موسم بہار کی آمد کا جشن پوری دنیا میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے زرعی معاشروں میں سال بھر کو چھ موسموں میں تقسیم کیا گیا ہے اور لوگوں کا سب سے من پسند موسم "وسنت رِتو"ہے یعنی وہ موسم جس میں جب نہ اتنی سردی ہوکہ پھول پتوں پر کہرا جم جائے اور نہ اتنی گرمی کہ چیل انڈا چھوڑ دے۔ اس خوشگوار موسم کا استقبال کرنے کے لیے ماگھ مہینے کی پانچ تاریخ کو ایک جشن کا اہتمام کیا جاتا جسے "بسنت پنچمی"کہا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے جاری رہا اور اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی رہیں، جیسا کہ اب ہندوستان کے کچھ علاقوں میں ایک اور رسم کا آغاز ہوا اور وہ ہے علم و عرفان کی دیوی سرسوتی کی پوجا۔
ہندوستان میں جب صوفی روایت کا آغاز ہوا تو یہ جشن ہندو مسلمان ایک ساتھ بھی مناتے رہے، دونوں قوموں کا انداز مختلف رہا مگر مقصد نئے موسم کا جشن تھا جس میں ہندوستانی اپنے احباب اور رشتہ داروں کے ہمراہ اکٹھے ہوتے، طرح طرح کے کھانے بنتے اور خوب ہلہ غلہ ہوتا۔ یاد رہے کہ آغاز میں "وسنت رِتو"نامی پوسم میں "بسنت پنچمی"کے جشن میں کسی بھی طرح کی پتنگ بازی شامل نہیں تھی، پتنگ بازی اور بسنت کو لازمی ملزوم کہیں بہت بعد میں کیا گیا۔ پتنگوں کا کلچر نہ جانے کس نے شروع کیا مگر اس خونی کھیل نے معاشرے کا بہت نقصان کیا۔
تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ بہت کثرت سے بیان ہوا ہے، ایک مرتبہ نظام الادین اولیاء سخت غم و اندوہ میں مبتلا تھے اور طویل عرصہ گم صم بیٹھے رہے۔ موسم نے انگڑائی لی تو امیر خسرو سے اپنے مرشد کی یہ حالت دیکھی نہ گئی چناچہ انھوں نے پیلے رنگ کا لباس پہنا، ہاتھ میں سرسوں کا پودا لیا اور حضرت نظام الدین اولیاء کے سامنے پیش ہوئے، حضرت صاحب پیلے پیلے پھول دیکھ کر مسکرانے لگے اور یوں وہ غم و اندوہ سے باہر نکل آئے۔ یہ روایت سچ ہے یا جھوٹ، اس سے قطع نظر، بسنت کے معاملے میں یہ کہانی تواریخ کا حصہ ہے۔ دو برس پہلے ہندوستان میں بستی نظام الدین اور مہرولی میں اس جشن کو جدید انداز میں منایا گیا اور ان تقریبات کو چار دن پر پھیلا دیا گیا، قوالی، مشاعرے، محفل سماع وغیر ہ اس جشن کا حصہ بن گئے۔
پاکستان اور خاص طور پہ لاہور میں اس جشن کو پرتنگ بازی کے ساتھ جوڑ کرمنایا جارہا ہے، مختلف ادوار میں اس پر پابندی بھی لگتی رہی مگر موجودہ وزیر اعلیٰ نے اسے ایک مرتبہ پھر نئے ولولے کے ساتھ منانے کا اعلان کیا ہے۔ بسنت اور پتنگ بازی کا آپس میں کوئی ناطہ نہیں اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وطن عزیز یا زندہ دلان لاہور میں جب جب بسنت منائی گئی، ہم نے درجنوں نہیں سینکڑوں لاشیں اٹھائیں۔
وہ لوگ جنھوں نے اس رسم کو جدت کا جامہ پہنایا اور اسے دلکش اور رنگین بنانے کے لیے نت نئے طریقے اپنائے، کیا وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ جشن ہمیں ہر سال کتنا مہنگا پڑتا ہے؟ ابھی بسنت کا اعلان ہی ہوا تھا کہ لاہور میں کئی افراد زخمی ہو چکے، مختلف شہروں میں اموات کی خبریں بھی زیرگردش ہیں، ہر سال ہم پچاس کے قریب لوگ اس جشن میں مروا دیتے ہیں، کیا ہماری خوشیاں دوسروں کے خون سے رنگین ہونی چاہیے، کیا ہم قاتل بن کر جشن منا رہے ہیں، کیا ہمارا جشن منانا بنتا ہے؟ حکومت نے اس برس مکمل طور پر موٹر سائیکلوں پر پابندی لگائی ہے، لاہوریوں کو خاص ہدایت کی گئی ہے کہ سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل کی سواری نہ کریں، دس لاکھ کے قریبی سیفٹی راڈ گورنمنٹ نے مفت تقسیم کروائے، تین دن ٹریفک کو مکمل فری کر دیا گیا ہے، اس سب کے باوجود کیا گارنٹی ہے کہ میرے معصوم لوگوں کا خون نہیں بہے گا۔ میرے لوگوں کا خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ اب ایسے جشن کو سرکاری سرپرستی مل رہی ہے جس سے ہمیشہ خون خرابہ ہوا۔
ہمیں مریم نواز کی محنت اور جوش خروش پر کوئی شبہ نہیں، انھوں نے پنجاب میں کئی اچھے کام کیے جنھیں سراہا جانا چاہیے مگر بسنت کے بارے ان کا جذباتی فیصلہ محض مسائل کا سبب بنے گا۔ سیفٹی راڈ پورے لاہور میں لگ نہیں سکتے، تین دن لوگ موٹر سائیکلوں پر سواری نہ کریں، یہ بھی ناممکن بات ہے اور لوگوں کو پتنگ بازی سے باز رکھنا کبھی بھی ممکن نہیں رہا۔ لاہور اس وقت بھی پتنگ بازی ہوتی رہی جب سرکاری سطح پر پابندی ہوتی تھی، اب تو پابندی ہی نہیں اور وہ بھی تین دن، اگر جشن منانا ہی مقصود تھا تو اسے محض ایک دن پر محدود کر دیاجاتا تاکہ کم سے کم نقصان ہوتا۔
پتنگ بازی اب ایک ایسی رسم یاکھیل بن چکا ہے جس کے متعلق کسی بھی طرح کے کوئی اصول و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے، یہ روایت اور رسم سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو رہی ہے، خاندان کے خاندان اکٹھے ہوتے ہیں، دیگیں بنتی ہیں، پارٹیاں ہوتی ہیں، ڈھول اور باجے بجائے جاتے ہیں، اپنی پتنگ کو بچانے کے لیے پر طرح کا کھیل رچایا جاتا ہے مگر آخر کار پتنگ بھی کٹ جاتا ہے اور مسافروں کی گردنیں بھی۔ "وسنت رتو"میں منائے جانے والے اس جشن جسے "بسنت بنچمی"کہا جاتا ہے، کے لیے پتنگ بازی کی بجائے جوش و خروش کے جدید طریقے بھی متعارف کروائے جا سکتے ہیں، جس کھیل میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو، اسے تبدیل کر دینا ہی بہتر ہے۔
ہرسال لاہور سمیت درجنوں شہروں میں حادثات ہوتے ہیں، پنجاب حکومت نے اس برس لاہور میں تو انتظام کر دیے، فری راڈ بھی تقسیم کر دیے اور ٹریفک بھی کنٹرول کر لی مگر پنجاب کے دیگر شہروں کا کیا بنے گا، کیا وہاں حادثات ریکارڈ نہیں ہوتے۔ وہاں کے لیے حفاظتی اقدامات کیا ہوں گے یا پنجاب کے دیگر شہریوں کی جان کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا، یہ بہرحال ایک اہم ترین سوال ہے۔
سوشل میڈیا پر اندرون لاہور کا ایک ایسا چھت دکھایا جا رہا ہے جس کا کرایہ ایک کروڑ بتایا گیا ہے، اس چھت کی خوبی یہ ہے کہ وہاں پورا شریف خاندان پتنگ اڑا چکا، وہ لاہور کا مرکز ہے یعنی شریف خاندان بسنت کو ہمیشہ جوش و خروش سے مناتا آیا ہے۔ میری پنجاب حکومت سے گزارش ہے کہ بسنت جیسی خونی رسموں کو اس خطے سے دور پھینکا جائے، ہمارے لوگ پہلے کی افسردگی میں زندگی بسر کر رہے ہیں، انھیں مزید دکھ نہ دیے جائیں، ان کے لیے زندگیاں آسان بنائی جائیں۔