جنگ میں سب سے زیادہ جھوٹ اور تعصب فروخت ہوتے ہیں لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں سچ یا اس سے قریب تر کی اطلاعات کا دیا جلتا رہتا ہے بھلے ٹمٹما ہی کیوں نہ رہا ہو، حالیہ ایران جنگ کے حتمی نتائج کیا ہوں گے؟ اس سوال کا جواب صاف سامنے دیوار پر لکھا ہے بس ہم آنکھیں چراتے ہیں کیوں؟ اس سوال کا جواب ایک تو یہ ہے کہ ہمارے چار اور آباد لوگ اس جنگ کو اپنے اپنے عقیدے اور تعصب کی آنکھ سے فقط دیکھتے ہی نہیں بلکہ نتائج بارے بھی اپنی رائے کو حتمی قرار دے کر "اوئے توئے" کی حد بھی پھلانگ جاتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے اس پر مغز کھپانے یا لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں یہاں ہر شخص کا اپنا سچ ہے۔ جارح ظالم کا اپنا اور مظلوم کا اپنا سچ مثلاً امریکی وزیر دفاع کا سچ یہ ہے کہ "امریکہ کا ایران جنگ کیلئے نوکوارٹر آرڈرز ہی جنگ کا سچ ہے یعنی کسی بھی دشمن کو قیدی نہیں بنایا جائے گا بلکہ سب کو ہلاک کیا جائے گا"۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس نوکوارٹرز آرڈرز پر پتہ نہیں کیا کہتی ہیں یا کہیں گی لیکن مجھ طالبعلم کی رائے یہی ہے کہ ایران میں طالبات کے اسکول پر امریکی میزائل حملے کو اسی نوکوارٹرز آرڈرز کے تحفظ کی چھتری فراہم کی جارہی ہے۔
یہی کہ کسی سے رعایت نہیں سب کو مار دو اس پر ستم یہ ہے کہ 170 بچیوں کے سفاکانہ قتل کو جواز فراہم کرتے ہوئے امریکی وزارت دفاع کے نابغے جو دانش رول رہے ہیں اس پر کرہ ارض پر بستے انسانوں اور بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیموں نے ویسا ردعمل ظاہر نہیں کیا جو ہونا چاہئے تھا۔
آج اتوار (یہ سطور لکھتے وقت) اور 15 مارچ کی صبح ہے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی، 4 دن میں رجیم چینج کرنے کا مشن لے کر ایران پر چڑھ دوڑنے والے اب کہہ رہے بلکہ اپیل کررہے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں کو محفوظ انداز میں گزارنے کیلئے دنیا اپنا کردار ادا کرے۔
سوال یہ ہے کہ جینیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان اس جارحیت کے ارتکاب سے قبل جو مذاکرات ہورہے تھے کیا وہ حتمی طور پر ناکام رہے تھے؟ ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ جنگ سے دو یا تین دن قبل امریکہ اور ایران دونوں کے نمائندے بتارہے تھے کہ مذاکرات آگے بڑھ رہے۔ جینیوا سے روانگی کے وقت ایرانی وزیر خارجہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے پاگئی ہے۔ ابھی ناامیدی والی بات ہرگز نہیں، لیکن مذاکرات کے اگلے دور کا آغاز ہونے کی بجائے امریکہ اپنے لے پالک اسرائیل سمیت ایران پر چڑھ دوڑا۔
جارحیت کے آغاز سے اب تک کے پندرہ سولہ دنوں میں جو ہوا وہ دنیا کے سامنے ہے اور یہ بھی کہ چند دن قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے داماد سمیت چار افراد کا نام لے کر کہا مجھے انہوں نے قائل کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ایران امریکہ پر حملہ کرسکتا ہے۔
مطلب ماضی میں امریکہ کیلئے جنگ کا میدان اس کی خفیہ ایجنسیاں تلاش کرتی تھیں اس بار داماد وغیرہ نے تلاش کیا۔ یاد رہے ٹرمپ کا داماد اسرائیل کیلئے خصوصی ایلچی بھی ہے یہی وجہ ہے کہ امریکی رائے عامہ کا ایک طبقہ اس خیال کا اظہار کررہا ہے کہ اسرائیل نہیں چاہتا تھا کہ ایران امریکہ مذاکرات حتمی دور میں داخل ہوں اور نتیجہ خیز بھی ہوں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس رائے کو نظر انداز کرنا یا مسترد کردینا درست نہیں ہوگا۔
تیسرے ہفتے میں داخل ہوئی امریکہ اسرائیل جارحیت کی زمینی تباہ کاریاں تو ہیں ہی لیکن اس جارحیت نے بین الاقوامی معیشت کی جس طرح بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں اس سے پیدا ہوئے مسائل ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتے جائیں گے۔ گزشتہ کالم میں اس امر کی جانب متوجہ کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ دنیا ایران جنگ کی وجہ سے جس معاشی ابتری کا بھونچال محسوس کر رہی ہے اس میں مسائل تو ترقی یافتہ ممالک کیلئے بھی ہوں گے لیکن دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک کے عوام کا اس معاشی ابتری نے بُھرکس نکال دینا ہے۔
ہم اس کا اندازہ اپنے ملکی حالات سے بخوبی لگا سکتے ہیں ہمارے یہاں ذخیرہ شدہ تیل کی قیمتوں میں جو ریکارڈ اضافہ ہوا اس سے مہنگائی کا طوفان برپا ہوگیا
اس پر ستم یہ کہ اب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تین درجہ کی کٹوتیوں کا فارمولہ بھی آگیا ہے اسے کہتے ہیں "مرے کو مارے شاہ مدار"۔
مہنگی بجلی غیر اعلانیہ طور پر عوامی سہولتوں سوئی گیس ٹیلیفون و انٹرنیٹ کے ماہانہ بلوں میں اضافہ وغیرہ یہ سب ہمارے ان تجربہ کاروں کے کرشمے ہیں جو کھلی مارکیٹ سے ڈالر خرید کر معاشی اصلاح کے فارمولے بیچتے اور ان سے جی بہلاتے ہیں۔
ایران پر مسلط جنگ کو سادہ لفظوں میں عالمی غنڈہ گردی ہی کہا جاسکتا ہے جنگ میں جھوٹ لگے ہاتھوں مرغن غذاوں کی طرح فروخت ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ جھوٹ کو پر لگا کر اڑاتے ہیں سرمایہ دار کو صرف منافع سے غرض ہوتی ہے منافع جھوٹ کی کاشت سے ہو یا سچ کے قتل سے اسے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔
وہ وقت گیا جب ذرائع ابلاغ تفہیمی ذمہ داریاں ادا کرتے تھے اب وہ مالکان کے مالی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی خواہشوں اور تعصبات کو خبر بنا دیا گیا ہے۔
یہی نہیں بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ فرقہ وارانہ تعصبات سے بھرے گٹروں کے منہ سوشل میڈیا پر کھول دیئے گئے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس "نیک کام" میں وہ غیرسرکاری رضاکار بھی ثواب کما رہے ہیں جنہیں ملک کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کیلئے ماہانہ بنیادوں پر وظیفہ دیا جاتا ہے۔ آپ آسانی کے ساتھ یوں سمجھ لیجے کہ یہ بھی ففتھ جنریشن وار والے لشکریوں کی طرح کا ہی ایک لشکر ہے۔
اگر آپ سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس میں سے کسی ایک یا فیس بک پر موجود و سرگرم ہیں تو چار اور نگاہیں دوڑا کر دیکھ لیجے پچھلے پندرہ دنوں کے دوران ہزاروں ایسے سوشل میڈیا اکاونٹس فعال ہوئے ہیں جن پر دن رات زہر اگلا جارہا ہے۔ یہ کام عقیدوں اور مولویوں کے ساتھ ابلیس کی مجلس شوریٰ کے دفاع کے نام پر ہو رہا ہے۔ ہمارے ہاں چھوٹی چھوٹی باتوں یا حکومتی و ریاستی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کو نوٹس بھیجنے والے اس معاملے میں دھنیا پی کر لمبی تانے ہوئے ہیں۔
ان سطور میں جب بھی یہ عرض کیا کہ ہمارے پاس مذہب عقیدے اور تاریخ سمیت سب بدیسی مال ہے تو پڑھنے والوں کی بڑی تعداد اس پہ چیں بچیں ہوئی مگر کڑوا سچ یہی ہے کہ ان بدیسی سوغات نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا ہم سب کے ساتھ ہیں سوائے اپنے ایسا کیوں ہے یہ مسئلہ فیثا غورث ہرگز نہیں۔
مثلاً ایران میں امسال انقلاب کی سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے بعل نامی شیطان کا مجسمہ نذر آتش کیا گیا یہاں ہمارے بھائی بندوں نے یوم القدس کے جلوسوں میں بعل کا مجسمہ نذر آتش کرکے ثوابِ دارین کمایا۔ اب ذرا اس پر سوال تو کیجے جواب سے چودہ طبق روشن روشن ہوجائیں گے۔
یہ محض ایک مثال ہے فساد خلق کا خطرہ نہ ہوتو القدس کے جلوسوں میں بجائے گئے ایک ترانے پر بھی بات ہوسکتی ہے مگر کیا کیجے یہاں اندھی تقلید کے سرطان کی بیماری میں مبتلا عناصر جان کو آجاتے ہیں۔
معذرت اصل موضوع سے کچھ دور لیکن چند ضروری باتیں عرض کرنا پڑیں ہم کب یہ سمجھ پائیں گے کہ ریاستوں کے تعلقات میں سیاسی و معاشی مفادات کو اولیت حاصل ہوتی ہے ان تعلقات کے کھیس کو مذہب اور عقیدے کی کھڈیوں پر بُنا نہیں جاسکتا۔
امریکہ اور اس کے "بُولی" اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت شرمناک بھی ہے اور قابلِ مذمت بھی پہلے بھی عرض کرچکا کہ جنگ کے ظاہری نتائج کچھ بھی ہوں ایرانیوں نے جس پامردی سے جارحیت کا جواب دیا اور دے رہے ہیں یہ پامردی فتح و شکست کے نئے معیار رقم کرے گی۔
ایران جنگ کل ختم ہو یا مہینہ بھر میں اس کے جو معاشی اثرات دنیا پر مرتب ہوں گے ان سے نجات پانے کیلئے وقت لگے گا۔ امریکیوں نے گزشتہ روز ایرانی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھنے والے تیل کی دولت سے مالا مال ایرانی جزیرے پر تباہ کن حملوں کے بعد دعویٰ کیا کہ اس جزیرے پر موجود فوجی تنصیبات کو تباہ کردیا گیا ہے۔ کیا اس نئی کارروائی سے صرف ایران کی داخلی معیشت مزید کمزور ہوگی؟
ہماری دانست میں اس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوگی ایرانی جوابی طور پر آبنائے ہرمز میں مزید کارروائیاں کریں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پراسرار خاموشی سے قیاس آرائیوں اور سوالات کے ساتھ افواہوں کا سیلاب آگیا ہے۔
سوشل میڈیا تو نیتن یاہو کو مار چکا کیا یہ خبر عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اور شاکر شجاع آبادی کی موسمی وفات کی خبروں جیسی ہے یا اس میں کچھ ہے؟
اس بارے حتمی بات کرنا مشکل ہے اسی کے ساتھ ہی امریکہ سے یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ حکمران جماعت ریپبلیکن پارٹی میں ٹرمپ کی ایران جنگ پالیسی کے خلاف ردعمل بڑھ رہا ہے 54 فیصد امریکی ایرانی جنگ کے خلاف ہیں پچھلے تین چار دنوں میں دیئے گئے امریکی صدر کے بیانات اور انٹرویوز سے ناکام حسرتوں کا اندازہ لگانا مشکل ہرگز نہیں۔
اُدھر جنگ کے میدان میں ایران نے گزشتہ روز بھی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے رکھا۔ تیسرے ہفتے میں داخل ہوئی جنگ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تین دن قبل امریکی یہ کہہ رہے تھے کہ ایران ایرانی قیادت کیلئے غیر محفوظ بنادیا گیا ہے مگر ایرانی صدر سمیت درجنوں بڑے عہدیداران القدس ریلیوں میں نمائیاں دیکھائی دیئے۔
حرف آخر یہ ہے کہ ایران جنگ کی آڑ میں فرقہ پرستی کے خوانچے سجا کر بازاروں اور سوشل میڈیا پر بیٹھنے والوں کے خلاف کارروائی ہونا چاہئے تاکہ کوئی انہونی نہ ہونے پائے، نیز یہ کہ تعصبات کے سانپ عقیدوں کی پٹاری سے نکالنے کی بجائے جارح ممالک امریکہ اور اسرائیل کی دوٹوک انداز میں مذمت کی جانی چاہئے۔