Thursday, 01 January 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Punjab Mein European Traffic System

Punjab Mein European Traffic System

نیا سال گزشتہ برس کے احتساب کا دن ہوتا ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر اسی حوالے سے میڈیا کے سامنے اپنی سالانہ کارکردگی پیش کر رہے تھے۔ یہ روایتی پریس کانفرنس نہیں تھی کیونکہ اس میں اعداد و شمار اور ڈیٹا پر بات ہو رہی تھی۔ سکرین پر پریزنٹیشن بھی دی جا رہی تھی۔ صحافیوں کے تلخ سوالات کے جواب بھی دیئے جا رہے تھے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر کے مطابق پنجاب میں روزانہ تین کروڑ کے لگ بھگ گاڑیوں کی نقل و حرکت ہوتی ہے جبکہ صوبے کی کل آبادی تقریباً 133 ملین اور رجسٹرڈ گاڑیاں دو کروڑ 57 لاکھ سے زائد ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر صوبوں سے تقریباً 50 لاکھ گاڑیاں بھی ہر روز پنجاب کی سڑکوں پر آتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں پنجاب میں صرف 12,843 ٹریفک اہلکار کام کر رہے ہیں جن میں سے صرف 3,200 اہلکار شہری علاقوں کی سڑکوں پر ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔

صوبے کی 87,000 کلومیٹر پر مشتمل سڑکوں میں سے تقریباً 8 فیصد شہری سڑکیں ہیں لیکن ان پر روزانہ چلنے والی گاڑیوں کا تناسب 80 فیصد ہے باقی 92 فیصد سڑکیں نیشنل ہائی ویز، موٹرویز اور دیہی علاقوں میں ہیں جہاں زیادہ تر ٹریفک لوکل پولیس کے زیر انتظام ہے لیکن صوبے میں ہونے والے ٹریفک حادثات کا 21 فیصد ٹریفک پولیس کے زیر نگرانی علاقوں میں ہوتا ہے جبکہ 79 فیصد ایسے علاقوں میں ہوتا ہے جن میں ٹریفک پولیس کی موجودگی نہیں ہوتی۔

ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق حالیہ ٹریفک کمپین کے نتیجے میں فیٹل ایکسیڈنٹس میں تقریباً 56 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جنرل ہسپتال لاہور کے ہیڈ انجری ڈیٹا کے مطابق بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں ہیڈ انجری کے مریضوں کی تعداد 80 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ گزشتہ برس پنجاب میں ٹریفک حادثات میں 4,772 اموات ہوئیں جبکہ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے ہمسایہ ممالک میں یہ ریشو زیادہ ہے۔

ٹریفک حادثات کی نوعیت پر تفصیلی تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر حادثات ڈرائیور کی غیر ذمہ داری کے سبب ہوتے ہیں۔ پنجاب میں 25 فیصد حادثات اوور سپیڈ، 13 فیصد ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی اور 19 فیصد غلط اوور ٹیکنگ کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دو تہائی حادثات ڈرائیور کی لاپروائی یا قواعد کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پنجاب میں رجسٹرڈ موٹر سائیکلز کی تعداد میں سے 84 فیصد کا تعلق فیٹل ایکسیڈنٹس سے ہے جس میں 40 فیصد حصے کا تعلق ہیلمٹ نہ پہننے یا غلط ڈرائیونگ کے سبب ہے۔

ٹریفک پولیس نے اس حوالے سے 27 نومبر سے جاری کیمپین کے دوران 1.5 ملین ٹریفک چالان جاری کیے اور 2.8 ملین شہریوں نے لائسنس حاصل کیے۔ اس دوران تقریباً 3 ارب روپے کا ریونیو قومی خزانے میں جمع کرایا گیا۔ کمرشل گاڑیاں مجموعی ٹریفک کا صرف پانچ فیصد ہیں لیکن ان سے ہونے والے حادثات 35 فیصد بنتے ہیں۔ ان گاڑیوں کی درست نگرانی اور ڈرائیورز کی تربیت پر فوکس کے نتیجے میں مستقبل میں اس تناسب میں کمی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلمٹ پہننے کی شرح میں 90 فیصد اضافہ ہوا اور بسوں کی چھت پر مسافر بٹھانے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا جس سے حادثات میں 85 فیصد کمی دیکھی گئی۔

ڈی آئی جی وقاص نذیر ایک اہم بات بتائی جس سے لگتا ہے کہ اب پنجاب میں ٹریفک کا نظام ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب چالان کے ساتھ ثبوت بھی ہوگا، وارڈنز کو باڈی کیمرے دیئے جا رہے ہیں جبکہ ٹریفک ایپس بن چکی ہیں۔ چالان کے ساتھ پوائنٹ ہوں گے اور بیس پوائنٹس کرنے کے بعد لائسنس کینسل کیا جا سکتا ہے۔

اس صورت حال سے لگتا ہے کہ پنجاب میں ٹریفک کو جدید انداز میں منظم کیا جا رہا ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی حادثات میں کمی لانے کا باعث بنے گی تو دوسری طرف چالان کے ساتھ لائسنس پوائنٹس کٹنے سے بھی لوگ محتاط ہوں گے۔ یہ بات سچ ہے کہ حادثات کی بڑی وجہ ڈرائیورز کی اپنی لاپروائی ہوتی ہے لیکن ان حادثات کے نتیجے میں وہ شہری بھی مارے جاتے ہیں جن کی کوئی غفلت نہیں ہوتی۔

کیمرے کا ثبوت ناجائز اور ٹارگٹ بیسڈ چالان کرنے والے الزامات کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ یقیناََ تمام شہری ٹریفک قوانین کی پابندی کے حق میں ہیں۔ اختلاف یہی تھا کہ شہری سمجھتے تھے ٹریفک پولیس کو چالان کرنے کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے جسے اب ایپس اور کیمروں کی مدد سے ختم کیا جا رہا ہے۔ اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹریفک پولیس نے صرف 25 فیصد چالان کیے ہیں اور باقی تمام چالان سیف سٹی کے کیمروں نے کیے ہیں اور کیمروں پر جانبداری، رشوت یا ٹارگٹ کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔