Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Abdullah Tariq Sohail
  4. Iran Mein Chal Chalao

Iran Mein Chal Chalao

ایران میں مظاہرے شروع ہوئے دو ہفتے ہو گئے اور اب 31 کے 31 صوبے اس احتجاجی تحریک میں شامل ہیں جو شروع تو مہنگائی کیخلاف ہوئی تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے "تختہ الٹو" تحریک میں بدل گئی۔ آخری صوبہ جو تحریک میں شامل ہوا وہ پاکستانی سرحد سے ملحقہ "بلوچستان سیستان " ہے۔ کل زاہدان میں بہت بڑا جلوس نکلا جو سرحد کے بالکل پاس واقع ہے۔ یہ ان چار مشرقی صوبوں میں شامل ہے جو پاکستان اور افغانستان سے ملحق ہیں اور جہاں سب سے آخر میں احتجاج کی لہر پہنچی۔ باقی تین صوبوں کے نام خراسان ہیں یعنی خراسان شمالی، خراسان وسطی، خراسان جنوبی۔

اب محاورتاً نہیں، لغوی معنوں میں سارا ایران جل رہا ہے۔ سرکاری عمارتیں، گورنر ہائوس، پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر، تھانے، ریڈیو سٹیشن، عدالتیں، پولیس کی گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں۔ حکومتی قائدین کے مجسمے بھی گرائے اور جلائے جا رہے ہیں اور حکمرانوں میں سے ہر ایک کا نام لے لے کر "مرگ بر، " یعنی مردہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ گزرے کل مظاہروں کی شدت اور تشد اتنا بڑھ گیا کہ حکومت نے پورے ملک میں انٹرنیٹ سروسز سو فیصد بند کر دیں، مکمل بلیک آئوٹ ہوگیا پھر بھی، مظاہروں کی وڈیوز اور خبریں، شاید سیٹلائٹ والے فون سے یا کیسے چھن چھن کر بیرون دنیا تک پہنچتی رہیں۔ یہ خبر بھی آ رہی ہے کہ پاسداران انقلاب کے افسروں نے اپنے بیوی بچوں کو روس اور فرانس بھجوانا شروع کر دیا ہے۔

حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی ہر جگہ کی جا رہی ہے۔ یہ انوکھی تحریک اس لئے بھی ہے کہ یہ کسی سیاسی جماعت یا اپوزیشن لیڈر سمجھے جانے والے فرد کی طرف سے نہیں چلائی جا رہی۔ کیونکہ ایران کے نظام حکومت میں اپوزیشن جماعت کا کوئی تصور ہی باقی نہیں رہا یہاں تک کہ حکومت کے اندر سے بھی کوئی فرد اختلاف کرے تو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے یا کسی پراسرار واقعے کے نتیجے میں ہلاک ہوجاتا ہے، جیسے ہمارے ہاں ناپسندیدہ افراد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جاتے ہیں۔

اس طوفان خیز تحریک کا کوئی قائد نہیں، کوئی تنظیم نہیں۔ ہر شہر اور قصبے میں یہ عوام کے "ازخود" نوٹس پر گویا چل رہی ہے۔ مغرب میں قیاس آرائی ہے کہ شاہ ایران مرحوم کے صاحبزادے رضا شاہ نئی حکومت کے سربراہ ہوں گے__ کیوں؟ اس لئے کہ ایرا ن میں ایسا کوئی بچا ہی نہیں جسے متبادل قیادت کا نام دیا جا سکے۔

رضا شاہ اسرائیل کے وفادار ہیں۔ یہودیوں کی مذہبی غیر مذہبی تقریبات میں باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں، انہی کی بولی بولتے ہیں۔ بعض تقریبات میں تو انہیں "دولہا" کا پروٹوکول ملتا ہے۔

کیا وہ ایران کے صدر بن پائیں گے؟ مرحوم شاہ ایران کے خلاف آیت اللہ شریعت مدار مرحوم کی زیر قیادت تحریک چلائی گئی۔ بائیں بازو کے لوگ بھی تحریک میں شامل ہو ئے یعنی وہ بھی جو کالعدم قرار دی گئی تو وہ پارٹی کے لوگ تھے۔ لیکن جب آخری مرحلہ آیا تو فرانس میں جلاوطن رہنما آیت اللہ خمینی خصوصی فرانسیسی طیارے پر بٹھا کر ایران روانہ کر دئیے گئے۔ ادھر ان کا طیارہ تہران ائیر پورٹ پہنچا، اُدھر شاہ ایران ملک سے نکل گئے۔ ایک ہی روز قبل امریکہ نے ان سے رابطہ کرکے بتایا تھا کہ ملک چھوڑ دو، ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکیں گے۔ اگلے ہی روز خمینی سربراہ مملکت بن گئے۔ آیت اللہ شریعت مدار دیکھتے ہی رہ گئے۔ کچھ دنوں بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

اسی لئے پوچھا گیا کہ رضا شاہ صدر بن پائیں گے؟ آخری لمحات میں کوئی اور تو کرسی صدلارت نہیں لے اڑے گا؟

فی الحال کے آثار یہی ہیں کہ نئی حکومت اسرائیل نواز ہوگی۔ یعنی پاکستان کیلئے ایران کی طرف سے پریشانی ٹلے گی نہیں۔ لیکن عین موقع پر کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایران کے اندر عوامی سطح پر امریکہ سے محبت کے جذبات کا طوفان امڈ رہا ہے لیکن اسرائیل کیلئے دلوں میں کوئی گنجائش نہیں۔ "وقوعہ" ہونے کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے، وقوعہ ہونے کے بعد کیا ہوگا، اس کی نہیں۔

***

1980ء یا 1981ء کی بات ہے۔ میرے ایک ولی اللہ صفت، نہایت نیک اور مخلص دوست تشریف لائے اور بتایا کہ پاکستان، ایران اور افغانستان "ایک" ہونے والے ہیں۔ کابل سے قلات تک اور لاہور سے تبریز تک ایک ہی اسلامی خلافت قائم ہونے والی ہے۔

پوچھا کیسے؟ کہنے لگے پاکستان میں ضیاء الحق نے اسلام نافذ کر دیا۔ خمینی نے ایران میں اسلامی حکومت بنا لی۔ دوچار برس میں روس افغانستان سے بھاگ جائے گا۔ دوچار تو نہیں، البتہ سات آٹھ برس بعد روس واقعی افغانستان سے بھاگ گیا۔ طورخم بارڈر کے دوسری طرف پچاس میل تک کابل حکومت ختم ہوگئی۔ دونوں ممالک کے مجاہدین آزادانہ آتے جاتے رہے۔

لیکن ہوا کیا، افغانستان اور ایران میں طاقت میں آنے والوں نے اپنے اپنے ملکوں کا بیڑہ غرق کیا تو کیا ہی، دونوں کی پراکسیز نے پاکستان کو بھی اجاڑستان بنا ڈالا۔

سہانے سپنوں کی کتنی بھیانک تعبیر نکلی۔

***

مختلف ٹی وی چینلز پر یہ افواہ نما خبریں چل رہی ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کو چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ معیشت ٹھیک کریں ورنہ خدا حافظ کہنے کی نوبت آ جائے گی۔

مہلت کس نے دی ہے، ہم جیسے غیر متعلق، غیر اہم لوگ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ البتہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو وزیر اعظم بنے اگلے دو ماہ کے بعد پورے چار سال ہو جائیں گے۔ وہ اپریل 22 میں وزیر اعظم بنے تھے۔ بیچ میں بلوچستان سے دریافت کئے جانے والے ایک غنچے کو نگران وزیر اعظم بنایا گیا۔ وہ محض نام کے وزیر اعظم تھے، حکم شہباز شریف ہی کا چلتا تھا۔

تو ہم جیسے یہ سوچنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ جب چار سال میں بیلنس شیٹ پر صفر کے علاوہ کوئی ہندسہ درج نہ ہو سکا تو محض چھ ماہ کے "بونس" میں کیا ہو جائے گا۔

یاد ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا، جتنی سپورٹ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خاں کو دی، اس کا 30 فیصد مجھے مل جائے تو تقدیر بدل دوں۔ اسٹیبلشمنٹ کے دل کو یہ بات لگ گئی۔ اس نے وزیر اعظم کو 30 نہیں، 130 فیصد سپورٹ دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فی کس غربت بھی بڑھ گئی اور بے روزگاری بھی نیز ملک کا خسارہ بھی اور اب یہ چھ مہینے۔