Friday, 27 February 2026
    1.  Home
    2. Nai Baat
    3. Syed Badar Saeed
    4. Social Media Hamein Istemal Kar Raha Hai

    Social Media Hamein Istemal Kar Raha Hai

    کبھی آپ نے سوچا ہے کہ موبائل ہاتھ میں آتے ہی انگلی سیدھی ایک مخصوص ایپ پر کیوں چلی جاتی ہے؟ نہ کوئی خاص ضرورت ہوتی ہے، نہ کوئی ہنگامی خبر ہوتی ہے بس ایک عادت سی بن چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک پورا ڈیجیٹل نظام ہمیں استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بات تسلیم کرنا تھوڑا مشکل ہے لیکن ذرا ٹھنڈے دل سے اپنے روزمرہ معمول پر نظر ڈالیں۔ اوسطاً دنیا بھر میں لوگ روزانہ دو سے اڑھائی گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ نوجوانوں میں یہ وقت تین سے چار گھنٹے اور اب اس سے بھی کہیں آگے تک پہنچ چکا ہے۔ سال کے حساب سے یہ تقریباً ایک مہینہ بنتا ہے یعنی ہم اوسطا ایک پورا ماہ دن رات صرف سکرین پر ہوتے ہیں۔

    انسانی دماغ تقریباً چھیاسی ارب اعصابی خلیات پر مشتمل ہے۔ یہی خلیات آپس میں جڑ کر کھربوں رابطے بناتے ہیں اور ہماری عادات تشکیل دیتے ہیں۔ جب ہم کوئی خوشگوار چیز دیکھتے ہیں مثلاً کوئی دلچسپ ویڈیو، لائک یا تعریف تو دماغ میں ایک کیمیائی مادہ خارج ہوتا ہے جسے ڈوپامین کہتے ہیں۔ یہ وہی نظام ہے جو ہمیں کوئی انعام ملنے پر خوشی کا احساس دیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ڈوپامین بنتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اسی احساس کو بار بار جگانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ مختصر ویڈیوز، نہ ختم ہونے والی سکرولنگ، اچانک آنے والی اطلاع یہ سب ہمارے اعصابی نظام کو چھیڑنے کے طریقے ہیں۔

    آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ ٹک ٹاک یا انسٹاگرام کھولتے ہیں تو ایک ویڈیو ختم ہوتے ہی دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ سکرین نیچے کی طرف کھسکاتے جائیں اور مواد ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ یہ "لامتناہی اسکرول" ہے۔ اسی طرح فیس بک اور یوٹیوب آپ کی پسند ناپسند کو باریکی سے دیکھتے ہیں۔ آپ کس پوسٹ پر رکے؟ کس ویڈیو کو کتنی دیر دیکھا؟ کہاں تبصرہ کیا؟ کن الفاظ کو تلاش کیا؟ یہ سب اعداد و شمار ایک الگورتھم کے پاس جاتے ہیں۔ یہ الگورتھم یعنی ایسا خودکار نظام ہے جو اندازہ لگاتا ہے کہ آپ اگلی بار کیا دیکھنا چاہیں گے۔

    اکثر لوگ کہتے ہیں کہ میں نے تو صرف سوچا تھا اور میری سوشل میڈیا ایپ پر اسی چیز کے اشتہار آنا شروع ہوگئے۔ یہ آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہوگا۔ دراصل یہ جادو نہیں بلکہ ایک اندازہ ہے۔ آپ کی تلاش، آپ کی گفتگو، آپ کے دیکھنے کے انداز سے ایک خاکہ بنتا ہے۔ اس خاکے کی بنیاد پر آپ کو وہی چیزیں دکھائی جاتی ہیں جو آپ کی دلچسپی کے قریب ہوں۔ ہمیں یوں لگتا ہے جیسے دماغ پڑھ لیا گیا ہو حالانکہ زیادہ تر صورتوں میں یہ ہمارے اپنے رویّے کی عکاسی ہوتی ہے۔

    اس میں لاشعور کا کردار بھی اہم ہے۔ جب ہم کوئی کام بار بار کرتے ہیں تو وہ ہمارے اندر بس جاتا ہے۔ جیسے سائیکل چلانا یا گاڑی سیکھنا شروع میں مشکل لگتا ہے لیکن پھر ہم خودکار انداز میں چلاتے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی اسی اصول پر کام کرتا ہے۔ پہلے آپ دن میں ایک بار ایپ کھولتے ہیں، پھر دو بار، پھر ہر گھنٹے بعد اور پھر کچھ عرصے بعد آپ کو احساس بھی نہیں رہتا کہ آپ نے موبائل کیوں اٹھایا۔ یہ عادت کا چکر ہے۔ اطلاع آئی، ایپ کھولی، کچھ دلچسپ ملا، خوشی محسوس ہوئی اور دماغ نے اسے محفوظ کر لیا۔

    ڈوپامین کے بعد ایک وقت شروع ہوتا ہے جب ہمارے اندر ایک اور کیفیت جنم لیتی ہے جسے "محرومی کا خوف" کہا جا سکتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے چند گھنٹے موبائل نہ دیکھا تو شاید کوئی اہم خبر، کوئی موقع یا کوئی ٹرینڈ ہم سے چھوٹ جائے گا۔ یہی خوف ہمیں بار بار سکرین کی طرف کھینچتا ہے۔ نوجوانوں میں یہ کیفیت زیادہ پائی جاتی ہے جس کے اثرات نیند کی کمی، بے چینی اور توجہ کی کمزوری کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

    آج کل کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی براہِ راست دماغ کو قابو کرنے لگی ہے۔ دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ اعصابی تحقیق ترقی کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر Neuralink دماغ اور کمپیوٹر کو جوڑنے کے تجربات پر کام کر رہی ہے تاکہ فالج یا دیگر بیماریوں کے مریضوں کی مدد ہو سکے اس لیے ایک رائے ہے کہ اسے عام لوگوں کے خیالات پر خفیہ کنٹرول کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہے۔ اشتہارات میں نفسیاتی حربے ضرور استعمال ہوتے ہیں مگر انسان کی سوچ اتنی سادہ نہیں کہ چند پوشیدہ اشاروں سے مکمل طور پر بدل جائے۔

    ہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ہاتھوں استعمال ہونے کی بجائے اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اگر ہمیں یہ احساس ہو جائے کہ اب سسٹم ہمیں استعمال کر رہا ہے تو اس صورت حال سے نکلا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمارا دماغ صورت حال بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے نیورو پلاسٹک کہا جاتا ہے یعنی یہ نئے راستے بنا سکتا ہے۔ اگر ایک عادت بن سکتی ہے تو ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ سوال صرف ارادے اور طریقے کا ہے۔ سب سے پہلے اپنے سکرین ٹائم کو نوٹ کریں۔ اگر آپ روز تین گھنٹے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو اسے ایک دم آدھا نہ کریں بلکہ آہستہ آہستہ کم کریں۔ غیر ضروری نوٹیفکیشن بند کریں۔ موبائل کو اپنے سونے کے کمرے سے باہر رکھیں۔ دن میں مخصوص وقت مقرر کر لیں مثلاً شام کو آدھا گھنٹہ موبائل اور باقی وقت میں کتاب پڑھیں، چہل قدمی کریں، ورزش کریں یا گھر والوں کے ساتھ بیٹھیں۔

    اس حوالے سے بچوں کے معاملے میں احتیاط اور بھی ضروری ہے۔ ان کا دماغ ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ اگر بچہ ہر فارغ لمحے میں گیم یا ویڈیو کی طرف جاتا ہے تو اس کے ارتکاز کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ گھر میں سادہ اصول بنائیں کہ کھانے کے وقت موبائل نہیں، سونے سے پہلے سکرین بند، ہفتے میں ایک دن مکمل ڈیجیٹل وقفہ ہوگا۔ بچوں کو اس کا متبادل دیں مثلاً کھیل کا میدان، کتاب، رنگ اور کاغذ متبادل ہے۔ بچوں کو صرف روکنا کافی نہیں بلکہ متبادل دلچسپی کا راستہ دکھانا بھی ضروری ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں ہے بلکہ ہمارے انتخاب کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں ہے۔ اس نے رابطے آسان کیے، معلومات تک رسائی دی، کاروبار کے نئے دروازے کھولے مگر جب استعمال حد سے بڑھ جائے تو فائدہ نقصان میں بدل جاتا ہے۔ ہماری توجہ اور وقت ہماری سب سے قیمتی دولت ہے۔ اگر ہم نے اسے بغیر سوچے سمجھے بانٹ دیا تو خسارہ ہمارا ہوگا۔

    اگلی بار جب آپ موبائل اٹھائیں تو ایک لمحہ رک کر خود سے پوچھیں کہ میں یہ کیوں کھول رہا ہوں؟ اگر جواب واضح ہو تو موبائل استعمال کریں ورنہ ایک طرف رکھ دیں۔ آہستہ آہستہ آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے ذہن پر اس پختہ عادت کا جال کمزور پڑ رہا ہے۔ سکرین اپنی جگہ رہے گی مگر اختیار آپ کے ہاتھ میں ہوگا اور شاید یہی اصل آزادی ہے۔ اپنے وقت اور اپنی توجہ پر خود کنٹرول کریں ورنہ تسلیم کر لیں کہ ہم سوشل میڈیا استعمال نہیں کر رہے بلکہ اب سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے۔