وعدہ، معاہدہ، ایگریمنٹ مہذب دنیا کے وہ لفظ ہیں جن پر سب کی نظریں لگی ہوتی ہیں۔ جنگ، امن، تجارت، دوطرفہ تعلقات، خارجہ پالیسی سب زبان اور وعدہ کے ہی محتاج ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم سامان خرید کر گھر آجائیں اور 30 سال بعد اس خرید شدہ سامان پہ اتنا اور ایسا یک طرفہ ٹیکس لگا دیا جائے۔ جس پہ سوال اٹھانا بلیک میلنگ کہلائے۔ یہ تو وہی بات ہے کہ چور مچائے شور۔
پنجاب میں سرکاری ملازم کئی دہائیوں کے بعد اس امید پر ریٹائر ہوئے کہ انہیں قانون اور سروس رولز کے مطابق پنشن، گریجویٹی اور دیگر مراعات ملیں گی۔ 2 دسمبر 2024ء کو حکومتِ پنجاب نے پنشن اصلاحات کا اعلان کیا جس کے تحت پنشن، گریجویٹی، رخصتی انکیشمنٹ اور دیگر مراعات میں بھاری کمی کردی گئی۔ ظلم یہ ہے کہ یہ اصلاحات صرف پنجاب کے ملازمین پر لاگو کی گئیں جبکہ وفاقی اور دیگر صوبوں کے ملازمین کو ان کی مکمل مراعات ملتی رہیں، جس سے غیر آئینی امتیاز پیدا ہوا۔ سابقہ صدر تنظیم اساتذہ ڈاکٹر طارق کلیم نے ایک طویل خط میں ان تمام معاملات اور اس میں شامل سازش کے ذریات کو احتیاط سے چھانا ہے۔ اس خط کا کچھ حصہ جوں کا توں پیش خدمت ہے۔
"اس عمر میں یہ ظلم ملازم کو جان سے مار دینے کے مترادف ہے۔ وہ آگے کا رہے گا نہ پیچھے کا۔ جن ذمہ داریوں کو اس نے سبک دوشی تک موخر کر رکھا تھا ان کے بوجھ تلے آکر کچلا جائے گا۔ کاش وزیر اعلیٰ پنجاب جو خود بھی خاتون ہیں، جان پاتیں کہ ان کا یہ فیصلہ ان بیٹیوں کے ہاتھ پیلے ہونے سے روک دے گا جو امید بھری نظروں سے اپنے باپ کی ریٹائرمنٹ کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔ اس فیصلے سے باپ کی جھکی کمر اور جھک جائے۔ اب سبکدوشی کے بعد وہ مارکیٹ میں پھر سے اپنی قیمت لگوانے نکلے گا اور"وانٹڈ" کے اشتہار دیکھا کرے گا۔
سب سے پہلے دو ہزار تئیس میں پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین سے لیو انکیشمنٹ واپس لی اور یہ کارنامہ عبوری حکومت نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سرانجام دیا۔ عبوری حکومت جس کا کام انتخابات کرانا تھا اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے دس لاکھ سرکاری ملازمین کو ایک سہولت سے محروم کردیا۔ اس ظالمانہ اقدام کے خلاف سرکاری ملازمین نے شدید احتجاج کیا اور اکتوبر کے پہلے عشرے میں سول سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دیا گیا۔
19 اکتوبر 2023ء کو محترمہ مریم نواز کی یقین دہانی پر کہ لیو انکیشمنٹ کی سہولت واپس دے دی جائے گی۔ احتجاج ختم کردیا گیا۔ 6 فروری 2024ء کو محترمہ مریم نواز نے سرکاری ملازمین کے نمائندوں کو پھر جاتی عمرہ بلایا اور کہا کہ حکومت میں آتے ہی وہ لیوانکیشمنٹ بحال کردیں گی۔ سرکاری ملازمین کے پاس اعتبار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ حکومت میں آنے کے بعد لیوانکیشمنٹ تو کیا بحال ہوتی اسی برس دسمبر میں پنشن اور گریجویٹی کو بھی کم کرنے کے ساتھ ساتھ 17A کے قانون کو بھی ختم کر دیا گیا۔
17A قانون کے تحت اگر کسی سرکاری ملازم کا دوران ملازمت انتقال ہو جائے تو اس کی اولاد میں سے کسی ایک کو یا اولاد نابالغ ہو تو اس ملازم کی بیوہ کو سرکاری ملازمت پر رکھ لیا جاتا تھا۔ اس قانون کا فائدہ بہت کم لوگوں کو ہوتا تھا تاہم یہ سرکاری ملازم کو خاص قسم کا احساس تحفظ دیتا اور وہ زیادہ محنت اور تن دہی سے کام کرتے۔ محترمہ مریم نواز کے اس عمل سے ایک طرف تو سرکاری ملازمین کی نظر میں خود ان کی سیاسی ساکھ متاثر ہوئی اور دوسری طرف ان نمائندوں کا کردار سرکاری ملازمین کی نظر میں مشکوک ہوگیا۔ یوں حکومت اور عام ملازمین کے درمیان جو پل تھا۔ وہ کم زور ہو کر لرزنے لگا۔
مراعات کی کٹوتی کے حوالے سے حکومت کے پاس یہ بہانہ ہے کہ ایسا آئی ایم ایف کی ایما پر کیا جارہا ہے۔ اول تو سرکاری ملازمین کو اس بات پر یقین نہیں کیوں کہ ان کے سامنے حکومت اور مراعات یافتہ طبقے کی شاہ خرچیاں ہیں۔ سرکاری ملازمین کو اس بات پر قائل کرنا بہت مشکل ہے کہ آئی ایم ایف مراعات یافتہ طبقے کے اللوں تللوں سے صرف نظر کرکے غریب سرکاری ملازمین کے منہ سے نوالہ چھیننا چاہتا ہے، اسے بیوروکریٹس کی شہ خرچیاں، ارکان اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات، حکومت کی تشہیر پہ خرچ ہونے والی رقم تو نظر نہیں آتی، کچھ نظر آتا ہے تو غریب ملازمین کی پنش۔
چلیں اس بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے کہ آئی ایم ایف کا بہت دباؤ ہے تو ملازمین کا موقف ہے آئی ایم ایف کے سامنے پنجاب کے سرکاری ملازمین کا مقدمہ لڑنا کس کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری ملازمین خود تو جا کے آئی ایم ایف کے دروازے سے سر پھوڑنے سے رہے۔ ان کے خیال میں یہ صرف اور صرف وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئی ایم ایف کو ملازمین کی حالتِ زار کے بارے آگاہ کریں۔ وہ دیانت داری سے ملازمین کا مقدمہ لڑیں۔ یقین واثق ہے کہ اگر سلیقے سے مقدمہ لڑا جائے تو آئی ایم ایف کو قائل کیا جاسکتا ہے۔
اس وقت پنجاب میں تقریباً دس لاکھ سرکاری ملازمین ہیں اور شاید اتنے ہی پنشنر ہوں گے۔ اگر ان کے دکھوں کا مداوا کر دیا جائے تو بہت بڑی تعداد میں لوگ مطمئن ہوں گے اور حکومت کے حق میں بات کریں گے۔ سیاست سے وابستہ لوگوں کو ہمیشہ عوامی جذبات کا خیال رہتا ہے۔ حکومت کو بھی اپنی مقبولیت میں اضافے کے لیے ملازمین کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ملازمین کو خوش کرنے اور ان کا دل جیتنے کے لیے حکومت کو کوئی غیر معمولی اقدام نہیں کرنے۔ صرف دو کام کرنے ہیں ایک یہ کہ سب سرکاری ملازمین سے یکساں سلوک کیا جائے اور دوسرے جن شرائط پہ بھرتی کیا ہے ان شرائط پہ ہے ریٹائر کردیا جائے۔
(ڈاکٹر طارق کلیم)۔ "
بلاشبہ یہ نکات قابل عمل ہیں اور امید ہے کہ میڈم مریم نواز سرکاری ملازمین کی اس ظالمانہ محرومی کا ازالہ کریں گی۔