Thursday, 15 January 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Saadia Bashir
  4. Ghair Mutawazan Nizam, Thaka Hua Muashra

Ghair Mutawazan Nizam, Thaka Hua Muashra

زندگی میں توازن ہی وہ حکمت ہے جو انسان کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب فکر و عمل، محنت و آرام اور خواہش و قناعت میں اعتدال ہو تو شخصیت نکھر جاتی ہے۔ درحقیقت توازن ہی ایک باوقار اور پُرسکون زندگی کی بنیاد ہے۔ کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں انسان کو بحیثیتِ انسان کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں کام اور تعلیم کے شعبوں میں توازن کا تصور مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ملازمین بلکہ طلبہ بھی ایسے دباؤ کا شکار ہیں جو رفتہ رفتہ ایک معاشرتی بحران کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف طویل اوقاتِ کار یا تعلیمی دباؤ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اصل بحران یہ ہے کہ محنت کا مناسب اور یقینی معاوضہ ایک غیر واضح، غیر محفوظ اور غیر یقینی شے بنتا جا رہا ہے۔ وہ تعلیم میں نمبرز اور گریڈز کی صورت ہو یا سرکاری ملازمین کی پنشن، گریجویٹی اور دیگر مراعات میں کٹوتی کی صورت۔ بددیانتی کا شاخسانہ ہے۔

پاکستان میں دفتری اوقاتِ کار بظاہر صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک مقرر ہیں۔ مگر عملی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ سرکاری و نجی دونوں شعبوں میں ملازمین سے شام گئے تک کام لینا معمول بن چکا ہے وہ بھی بغیر کسی قانونی اوور ٹائم یا اضافی معاوضے کے۔ اس طرزِ عمل کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ ملازم کی ذاتی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں، حالانکہ وہ محض ایک ورکر نہیں بلکہ ایک خاندان کا رکن اور سماج کا فعال حصہ بھی ہوتا ہے۔

بین الاقوامی لیبر اسٹینڈرڈز اس بات پر متفق ہیں کہ طویل اوقاتِ کار انسانی صحت، کارکردگی اور سماجی استحکام کے لئے نقصان دہ ہیں۔ مسلسل ذہنی دباؤ نہ صرف کام کی صلاحیت کو کم کرتا ہے بلکہ خاندانی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے ذہنی امراض، خاندانی تنازعات اور سماجی بے چینی کو محض انفرادی ناکامی قرار دینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ اصل مسئلہ ایک غیر متوازن نظام ہے جو انسان کو مسلسل نچوڑنے پر یقین رکھتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ کو دن بھر کی کلاسز کے بعد شام کے اوقات میں آن لائن لیکچرز اور قلیل وقت کی ڈیڈ لائنز دی جاتی ہیں، جس سے تعلیم کا مقصد علم و فہم کے بجائے محض اسائنمنٹس کی تکمیل بن کر رہ جاتا ہے۔ کالج یا یونیورسٹی بند ہونے کے بعد طلبہ آرام کے لئے گھر جاتے ہیں، مگر بعض اساتذہ آن لائن رابطے میں رہتے ہوئے اسائنمنٹس بھیجتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ میں ڈپریشن اور ذہنی تھکن جنم لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک طالب علم کو سوچنے، سیکھنے اور غور و فکر کا وقت ہی نہ دیا جائے تو اس سے تخلیقی یا تحقیقی ذہن کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم اور روزگار کے نظام کو انسانی صلاحیت اور نفسیاتی ضرورتوں کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔ وہاں اوور ٹائم کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، تعلیمی اداروں میں ورک لوڈ واضح اور متوازن رکھا جاتا ہے اور ذہنی صحت کو ایک سنجیدہ قومی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی متوازن نقطہ نظر کے باعث وہاں کا فرد زیادہ پُراعتماد، ذمہ دار اور نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہے کہ سختی، دباؤ اور مسلسل کام ہی ترقی کی ضمانت ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نظام نہ پائیدار ہوتا ہے اور نہ ہی دیرپا نتائج دیتا ہے۔ جب انسان کو آرام، خاندان اور ذاتی زندگی سے محروم کر دیا جائے تو وہ نہ ایک بہتر کارکن رہتا ہے اور نہ ہی ایک بہتر شہری۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قانون میں اوور ٹائم، تنخواہ اور اوقاتِ کار کی حدود واضح ہیں۔ تو حکومت کو بار بار احکامات جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اور اگر احکامات جاری ہو بھی جائیں تو ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو پاتا؟ یہاں اصل مسئلہ ریاستی تحویل (Custody) کا ہے۔ تعلیم اور محنت جیسے بنیادی شعبے اگرچہ نجی ہاتھوں میں دیے جا سکتے ہیں، مگر ان کے اثاثے، یعنی اساتذہ، ملازمین اور طلبہ، ریاستی ذمہ داری ہی رہتے ہیں۔ اگر اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز نجی ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں کام کرنے والے افراد ریاستی تحفظ سے محروم ہو جائیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نجی اداروں کو مکمل آزادی دے دی گئی ہے، جبکہ نگرانی، احتساب اور معاوضے کا نظام تقریباً غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔