لغت میں کچھ اور طاقتوروں کے اذہان میں کچھ اور پلاننگ میں کچھ اور ہی تھاجیسے مال کا مالی باغ کا باغی بغیر کا بغیرت اور دیوالی کا دیوالیہ سے کوئی لفظی تعلق نہیں ہوتا اس طرح ان کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ کہنے کو اپسٹین نے ایک جزیرے میں یہ دھندہ چلا رکھا تھا بلکہ وہ ہر جگہ کو جزیرہ بنانے کے ہنر سے واقف تھا۔ جنس گردوں کا یہ جزیرہ جہاں امارت رات کو سن باتھ کرتی تھی۔

ایپسٹین کا "جزیرہ" اقوامِ متحدہ کے غیر رسمی اجلاس جیسا تھا فرق صرف یہ تھا کہ یہاں قراردادیں نہیں قصے قرار پاتے تھے۔ یہاں کبھی سینئر بش آتا تو plants اور درختوں سے زیادہ Bush نظر آتے اور ہلیری کلنٹن کا نام آتا ہے تو جزیرے کے طوطوں کے ہاتھوں کے طوطے بھی اڑ جاتے ہیں۔ یہاں معصومیت وی آئی پی پاس رکھتی تھی جو جتنا امیر ہوتا وہ اتنا معصوم ویسے بھی جن کو منفی اہداف کا نشہ ہوتا ہے انہیں اپنی ناموس نوکری اور نیند کی خاص پرواہ نہیں ہوتی۔

ایپسٹین کی دنیا میں قد آور خبروں کی طرح زیرِ بحث تھے کبھی تعریف کبھی تردیدک بھی ٹویٹ اور امریکہ میں ایک بات مشہور ہے میلانیا خاموش رہ کر بھی وہ سب کہہ دیتی ہیں جو ٹرمپ ٹویٹ کرکے بھی نہیں کہہ پاتے۔ یہاں یو اے ای کی ہندالاویس ڈک چینی اور موجودہ صدر جیسے تمام لوگ اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔ اوبامہ اور مچلی ان کے ہتھے کیوں نہیں چڑھے یہ حیرت کا باعث ہے۔

جے فری اپنے ڈی این اے سے منفرد نسل پیدا کرنا چاہتا تھاجو اسی طرح کی "فطین" ہو اور اس نے جادو ٹونے کی لیبارٹری بھی بنا رکھی تھی جس کی ان کے ہوتے ہوئے کوئی ضرورت نہیں تھی۔ دنیا بھرکے تھنک ٹینک کے معزز اراکین مل کر یہاں اپنا انٹرنیشنل جزیرائی تھنک ٹینک بنا چکے ہیں جن کے مقاصد ایک ہیں خاص طور پر وہ ہر طرح کی جوابدہی سے آزاد ہیں۔ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ سب جھوٹ ہے تو جیفری کو دوسری بار کس جرم میں جیل بھیج کر کہاں غائب کیا گیا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیفری ابھی زندہ ہو اور اسی جزیرے میں کوئی انسانی کڑاہی گوشت کھا رہا ہو۔ اپسٹین ایک شخص کانام نہیں یہ گروہ ہے اور یہ جزیرہ نہیں بلکہ حمام ہے۔ ان کے پھیلائے ہوئے شر سے اب دنیا بھر کی عدالتوں پر عدل نافذ کرنے کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔