Friday, 17 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Ali Raza Ahmed
  4. Aawara Singha (2)

Aawara Singha (2)

مزید کہنے لگا میری طرف دیکھو! مجھے انگریزی میں Frog اردو میں "فروغ" لکھتے ہیں میں اپنی بک بکی مہارت کی وجہ سے یہاں کے سارے جانوروں کا ادنیٰ وکیل ہوں مگر ابھی مجھے کچھ "وَدنیٰ" ہے۔ میں اپنی مدبرانہ چالاکیوں کے باوجود پورے جنگل میں "بطور" دیانت دار مشہور ہوں اور سینکڑوں کنال جھیل پر میرا ہی قبضہ ہے اور اسی وجہ جنگل کا بادشاہ میری اراضی پر شکار کا فیض پاتا ہے میں بغیر خوف و خطر ڈٹ کر اس جھیل میں ہاتھ پاؤں مارتا ہوں۔ ایک بھیڑیے نے بکری کے بچے کا شکار بھی اسی جھیل کے پاس میری ترجیہات اور توجیہات کی وجہ سے کیا تھا میں اپنے شور سے تمام جانوروں کو شر سے بھرپور شعور بھی دیتا ہوں میں نے دیگر جانوروں کے علاج اور "مغالطے" کے لیے ایک چھوٹا سا دارلصحت بھی بنا رکھا ہے۔ میری ایک ٹرٹر سے علاقہء غیر کے سب جانور یہاں جمع ہو جاتے ہیں۔

مینڈک آوارہ سنگھے کو مزید مشورہ دینے لگا کہ اگر تم جوگر پہن لو تو پھر تمہاری نظر اپنی پتلی ٹانگوں پر نہیں پڑے گی (آوارہ سنگھا مینڈک کی اس دم پر پاؤں رکھ کر کہنے لگا جو اس کے نکلنے کے بعد پیچھے رہ گئی تھی) میری آوارہ نظری سے اس جنگل کے ماحول میں تبدیلی آ چکی ہے اب یہاں کوئی "درندہ" بھی پرند نہیں مار سکتا۔ جنگل کے تمام جانور مجھے اس کا اہل سمجھتے ہیں کہ میں تمام خونخواروں کی آپس میں صلح کروا کر جنگل میں امن قائم کر سکتا ہوں بدقسمتی سے تمہیں میری قدر ہی نہیں ہے حالانکہ میں عالم حیوانات کا نڈر اور "با خوراک" نمائندہ ہوں مگر تم سب بے ذوق جانور ہو۔ بہتر ہے تم یہاں اپنا حلقہء بربادِ ذوق بنا لو کیونکہ تم سب "بگلا سنجی" سے کام لیتے ہوئے "اونٹ پٹانگ" باتیں کرتے رہتے ہو اب تم سب ادھر سے نکلو اور یہ deal چوک چھوڑ دواب میرے ہاتھوں بھی تمہاری خیر نہیں۔

اسی اثناء اس نے مینڈک سے پوچھا کہ آج کل وہ کوا دکھائی نہیں دے رہا جوکئی دھائیوں سے اپنی چونچ میں کنکریاں بھر کر جھیل میں پھینکتا رہا ہے تاکہ جھیل پانی سے بھری رہے اس کی "کنکریانہ" جدوجہد آپ سب کو یاد ہونا چاہئے کیونکہ وہ آج بھی اسی عادت میں قید ہے "سانپ کے پاؤں کہاں ہوتے ہیں" مینڈک کہنے لگا ابھی کل ہی وہ اپنی تمام برادری اکٹھی کرکے کوئی نیا پروگرام ترتیب دے رہا تھا۔ تم سب اس سے کہوکہ اوہ پیاسے Crow! کنکریوں کے علاوہ بھی جدوجہد "کرو" (بارہ سنگا مینڈک کی طرف سے منہ ہٹا کر کہنے لگا) اتنے میں جھیل میں سے ایک کسی اور جانور نے اپنا سر نکالا مینڈک سمجھا کہ شاید کچھوا ہے اور بارہ سنگھے کا قیاس مگر مچھ کے بارے تھاچنانچہ یہ "مگرمچھوا" بڑے غصے سے بولا تم سبزہ خوروں نے یہاں کونسی مویشی منڈی سجا رکھی ہے۔ وہ تینوں مارے خوف کے اگر مگر کرنے لگے تو وہ کہنے لگا مجھ سے زیادہ "اگر مچھ مگر مچھ" مت کرو۔ اب تم سارے یہاں سے نکلو اب تمہارا "ایئرٹائم" ختم ہو چکا ہے۔ مینڈک نے اسی وقت جھیل میں چھلانگ لگا کر زندگی کو گلے لگا لیا۔

اچانک ایک ایسے طوطے نے بریکنگ نیوز کی خبر اڑاتے ہوئے وہاں شور مچانا شروع کیا جس کے اپنے ہاتھوں کے طوطے اڑے ہوئے تھے۔ آوارہ سنگھا کہنے لگا میں اب "فراری" انجن کی طرح راہ فرار اختیار کرنا چاہتا ہوں کیونکہ بریکنگ نیوز چل رہی ہے کہ جنگل کا بادشاہ گشت پر ہے وہ کہیں مجھے دھر ہی نہ لے تم نے کون سا میرے لئے دھرنا دینا ہے۔ اس کے عاشق مزاج جانوروں نے اسے کچھ دیر مزید جلوہ دکھانے کے لئے روکنا چاہا تو اس نے ان سے کہا اب میں نے "سیٹ بیلٹ" باندھ لی ہے روک سکو تو روک لو! پھر وہ جیسے ہی جھیل سے پلٹا تو اس کے سامنے جنگل کا بادشاہ اپنے کیمرہ مین کے ساتھ نان شیڈول شکار کی تلاش میں واقعی وہاں آ نکلا۔

بارہ سنگھے نے جونہی شیر کو دیکھا تو اس کے کان اس کے سینگوں سے بھی اونچے ہو گئے۔ پاس بیٹھے بندر نے لقمہ دیا ادھر شیر آئے یا چیتا تمہاری بلا سے۔ تمہاری آوارہ گردی کو چار چاند مبارک۔ وہ ایک آنکھ بند کرکے اسے کہنے لگا تم آم کے درخت پر رہ کے عامیانہ سے ہو گئے ہو۔ ایک تو تمہیں آوارہ گردی کا شوق نہیں ہے اوپر سے تم کوشش بھی نہیں کرتے۔ اسے کوستے ہوئے اس نے فوری جنگل کی طرف جست لگا دی۔ جنگل کی طرف بھاگتے ہوئے جھاڑیوں میں آوارہ سینگھے کے سینگ اس کی Pace میں رکاوٹ بننے لگے۔ یہ جان بچانے کے لئے جوں جوں جھاڑیوں سے گزرتا اس کے سینگ ان میں الجھتے جا رہے تھے۔

یہاں بارہ سنگھا جس کا نصف چھ سنگھا ہوتا ہے اس نے کون سی رکاوٹوں والی دوڑ میں ورلڈ کپ جیتنا تھا بس جنگل کے بادشاہ کے نوالا بننے سے بچنا تھا؟ شیر جو اس کا پیچھا کر رہا تھا اپنی من پسندہ غذا کو قریب آتے دیکھ کر وقت سے پہلے جشن منا رہا تھا مگر اس کنوارہ سنگھے کی حالت بہت ہی قابلِ رحم تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا، "ہائے افسوس! جو سینگ مجھے اور میرے چاہنے والوں کو بہت خوبصورت لگ رہے تھے وہی آج میری زندگی کے لیے خطرہ بن گئے ہیں اور جن پتلی ٹانگوں کو میں ناپسند کررہا تھا انہی کی بدولت میں جان بچانے کی کوشش میں ہوں اور یہ میرے کام آ رہی ہیں جیسے جیسے شیر قریب آتا گیا آوارہ سنگھا جھاڑیوں میں مزید الجھتا گیا۔

آخر کار قدرت کو اس پر رحم آیا اور وہ کسی طرح اپنے سینگوں کو جھاڑیوں میں سے چھڑانے میں کامیاب رہا اور اپنی ان "بے ڈھنگی" ٹانگوں کے بل بوتے پر بھاگ نکلا۔ وہ اتنا دوڑا کہ اسے سامنے برج خلیفہ نظر آنے لگا۔ یہاں اسے ایک باز ملا جو فضا سے اس منظر کا جائزہ لے رہا تھا کہنے لگا کئی دفعہ موقع سے Dunki یا دُڑک لگانے سے بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔ بلآخر آوارہ سنگھے نے جان بچ جانے کی خوشی میں اپنے دل میں کہا اب میں اپنی "رعونیت" پر مکمل قابو رکھوں گا میں شاید آپ کو سبق دینے کے لئے بچ گیا ہوں ورنہ خود سبق سیکھ کر آپ کو کچھ نہ بتا پاتا۔ پھر اچانک اس کو خیال آیا کہ اس کی ڈائری جھیل کے کنارے رہ گئی ہے۔

نتیجہ: آپ خود بھی نکال سکتے ہیں۔