روزمرہ کی مصروفیت میں چھپی خاموش دستک، یعنی بریسٹ کینسر کی وقت پر تشخیص، خواتین کی صحت اور ان کی زندگی بچانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع ہے۔ خواتین اکثر اپنے گھر، بچوں، شوہر اور دیگر تمام خاندانی ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے اپنی ہی صحت اور وجود کو بالکل پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔ لیکن ان کی یہی غفلت بعض اوقات ایک ایسی دھیمی اور خاموش بیماری کو جسم میں پروان چڑھانے کا سبب بن جاتی ہے جس کا اگر بروقت پتا نہ چلے تو اس کے نتائج انتہائی دردناک اور جان لیوا ہو سکتے ہیں۔
بریسٹ کینسر یعنی چھاتی کا کینسر ایک ایسا ہی طبی مسئلہ ہے جس کے بارے میں معلومات کی شدید کمی، غلط فہمیوں اور معاشرتی ہچکچاہٹ کی وجہ سے اکثر خواتین ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں غیر ضروری تاخیر کر دیتی ہیں۔ اسی آگاہی کی اشد ضرورت اور اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کراچی پریس کلب میں ایک خاص اور معلوماتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیشن کراچی پریس کلب، امپیکٹ (IMPAKT) اور عیسیٰ لیبارٹری کے باہمی اور مشترکہ اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں نامور ماہرینِ صحت اور صحافی برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی تاکہ اس حساس طبی معاملے پر کھل کر بات کی جا سکے اور عوام میں پھیلے ہوئے مغالطوں اور خوف کو دور کیا جا سکے۔
سیشن کے دوران ماہرین نے اس بات پر بار بار زور دیا کہ بریسٹ کینسر کے خلاف جنگ میں سب سے طاقتور اور مؤثر ہتھیار صحیح معلومات اور آگاہی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں بیماری کی تشخیص ہونا ہی علاج کے بہترین نتائج کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ اگر علامات سامنے آنے کے فوراً بعد ڈاکٹر سے مشورہ لے لیا جائے تو بیماری کے مکمل علاج کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق خواتین کو اپنے جسم میں آنے والی چھوٹی سے چھوٹی اور غیر معمولی تبدیلیوں پر بھی گہری توجہ دینی چاہیے اور کسی بھی پریشان کن علامت کو معمولی سمجھ کر بالکل نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
اس اہم سیشن کی پہلی اہم مقرر ڈاکٹر عطروبہ اسماعیل تھیں، جنہوں نے بریسٹ کینسر کی ممکنہ اور نمایاں علامات کی تفصیل سے وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ چھاتی کی شکل یا سائز میں غیر معمولی تبدیلی، جلد پر چھوٹے چھوٹے گڑھے پڑ جانا، نپل کا اندر کی طرف دھنسنا، نپل سے خون یا کسی غیر معمولی رطوبت کا خارج ہونا اور بغل یا چھاتی میں کسی نئی گلٹی کا محسوس ہونا ایسی علامات ہیں جن پر فوراً توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اپنے اہم پیغام میں واضح کیا کہ ہر ابھرنے والی گلٹی لازمی طور پر کینسر نہیں ہوتی، کیونکہ بسا اوقات انفیکشن یا دیگر عام طبی مسائل بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں، لیکن اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے باقاعدہ طبی معائنہ نہایت ضروری ہے۔
ڈاکٹر عطروبہ اسماعیل نے خواتین کو خود معائنے کا طریقہ سمجھاتے ہوئے کہا کہ خود معائنہ ایک بنیادی اور ابتدائی قدم تو ہے، لیکن یہ کسی طور پر بھی ڈاکٹر کے معائنے یا میموگرام کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے تاکید کی کہ چالیس سال کی عمر کے بعد خواتین کو اسکریننگ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے اور اگر خاندان میں کینسر کی تاریخ موجود ہو تو معالج کو لازمی آگاہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ حقیقت بھی اجاگر کی کہ بریسٹ کینسر مردوں میں بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا انہیں بھی علامت نظر آنے پر غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ماؤں کو ہدایت کی کہ وہ تجارتی دعووں سے متاثر ہوئے بغیر بچوں کو اپنا دودھ پلانے کو ترجیح دیں کیونکہ یہ بچے کی صحت اور نشوونما کے لیے ناگزیر ہے۔
سیشن کی دوسری مہمان مقرر ڈاکٹر فرحانہ فیروز قذافی نے صحت مند طرزِ زندگی اور متوازن غذا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنی خوراک پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، جنک فوڈ اور اضافی چینی کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے اور پھلوں، سبزیوں کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنانا چاہیے تاکہ جسمانی وزن کنٹرول میں رہے۔ ڈاکٹر فرحانہ نے معاشرتی رویوں پر بات کرتے ہوئے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ خواتین اکثر شرم اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے اپنی بیماری چھپاتی ہیں جس سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے گھر اور خاندان کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کے بارے میں اپنے گھر والوں اور معالج سے کھل کر بات کریں کیونکہ ایک صحت مند عورت ہی ایک خوشحال خاندان کی ضامن ہوتی ہے۔
تقریب کے دوران کراچی پریس کلب کے سیکرٹری اسلم خان نے بھی اپنا پیغام دیتے ہوئے اس آگاہی سیشن کے انعقاد پر گہری مسرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں اور یہ بات انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ خواتین اب اس حساس طبی معاملے پر کھل کر بات کر رہی ہیں۔ ماضی میں جن موضوعات پر بات کرنا ایک ممنوعہ امر سمجھا جاتا تھا، اب وہ سماجی رکاوٹیں اور خاموشی آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں، جو کہ ایک باخبر اور بااختیار معاشرے کی علامت ہے۔ اسلم خان نے کراچی پریس کلب کی خواتین کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا اور اس سیشن کی اہم منتظمین یعنی IMPAKT کی بانی و شریک بانی رباب ابراہیم، مونا صدیقی اور کلثوم جہاں کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی صحافی برادری اور عوام کی فلاح کے لیے ایسے سیشنز کا انعقاد ہوتا رہے گا۔
تقریب کے اختتام پر کراچی پریس کلب کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سیکرٹری اسلم خان نے دونوں مہمان ماہر ڈاکٹروں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پریس کلب کی اعزازی شیلڈز اور سندھ کی ثقاقتی سوغات یعنی اجرک کے تحائف پیش کیے۔ تمام شرکا کا اختتامی پیغام یہی تھا کہ بیماری کے خلاف ڈرنے اور خاموش رہنے کے بجائے صحیح معلومات کا تبادلہ کرنا، باقاعدگی سے معائنہ کروانا اور بروقت طبی مشورہ لینا ہی ہماری خواتین اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو محفوظ اور خوشگوار بنا سکتا ہے۔