Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Modi, Yahu Ittehad

Modi, Yahu Ittehad

مودی کے اسرائیلی دورے سے کئی راز اب راز نہیں رہے۔ اِس دورے سے دنیا پر واضح ہوگیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل ہر حوالے سے ایک ہیں اور دونوں ہی جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں۔ ماضی میں بھارت نے ہمیشہ کوشش کی کہ اسرائیل سے تعلقات کے باوجود عرب ممالک سے بھی بناکر رکھی جائے تاکہ معاشی مفادات متاثر نہ ہوں۔ اِسی لیے اکثر فلسطینی کے حق میں باتیں کی جاتیں لیکن نریندرامودی کی قیادت میں بھارت کو معاشی اہداف کے ساتھ اسلحہ ذخائر میں اضافے کا جنون ہے۔ اسی جنون نے بھارت کو اسرائیل سے نتھی کردیا ہے اور وہ اِب عرب ممالک سے حاصل معاشی مفادات کی قربانی دینے پر بھی آمادہ و تیار ہے مگر بھارت و اسرائیل کا اتحاد عرب ممالک کے ساتھ عالمی امن کے لیے بہت خوفناک، پریشان کُن اور تباہ کُن ثابت ہوگا جس کا ابھی مکمل اور درست تخمینہ لگانا مشکل ہے۔ مگر مودی کے دورے نے امن پسندوں کے تمام ابہام دور کردیے ہیں جس کے لیے عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کو نئی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔

عرب ممالک کو اسرائیل اور بھارت کی شراکت دار ی کے مُضمرات کا ابھی صیح معنوں میں ادراک نہیں اسی لیے اُن کا ردِ عمل توقعات سے بہت کم ہے۔ ظاہری اِس صورت میں تیاری بھی نامکمل ہوگی سعودی عرب جیسا ملک بھی مخمصے کا شکار لگتا ہے جبکہ اُردن جو براہ راست اسرائیلی خطرے کی زد میں ہے وہ بھی کچھ کہنے کی بجائے خاموشی سے دیکھنے پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ اِس کی وجہ اسرائیلی خوف ہی ہو سکتا ہے مگر خاموشی اختیار کرنے سے خطرہ یا خوف کم نہیں ہوتا جب تک تدارک کے لیے عملی طور پر کچھ پیش رفت نہ کی جائے جس کے کسی بھی عرب ممالک کی طرف سے آثار نظر نہیں آتے۔

اسی بنا پر ایسی قیاس آرائیاں تقویت پکڑ رہی ہیں کہ صیہونی قیادت عظیم تر اسرائیل کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عملی طور پر کام آغاز کر چکی ہے اور جو مقاصد عرب بہار کے دوران حاصل نہیں ہو سکے تھے وہ اب بزور طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کا شام سے آغاز ہوچکا مگر کیا خطرات کا سامنا کرنے کے لیے عرب ممالک تیار ہیں؟ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اسی بنا پر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آمدہ چند برسوں کے دوران عرب ممالک کی جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی یقینی ہے۔

امریکہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات میں بظاہر سب اچھا نہیں ہے اِس کے باوجود نہ صرف دفاعی معاہدہ بھارت سے ہی کیا ہے بلکہ مشترکہ دفاعی پیداوار کے لیے اولیں انتخاب بھارت ہی ہے۔ یہ تضاد بہت حیران کُن ہے اور ایسے خیال کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت آج بھی امریکہ کا خطے میں اولیں انتخاب ہے کیونکہ اسرائیل جو امریکہ کا سب سے مضبوط شراکت دار اور دفاعی مہرہ ہے وہ بھارت پر ازحد مہربان ہے۔ بھارت کی ہتھیار جمع کرنے کی ہوس پوری کرنے میں معاون ہے جس سے جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کا تیز ہونا یقینی ہے۔ اگر پاکستان کا سعودی عرب سے مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا ہے تو بھارت نے ایسا ہی کچھ ملتا جلتا بندوبست اسرائیل سے کر لیا ہے۔ حالات کی نزاکت کو عرب امارات نے اسرائیل کا ساتھ دیکر مزید بڑھا دیا ہے۔ اِن حالات میں اگر بلوچستان میں شورش بڑھے یا شمال مغربی سرحد سے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ ہو تو اِس میں کسی کو حیرانگی نہیں ہونی چاہیے۔

مودی نے دورہ اسرائیل کے دوران بھارت کا روایتی موقف دو ریاستی ترک کیا اور سات اکتوبر2023 کے حماس حملے کا درد محسوس کرنے اور پورے یقین و مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 25 فروری بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران مودی نے کہا کہ بھارتی عوام کی جانب سے ہر جان کے ضیاع اور ہر خاندان کے لیے گہری تعزیت لایا ہوں جس کی دنیا حماس کے وحشیانہ حملے میں تباہ ہوگئی مگر کہیں بھی غزہ کے اُن ہزاروں افراد کے لیے ایک لفظ تک بولنے سے اجتناب کیا جو اسرائیل کے سفاکانہ حملوں کے دوران رزقِ خاک بن گئے۔ یہ مظلوم سے دوری اور طاقتور کی حمایت کے سوا کچھ نہیں۔ مودی کے حالیہ دورے سے بھارت کی اِس تبدیل شدہ خارجہ پالیسی سے جانبداری کی تصدیق ہوئی ہے اب سچ یہ ہے کہ عالمی حالات و واقعات میں بھارت اور اسرائیل یکجان دو قالب ہیں۔

کچھ لوگوں کو صدر ٹرمپ کے بنائے بورڈ آف پیس کے اجلاس کے بعد اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی کے انٹرویو پر تعجب ہے جس میں انھوں نے عظیم تر اسرائیل کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ وہ دریائے فرات اور دریائے نیل کے درمیان تمام عرب علاقوں پر قبضہ کرلے۔ جب انٹرویو کو آگے بڑھاتے ہوئے مائیک ہاکبی سے وضاحت چاہی گئی کہ کیا آپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اُردن، شام، عراق، سعودی عرب اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا حق ہے تو جواب میں بائیبل کا حوالا دیتے ہوئے انھوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر تائید کردی کہ اسرائیل نہ صرف اِن تمام علاقوں پر قبضہ کر سکتا ہے بلکہ یروشلم، گولان کی پہاڑیوں اور غزہ پر بھی اسرائیل کو اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہیے۔

اب اِس کا مطلب ہے کہ 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ میں لیے گئے کسی علاقے کو اسرائیل واگزار نہیں کرنا چاہتا اور اِس میں امریکہ کی اُسے آشیر باد حاصل ہے۔ یہ انٹرویو کسی عام شخص کے خیالات نہیں بلکہ مائیک ہاکبی دراصل صدر ٹرمپ کے معتمد خاص دوست ہیں اور آرکنساس کے سابق گورنر بھی رہے ہیں۔ اسی لیے سفیر جیسے اہم عہدے پر فائز شخص کے خیالات کے ساتھ یہ امریکی سوچ کی وضاحت ہے کہ اِس کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی امکان نہیں۔ یہ سوچ اقوامِ متحدہ کی پاس کی گئی قراردادوں کی بھی نفی ہے اِن حالات میں مودی کا نیتن یاہو کا ساتھ دینا قتلِ عام کی تائید اور انسانی حقوق کی نفی میں معاونت ہے۔

بظاہر عرب ممالک کی حکومتوں کو مائیک ہاکبی نے چونکا دیا ہے لیکن مزید سچ یہ ہے کہ عظیم تر اسرائیل کی مائیک ہاکبی نے پہلی بار بات نہیں کی بلکہ 2008 سے وہ ایسے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بارہ نومبر 2024کو سی این این تک کہہ چکا کہ صدر ٹرمپ اپنے ایک ایسے معتمد خاص دوست کو بطور سفیر اسرائیل بھیج رہے ہیں جو فلسطین کو مسئلہ مانتا ہی نہیں۔ اسی سے ایسے قیاسات کو تقویت ملتی ہے کہ غزہ کے حوالے سے بنائے بورڈ آف پیس میں غزہ کے نمائندے کو شامل نہ کرنا اسرائیلی مفاد کا تحفظ ہے اور یہ دراصل اسرائیل کو مضبوط کرنے کی دانستہ کوشش ہے لیکن اِس حد تک طرفداری کے باوجود پاکستان اور عرب حکومتوں کا امریکی منصوبہ کا ساتھ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا فلسطین اور غزہ کے حوالا سے امریکی اور اسرائیلی اقدامات عربوں کو جگانے کے لیے کافی نہیں یا وہ مزید کسی نقصان کے انتظار میں ہیں؟