Thursday, 13 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Tayeba Zia
  4. Aik Pur Waqar Taqreeb

Aik Pur Waqar Taqreeb

مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کی پندرہ سالہ کارکردگی اور فلاحی خدمات کے اعتراف میں لاہور میں ایک پروقار اور شاندار تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب فاؤنڈیشن کے پندرہ برسوں پر محیط قومی و انسانی خدمات کے سفر کی یاد میں شکرانے کے طور پر انعقاد پذیر ہوئی۔ اس تاریخی موقع پر راقم کی مرتب کردہ نئی کتاب "مومنہ سے مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن تک" کی باضابطہ رونمائی کی گئی۔ یہ کتاب مرحومہ مومنہ چیمہ کی یاد اور فاؤنڈیشن کے 15 سالہ فلاحی، علمی اور روحانی سفر کی کہانی کو پیش کرتی ہے۔

تقریب میں صحافت، تعلیم، سماجی خدمات اور انتظامی شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں اور اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران ملک بھر، خصوصاً دور دراز علاقوں (جیسے شگر، بلتستان) میں فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری واٹر ویل پروجیکٹس، پرائمری سکولز اور پروفیشنل ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ یہ تقریب مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کے عزم کی تجدید اور مستقبل کے مزید فلاحی و تعلیمی منصوبوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔

امریکہ سے تشریف لائے ہوئے مومنہ چیمہ مرحومہ کے والد اوربانی آف فاؤنڈیشن ڈاکٹر محمد اختر چیمہ نے مومنہ بیٹی کی مفکر اور فلاسفر علامہ محمد اقبال سے روحانی وابستگی سے متعلق ایک خصوصی مقالہ پیش کیا جبکہ مومنہ کیبھائی سرجن ڈاکٹر فرید احمد چیمہ نے مومنہ چیمہ کی زندگی پر لکھی گئی اپنی کتاب "Evrything Else Follows " سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ امریکہ میں شائع ہونے والی یہ کتاب ایک بھائی کی اپنی بہن سے والہانہ عقیدت کی انمول مثال ہے۔ تقریب میں اندرون اور بیرون ملک سے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔

اپنی نوعیت کی اس منفرد تقریب میں ہر مہمان چیف گیسٹ تھا۔ تلاوت قران پاک اور نعت رسول مقبول کے بعد چئیر مین آف فاؤنڈیشن سابق کمشنر ذوالفقار احمد گھمن نے مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہا جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تنزیلہ خالد نے پورے پاکستان میں فاؤنڈیشن کی پندرہ سالہ کارکردگی کی تفصیل پیش کی۔ گلگت بلتستان سے آئے فاؤنڈیشن کے پراجیکٹ منیجر عبد اللہ ناصر شگری نے بلتستان بھر میں صاف پانی، تعلیم، صحت اور دیگر منصوبوں کی تفصیل بیان کی جبکہ پنجاب، کے پی کے، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے نمائندگان بھی رقریب میں موجود تھے۔

اخوت فاؤنڈیشن کے بانی اور چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں عوام کر رہے ہیں۔ میں چونکہ مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کا پرانا ساتھی ہوں لہذا بتا سکتا ہوں کہ اس مختصر عرصہ میں مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن نے انتہائی طویل اور کٹھن سفر طے کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ سینئر صحافی سعید آسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ہر نعمت سے مالا مال ہے مگر یہاں کبھی وہ نظام اور سرکار میسر نہ آسکی جو عوام کے مسائل کو حل کر سکتی۔

مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کی جانب سے سابق چئیر مین ریٹائرڈ کرنل شوکت حیات چیمہ مرحوم کی خدمات کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کرنل شوکت چیمہ مرحوم کے دیرینہ ساتھی کرنل افتخار الدین نے مرحوم کی شخصیت سے متعلق پراثر تعزیتی گفتگو کی۔ اس موقع پر گلوکار عمران شوکت علی نے صوفیانہ کلام پیش کیا۔ جسٹس نذیر احمد غازی صاحب علالت کے باوجود تشریف لائے۔

سکردو سے تشریف لائے ہوئیڈی آئی جی پولیس طفیل احمد میر، کاروباری شخصیت مرزا عطا الرحمان، میاں عصمت اللہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سابق نائب صدرلاہور بار ایسوسی ایشن اورمومنہ چیمہ کی سکالر طالبہ ڈاکڑ حبیبہ شیخ کی والدہ نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمود شوکت صاحب کی ننھی پوتی امالیہ نے فاؤنڈیشن کے لئے عطیہ پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کی جانب سے اعزازی شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے اور مہمانان گرامی کو پر تکلف عشائیہ دیا گیا۔