Saturday, 04 April 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Khudara Taleem Ko Bakhsh Dein

Khudara Taleem Ko Bakhsh Dein

قدرتی آفت ہویاکوئی انسانی مصیبت، ہرموقع پرہماراپہلانشانہ تعلیم ہی ہوتاہے۔ تعلیم کے توہم بڑے گیت گاتے اورنعرے لگاتے ہیں لیکن سچ پوچھیں تواس ملک میں ہم نے تعلیم کوکبھی وہ مقام اوراہمیت نہیں دی جواس کاحق تھا۔ یہ حقیقت جانتے اورسمجھتے ہوئے کہ دنیاکے ہرمسئلے کاحل اورہرمرض کاعلاج تعلیم کے اندر موجودہے پھربھی ہم تعلیم سے اس طرح نظریں چراتے پھررہے ہیں کہ جیسے تعلیم ہماراکوئی دشمن ہو۔

بچپن میں جب ہم سکول نہ جانے کے بہانے تراشتے توہمارے بڑے ایک ہی بات کہتے(سکول وائے مزے بہ کوے)سکول پڑھومزے کروگے۔ اس وقت توان باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن آج جب اپنے آس پاس اوراردگرددیکھتے ہیں توواقعی وہی لوگ مزے کررہے ہیں جنہوں نے تعلیم کواپنااوڑھنابچھونابنایا۔ اسی لئے اب ہمیں بھی جب سکول سے باہرکوئی بچہ ملتاہے توہماری اس کویہی نصیحت ہوتی ہے کہ (سکول وائے مزے بہ کوے)سکول پڑھومزے کروگے۔

کل گاؤں سے شہرآئے یاسراستادملے توبرادرم ضابراستادکی محبت وشفقت سے دوسال پہلے ان کے سکول گورنمنٹ ہائی سکول جوزمیں طلبہ سے کی جانے والی کچھ نصیحتیں یادآگئیں۔ جوبات آج ہم اس کالم کے ذریعے تعلیم کے کرتادھرتاؤں سے کہہ رہے ہیں یہی بات ہم نے دوسال پہلے طلبہ سے بھی کی تھی کہ گزراوقت کبھی واپس نہیں آتا۔ وقت پرکچھ پڑھ اورسیکھ لیاتومستقبل میں مزے کروگے نہیں توپھردردرکی خاک چھانتے پھروگے۔ خوددیکھ لیں ان پڑھ اورجاہلوں کو کون پوچھتاہے؟

تعلیم انسان کاپہلااورآخری سہاراہے۔ یہی تعلیم ہی توہے جوبندے کورب کی وحدانیت، قدرت اورمحبت سکھاتاوسمجھاتاہے۔ یہی تعلیم توہے جس کے ذریعے نہ صرف انسان کو اس کے اذلی دشمن شیطان کی پہچان ہوتی ہے بلکہ اسی تعلیم کی برکت سے بھارت اوراسرائیل جیسے دشمنوں کے شرسے بچنے اورملک کودفاعی طورپرمضبوط بنانے کی راہیں بھی ملتی ہیں۔ غورسے دیکھیں توکروناجیسی وباء کاعلاج اورامن کی راہ ہمیں تعلیم ہی دکھاتاوسکھاتاہے لیکن افسوس جب دنیامیں کروناآیاتوہم نے سکول، کالج اوریونیورسٹیوں کوبندکرکے پہلانشانہ ہی تعلیم کوبنایا۔ اسی طرح اب جب امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے توانائی بحران نے سراٹھایاہے توبھی ہماراپہلانشانہ تعلیم بناہے۔

تعلیم کے بغیرتوانسان کچھ نہیں انسانیت کوانسانیت کاشرف ہی تعلیم کی وجہ سے ملا۔ انسان کی زندگی سے اگرتعلیم کونکال دیاجائے توپھرپیچھے کچھ نہیں بچتا۔ ترقی یافتہ ممالک کے پیچھے مین ہاتھ اورکردارہی تعلیم کاہوتاہے۔ جن قوموں اورلوگوں نے تعلیم کوترجیح دی انہوں نے ترقی کے منازل طے کرنے کے ساتھ ہمیشہ دنیاپرحکمرانی کی۔ ہماری تباہی اوربربادی کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کوہمیشہ دوسرے درجے پررکھا۔

ماناکہ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے بسااوقات حالات سے سمجھوتہ کرناپڑتاہے لیکن یہ توکوئی طریقہ نہیں کہ آپ تعلیمی سلسلے کوبریک لگانامعمول بنالیں۔ ٹھیک ہے کروناکی وباء کے دوران تعلیمی سرگرمیوں کومعطل کرناناگزیرتھالیکن اب توانائی بحران کے نام پرتعلیم کوپھرسے نشانے پرلینایہ ہرگزمناسب نہیں۔ کروناوباء کے دوران اس ملک میں تعلیم کاجونقصان ہواہم توابھی تک صحیح طورپراس کاازالہ بھی نہیں کرسکے ہیں اوپرسے اب ہفتے میں دوتین دن تعلیمی ادارے بندہونے سے جوتعلیمی نقصان ہوگااس کاتو اندازہ ہی نہیں۔ سکولوں کی بندش جیسی غلط پالیسیاں اورنامناسب فیصلے کرکے ماحول کوہم خوداپنے ہاتھوں سے خراب کرتے ہیں اورپھرالزام طلبہ اورٹیچروں کودیتے ہیں کہ وہ پڑھتے اورپڑھاتے نہیں۔

ہمارے طلبہ اوراساتذہ جن حالات اورمشکلات سے گزرکرپڑھتے اورپڑھاتے ہیں۔ ان حالات اورمشکلات کودیکھ کران پرترس آنے لگتاہے۔ سال بھرکی پڑھائی اورحاضری کوچھوڑیں آپ صرف بورڈامتحانات کے دوران طلبہ اوراساتذہ کاحال دیکھیں توآپ کوان کے پڑھنے اورپڑھانے کااندازہ ہوجائے گا۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اورگلگت بلتستان کانہیں پتہ لیکن ہمارے خیبرپختونخوامیں اس وقت نویں اوردسویں کلاس کے بورڈامتحانات شروع ہوچکے ہیں۔ ان امتحانات کے سلسلے میں طلبہ کے ساتھ ان کے اساتذہ کوجوپاپڑبیلنے پڑتے ہیں وہ ہم ہی جانتے ہیں۔

ہم نے توتوانائی بحران کے نام پرہفتے میں دودن سکولوں کوتالے لگادیئے ہیں لیکن اس ملک میں ایسے ہزاروں طلبہ اوردرجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں سکول ایسے ہیں جن کاپٹرول اورڈیزل سے براہ راست کوئی تعلق ہی نہیں۔ جوبچے پہاڑی علاقوں اورکچے راستوں پرروزانہ سکول جانے کیلئے ایک اوردوگھنٹے پیدل مارچ کرتے ہیں ان کاپٹرول سے کیالینادینا۔ اول تواکثرتعلیمی اداروں کاپٹرول وتوانائی بحران کوجوش دینے سے کوئی لنک نہیں بنتا پھربھی تعلیمی اداروں کااگرتھوڑابہت تعلق ہو تواس کایہ مطلب نہیں کہ تعلیم کوقربانی کابکرابنایاجائے۔ اکثراوقات بڑی اورقیمتی شئے کے لئے چھوٹی موٹی چیزوں کوقربان کرناپڑتاہے اوراس میں کوئی قباحت بھی نہیں۔ تعلیم کوئی عام اورمعمولی شے نہیں بلکہ یہ ہماری زندگی بھی ہے اورہمارامستقبل بھی۔

باقی چیزوں کوہم اس پرقربان کرسکتے ہیں لیکن تعلیم کودوسری چیزوں پرقربان کرنایہ ہرگزہرگزمناسب نہیں۔ اگربہت زیادہ مجبوری ہے اورلاک آپ کے بغیرواقعی کوئی چارہ نہیں تواس کے لئے تعلیمی اداروں کوبندکرنے کے بجائے بازاروں اورمارکیٹوں کوشیڈول اورطریقہ کارکے مطابق بندرکھنازیادہ مناسب ہے۔ ویسے بھی توانائیاں بازاروں اورمارکیٹوں میں زیادہ صرف ہوتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں توصرف طلبہ آتے ہیں اوراساتذہ۔ ان کے علاوہ تو کوئی بھول کربھی اس طرف رخ نہیں کرتاجبکہ بازاروں اورمارکیٹوں میں تووہ لوگ بھی پہنچ جایاکرتے ہیں جن کاکوئی کام بھی نہیں ہوتا۔

ملک کواگرسچ میں کفایت شعاری کی راہ پرڈالنااورتوانائی بحران سے نمٹناہے تواس کاآغازتعلیمی درسگاہوں سے نہیں نائٹ کلبوں، شادی ہالز، بازاروں اورمارکیٹوں سے کرناچاہئیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں شام سے پہلے بازار، مارکیٹیں اوردکانیں بندہوجاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں بازاراورمارکیٹس شام کے بعدصحیح طورپرکھلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ کیاتوانائی بچت کے لئے تاریک نماسکولزوکالجزکومنتخب کرنے والے ارباب اختیاواقتدارکونہیں پتہ کہ ہمارے ہاں رات گئے تک بازاروں اورمارکیٹوں میں گاڑیوں کی ریل پیل کے ساتھ خوب چراغاں بھی ہوتاہے۔ آپ راتوں کوکھلنے والے نائٹ کلبوں، بازاروں اورمارکیٹوں کواگربندنہیں کرسکتے توپھرخداراتعلیم کوبھی بخش دیں کہ اس سے کسی ایک گھروفردکی نہیں بلکہ پوری قوم کامستقبل وابستہ ہے۔