مزدور کسی بھی معاشرے کی معاشی اور سماجی ساخت کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ صنعتوں کی گردش، معیشت کی حرکت اور ترقی کے بڑے دعوے دراصل انہی ہاتھوں کی محنت کا نتیجہ ہوتے ہیں جو فیکٹریوں، ورکشاپوں اور صنعتی علاقوں میں دن رات کام کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں مزدور طبقہ اکثر بنیادی سہولیات خصوصاً صحت کی معیاری سہولتوں سے محروم رہتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی ریاستی ادارہ مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرے تو یہ نہ صرف ایک مثبت پیش رفت ہوتی ہے بلکہ اس سے ریاست اور محنت کش طبقے کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔
سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کی جانب سے حالیہ دنوں میں کیا جانے والا ایک اہم فیصلہ اسی سلسلے کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ ادارے کے کمشنر ہادی بخش کلہوڑو کی قیادت میں سوشل سیکیورٹی کے لیے سنٹرل میڈیکل اسٹور کے قیام کا اقدام دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ مزدوروں کی صحت اور علاج کو اب محض انتظامی فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سطح پر بہتر بنانے کی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں ماضی میں تقریباً 6 اسپتالوں اور 7 سرکلز کے افسران الگ الگ ادویات کی خریداری کرتے تھے اور اب سینٹرلائزڈ پرچیزنگ کی وجہ سے ادویات کی خریداری اور معیار بھی بہتر ہوگا۔ لانڈھی کے کڈنی سینٹر میں سنٹرل میڈیکل اسٹور قائم کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات وسیع اور دور رس ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں سرکاری اداروں کے حوالے سے اکثر یہ شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ ادویات کی خریداری، تقسیم اور فراہمی کے مراحل میں شفافیت اور مؤثر نگرانی کا فقدان ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی مرتبہ مستحق مریضوں تک ادویات بروقت نہیں پہنچ پاتیں یا پھر سپلائی کے نظام میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ایک مرکزی میڈیکل اسٹور قائم کیا جائے جہاں ادویات کی خریداری اور ترسیل کے عمل کو منظم انداز میں کنٹرول کیا جائے تو اس سے نہ صرف انتظامی شفافیت پیدا ہوتی ہے بلکہ وسائل کے درست استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
لانڈھی کے کڈنی سینٹر میں قائم ہونے والا سنٹرل میڈیکل اسٹور دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ سوشل سیکیورٹی کے ہیڈ آفس سے جاری ہونے والے ادویات کے خریداری آرڈرز میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری مداخلت یا ردوبدل کی گنجائش نہ رہے۔ جب خریداری اور سپلائی کے مراحل کو ایک منظم اور مرکزی نظام کے تحت چلایا جائے تو اس سے بدانتظامی، تاخیر اور ممکنہ بے ضابطگیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مزدور تنظیموں اور فیلڈ سطح پر کام کرنے والے نمائندوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
مزدور رہنماوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان دراصل اسی احساسِ تشکر کی عکاسی کرتا ہے جو مزدور طبقہ اس اقدام کے حوالے سے محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف کمشنر سوشل سیکیورٹی کے فیصلے کو دور اندیش قرار دیا بلکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات مزدوروں کے اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔ مزدوروں کی نمائندگی کرنے والی قیادت جب کسی سرکاری اقدام کو مثبت قرار دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات عملی طور پر مزدوروں کی زندگیوں میں بہتری لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس منصوبے کو ممکن بنانے میں صرف ایک فرد یا ایک دفتر کا کردار نہیں بلکہ مختلف سطحوں پر کام کرنے والے کئی ذمہ داران کی مشترکہ کاوشیں شامل ہیں۔ صوبائی وزیر محنت سعید غنی کی سرپرستی، کمشنر سوشل سیکیورٹی ہادی بخش کلہوڑو کی انتظامی قیادت اور میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر کامران اعوان سمیت دیگر افسران کی پیشہ ورانہ محنت نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی سرکاری ادارے میں اصلاحات اسی وقت ممکن ہوتی ہیں جب پالیسی سازی سے لے کر عملی نفاذ تک تمام سطحوں پر ہم آہنگی موجود ہو۔
صحت کے شعبے میں شفافیت اور نظم و ضبط دراصل ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جب ادویات کی خریداری اور فراہمی کے نظام میں واضح اصول اور مؤثر نگرانی موجود ہو تو اس سے نہ صرف وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے بلکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ مزدور طبقہ چونکہ زیادہ تر محدود وسائل کا حامل ہوتا ہے اس لیے اس کے لیے سوشل سیکیورٹی جیسے اداروں کی کارکردگی مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ اگر یہ ادارے مؤثر انداز میں کام کریں تو ہزاروں خاندانوں کی صحت اور زندگی کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
سنٹرل میڈیکل اسٹور کا قیام اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اس کے ذریعے سوشل سیکیورٹی کے اسپتالوں اور طبی مراکز کو ادویات کی فراہمی زیادہ منظم اور مؤثر طریقے سے کی جا سکے گی۔ جب ادویات کی سپلائی کا نظام مستحکم ہوگا تو ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بھی علاج کے عمل میں آسانی ہوگی اور مریضوں کو بار بار ادویات کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس طرح یہ اقدام صرف انتظامی بہتری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عملی طور پر مریضوں کے علاج کے معیار کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم جہت مزدوروں کے اعتماد کی بحالی ہے۔ ماضی میں کئی مواقع پر مزدور تنظیموں نے سوشل سیکیورٹی کے نظام میں موجود بعض خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ ایسے میں اگر ادارہ خود اصلاحات کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ مزدوروں کا اعتماد کسی بھی فلاحی نظام کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور یہ اعتماد صرف اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے حاصل ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں مزدور رہنماؤں نے کمشنر سوشل سیکیورٹی سے یہ مؤدبانہ درخواست بھی کی ہے کہ لانڈھی کے کڈنی سینٹر میں قائم ہونے والے سنٹرل میڈیکل اسٹور کا باضابطہ افتتاح جلد از جلد کیا جائے۔ افتتاحی تقریب دراصل ایک علامتی قدم ہوگی جس کے ذریعے یہ پیغام دیا جا سکے گا کہ سوشل سیکیورٹی مزدوروں کی صحت کے معاملے میں سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اس طرح نہ صرف فیلڈ دفاتر بلکہ مختلف مزدور تنظیموں تک بھی یہ واضح پیغام پہنچے گا کہ ادارہ مزدوروں کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔
اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے اقدامات پاکستان میں مزدوروں کے فلاحی نظام کو مضبوط بنانے کی طرف ایک مثبت پیش رفت ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مزدوروں کے لیے صحت، پنشن اور سماجی تحفظ کے جامع نظام موجود ہیں جو ان کی زندگی کو محفوظ اور باوقار بناتے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ ایسے ادارے موجود ہیں لیکن انہیں مزید مؤثر اور فعال بنانے کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے۔ سنٹرل میڈیکل اسٹور جیسے منصوبے اسی ضرورت کے عملی اظہار ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ادارے کی کارکردگی کا اصل معیار اس کے نتائج ہوتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ اسی جذبے اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھتا رہا جس کے تحت اس کا آغاز کیا گیا ہے تو یقیناً یہ سوشل سیکیورٹی کے طبی نظام میں ایک نمایاں بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ادویات کی فراہمی کا نظام بہتر ہوگا بلکہ مزدور طبقہ بھی یہ محسوس کرے گا کہ ریاستی ادارے واقعی اس کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔
آخرکار یہی امید کی جا سکتی ہے کہ لانڈھی میں قائم ہونے والا سنٹرل میڈیکل اسٹور مستقبل میں ایک مؤثر اور مثالی ماڈل ثابت ہوگا۔ اگر اس نظام کو شفافیت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ دیانت کے اصولوں پر استوار رکھا گیا تو یہ اقدام نہ صرف سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کی ساکھ کو مضبوط کرے گا بلکہ مزدوروں کے لیے بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل بھی ثابت ہوگا۔