Sunday, 05 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Tayeba Zia
  4. Searchlight Operation Aur Bharti Manfi Propaganda

Searchlight Operation Aur Bharti Manfi Propaganda

بنگلہ دیش میں 25 مارچ کو "اپریشن سرچ لائٹ" کی یاد میں سرکاری سطح پر "یومِ نسل کشی" منایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے اپنے بیان میں اس رات کو بنگلہ دیشی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے "سیاہ ترین اور وحشیانہ ترین رات" قرار دیا۔ یہ موقف بنگلہ دیش کے سرکاری بیانیے کا حصہ ہے جو وہاں کی نصابی کتابوں اور سرکاری دستاویزات میں دہائیوں سے موجود ہے۔ مودی سرکار اور بنگلہ دیش کا سرکاری بیانیہ 1971ء کے واقعات پر ایک پیج پر نظر آتا ہے۔

بھارت اس بیانیے کو پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس رات "اپریشن سرچ لائٹ" کے نام پر نہتے شہریوں، دانشوروں اور اساتذہ کا قتلِ عام کیا گیا، جو کہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ اگرچہ طارق رحمان اور ان کی جماعت کو روایتی طور پر بھارت مخالف سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اقتدار میں آنے یا اسے برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح کے بیانات کو اکثر بھارت کو خوش کرنے یا اس کے ساتھ ہم آہنگی دکھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اب جبکہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں، بنگلہ دیشی سرکار کو پاکستان کا موقف بھی سمجھنا چاہئے اور دونوں جانب عوام میں نفرت انگیز بھارتی پروپیگنڈا کو مزید تقویت دینے سے اب گریز کرنا چاہئے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخ کے مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اب ایک نئی اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہیں۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر اگست 2024ء میں بنگلہ دیش میں آنے والی سیاسی تبدیلی کے بعد، دونوں ممالک کے مابین سفارتی اور تجارتی سرد مہری چَھٹتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

سرچ لائٹ اپریشن مشرقی پاکستان کے عوام کے تحفظ کے لئے کیا گیا۔ جب مشرقی پاکستان میں سیاسی اختلاف منظر عام پر آیا تو بھارت نے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر تیزی سے چالیں چلنا شروع کر دیں۔ جبکہ زمینی حقائق کے مطابق بھارت نے چند بنگلہ دیشی شرپسند عناصر کو ٹریننگ دے کر مشرقی پاکستان میں دہشتگردی شروع کروائی جن کی سرکوبی اور مشرقی پاکستان کی عوام کی حفاظت کے لئے اپریشن سرچ لائیٹ لانچ کیا گیا تا کہ بھارتی سپانسرڈ دہشتگردی کا قلع قمع کرکے ریاستی رٹ قائم کی جا سکے اور عوامی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے - اسی اپریشن کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔

پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے تاہم بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ وہ بھارتی پراپیگنڈا اور سازش کا شکار نہ ہوں۔ کسی بھی سیاسی بیان کو "پروپیگنڈا" یا "حقیقت" قرار دینا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ اسے کس نظرئیے سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں اسے اکثر تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اپریشن سرچ لائٹ فوجی کارروائی تھی جو 25 مارچ 1971ء کی رات کو اس وقت کی پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں شروع کی تھی۔ اس اپریشن کا بنیادی مقصد صوبے میں امن و امان بحال کرنا تھا۔ اس اپریشن کے دوران ہونے والے جانی نقصان کے اعداد و شمار آج بھی ایک بڑا تنازعہ ہیں۔

بنگلہ دیشی بیانیہ اسے "نسل کشی" قرار دیتا ہے، جبکہ پاکستانی موقف میں ان اعداد و شمار کو مبالغہ آرائی اور بھارتی عناد اور پروپیگنڈا قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اپریشن سرچ لائٹ" کے حوالے سے موجود بیانیے کو بہت سے ماہرین بھارتی پراپیگنڈہ اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک منظم سازش قرار دیتے ہیں۔ بھارتی اور بنگلہ دیشی بیانیے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس اپریشن اور بعد کی جنگ میں 30 لاکھ افراد مارے گئے۔ بہت سے بین الاقوامی محققین، جیسے آکسفورڈ کی شرمیلا بوس نے اپنی کتاب "Dead Reckoning" میں ثابت کیا ہے کہ یہ تعداد مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔

بنگلہ دیش کے اپنے ذرائع اور 1972 کے سروے بھی اس بڑی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکے۔ اسے "پراپیگنڈہ" اس لیے کہا جاتا ہے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کیا جا سکے۔ بھارتی سازش کا ایک بڑا حصہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر صرف پاکستانی فوج کے ایکشن کو دکھایا گیا، جبکہ اپریشن سرچ لائٹ سے پہلے اور اس کے دوران مکتی باہنی نے ہزاروں کی تعداد میں محبِ وطن پاکستانیوں، بہاریوں اور غیر بنگالیوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ بھارت نے ان مسلح جتھوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا تاکہ وہ ریاست کے خلاف بغاوت کریں۔ اس پہلو کو تاریخ سے حذف کرنا بھارتی بیانیے کا اہم مقصد رہا ہے۔ نریندر مودی نے 2015ء میں ڈھاکہ میں اپنے خطاب میں اعتراف کیا تھا کہ بھارت نے بنگلہ دیش کی علیحدگی میں بھرپور حصہ لیا۔

بھارت کی جانب سے سرچ لائٹ اپریشن سے متعلق منفی پراپیگنڈہ کا مقصد بنگلہ دیشی نسل میں پاکستان کے خلاف مستقل نفرت پیدا کرنا تھا۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ قتلِ عام درحقیقت مکتی باہنی کے اندرونی گروپوں یا بھارتی ایجنٹوں نے کیا تاکہ اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جا سکے۔ پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ آپریشن سرچ لائٹ کوئی "نسل کشی" نہیں بلکہ ریاستی رٹ قائم کرنے کی ایک فوجی کوشش تھی، جسے بھارت نے اپنے مفادات کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کا رنگ دے کر پیش کیا۔ بھارت نے اسے ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جس سے وہ پاکستان کو دو لخت کر سکے۔ آج بھی جب بنگلہ دیش میں اس طرح کے بیانات سامنے آتے ہیں، تو انہیں بھارت کی پاکستان سے پرانی دشمنی اور مکارانہ سازشی ذہنیت کا تسلسل سمجھا جاتا ہے۔